مراکش و افریقہ

ادریس ثانی

ادریس کے مرنے پر اس کے خادم راشد نے ظاہر کیا کہ ایک بربری لونڈی کنیزہ نامی کو ادریس سے حمل ہے۔ اور اب اسی بچہ کی جو رحم مادر میں ہے ہم کو بیعت کرنی چاہیے۔ چنانچہ بربریوں نے اس کی بیعت کی اور اس تمام علاقہ پر جو ادریس کی حکومت میں شامل ہو چکا تھا۔ قبضہ و انتظام قائم رکھا‘ ایام حمل کے گذرنے پر اس بربری لونڈی کے پیٹ سے لڑکا پیدا ہوا۔ راشد نے لوگوں کو حکم دیا۔ کہ اب اس لڑکے کے ہاتھ پر پھر بیعت کرو۔ چنانچہ سب نے بیعت اطاعت کی۔ راشد اس شیر خوار بچے کی طرف سے نیابتاً امور سلطنت انجام دیتا تھا۔ یہ راشد ہی کی عقل مندی اور دانائی تھی کہ اس نے اپنے آقا کے مرنے پر بھی حکومت کے نظام کو درہم برہم نہ ہونے دیا۔ اور بربریوں کے مزاج سے پوری واقفیت حاصل کر کے حکومت کو قائم رکھا۔ جب اس لڑکے کا دودھ چھڑایا گیا۔ تو پھر ایک مرتبہ اس کے ہاتھ پر بیعت ہوئی۔ جب ۱۸۸ھ میں یہ لڑکا گیارہ سال کا ہو کر بارھویں سال میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ پر جامع مسجد بولیلی میں پھر بیعت کی گئی۔ اسی سال ابن اغلب حاکم افریقیہ نے راشد کے خلاف بربریوں کو ابھارا اور انھوں نے راشد کو قتل کر ڈالا۔ مگر اس لڑکے کی اطاعت سے باہر نہ ہوئے۔ اس لڑکے کا نام بھی ادریس ہی رکھا گیا تھا۔ جو ادریس ثانی یا ادریس اصغر کے نام سے مشہور ہوا۔ راشد کے بعد ابوخالد بن یزید بن الیاس عبدی ادریس اصغر کا اتالیق و نگراں مقرر ہوا۔