اندلس میں عیسائیوں کی چیرہ دستی
ابراہیم بن تاشفین
اس کے بعد اس کا بیٹا ابو اسحٰق ابراہیم بن تاشفین بن علی بن یوسف بن تاشفین شہر مراکش میں تخت نشین ہوا۔ لیکن ۵۴۱ھ میں عبدالمومن نے مراکش کو فتح کیا۔ اور ابراہیم بن تاشفین کو گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ اس طرح سلطنت مرابطین کا خاتمہ ہوا۔ اندلس میں جب عبدالمومن کے چیرہ دست ہونے اور مرابطین کے مغلوب و مجبور ہونے کی خبریں پہنچیں تو عیسائیوں نے پھر بڑے زور شور کے ساتھ اسلامی مقبوضات پر حملے شروع کر دئیے۔ یحییٰ بن علی وائسرائے اندلس نے بڑی ہمت و استقلال کے ساتھ عیسائیوں کا مقابلہ کیا اور اسلامی شہروں کو ان کی دست برد سے بچایا۔ ۵۲۸ھ میں ابن ردمیر نے بعض شہروں کو فتح کیا۔ یحییٰ بن علی نے اس کے مقابلہ پر پہنچ کر ایک سخت لڑائی کے بعد ابن ردمیر کو قتل کیا۔ اور اس طرح سلطنت اسلامیہ کا رعب پھر عیسائیوں کے دلوں میں قائم کر دیا۔