اندلس میں عیسائیوں کی چیرہ دستی

ابو محمد تاشفین

اس کی جگہ اس کا بیٹا ابو محمد تاشفین تخت نشین ہوا ۵۱۶ھ میں علی بن یوسف آخری مرتبہ اندلس میں آیا تھا۔ اس کے بعد اس کو اندلس میں آنا نصیب نہ ہوا۔ بلکہ وہ محمد بن عبداللہ المعروف بہ مہدی موعود کے جھگڑوں نہیں مصروف رہا۔ یہ جدید دشمن جو ملک مراکش میں پیدا ہوا تھا اور جس کا مفصل حال آگے آتا ہے۔ دم بہ دم ترقی کرتا رہا۔ اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ علی کا بیٹا ابو محمد تاشفین بھی باپ کے بعد تخت نشین ہوتے ہی مراکش کے اندرونی ہنگامے میں اس طرح مصروف ہوا کہ اندلس کی طرف متوجہ نہ ہو سکا‘‘۔