دیگر متحارب سلاطین
جہور‘ ابوالولید‘ عبدالملک
جہور بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن معمر بن یحییٰ بن ابی المعافر بن ابی عبیدہ کلبی جس کی کنیت ابن حزم تھی‘ ۴۲۲ھ میں قرطبہ کے اندر باشندگان قرطبہ کے مشورہ سے حاکم بنایا گیا تھا‘ مگر اس نے ایک مجلس منتظمہ ترتیب دے کر اس کی صدارت قبول کی اور سب کے مشورے کو اپنی حکومت میں شامل رکھا‘ اس نے یہ بھی احتیاط کی کہ قصر شاہی کی جگہ اپنے مکان مسکونہ ہی پر کچہری کی اور اپنے آپ کو بادشاہ یا سلطان نہیں کہلایا وہ بڑا نیک دل اور پاک طینت شخص تھا‘ اس کی حکومت ہر طرح قابل تعریف تھی‘ مریضوں کی عیادت کو جاتا‘ اور عوام کی مجلسوں میں بے باکانہ شریک ہوتا تھا‘ محرم ۴۳۵ھ میں فوت ہو کر اپنے مکان میں مدفون ہوا۔