حکومت بنی حمود

یحییٰ بن علی بن حمود

قاسم یکم جمادی الاول ۴۱۰ھ کو قرطبہ سے فرار اور پورے ایک مہینے کے بعد یحییٰ بن علی قرطبہ میں بلا تعرض داخل ہو کر تخت نشین ہوا اور اپنا لقب ’’متعالی‘‘ رکھا۔ یحییٰ صرف شہر قرطبہ پر قابض ہو کر اپنے آپ کو اندلس کا فرماں روا سمجھنے لگا۔ حالانکہ قرطبہ سے باہر اس کی حکومت کو کوئی تسلیم نہ کرتا تھا اور جابجا صوبہ دار خود مختار فرماں روائی کر رہے تھے۔ یحییٰ کی غفلت اور حماقت کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں میں پھر سازشوں اور بغاوتوں کا سلسلہ جاری ہوا اور قرطبہ کی فوج کے بہت سے سردار قاسم کے پاس اشبیلیہ میں جا کر اس کو اس بات پر آمادہ کرنے لگے کہ قرطبہ پر حملہ کرو۔ اس قسم کی مخالف کارروائیوں سے مطلع ہو کر یحییٰ اس قدر خائف ہوا کہ قرطبہ سے بھاگ کر مالقہ چلا گیا۔