عبدالرحمن ثالث
مراکش کے حاکم کی بغاوت
۳۶۱ھ میں مراکش کے ادریسی حاکم نے جو خلیفہ قرطبہ کی طرف سے وہاں مامور تھا۔ بربریوں کی جمعیت کثیر فراہم کر کے سرکشی و خود مختاری کا اعلان کیا۔ خلیفہ نے سرقطہ کے حاکم یعلیٰ بن امیہ کو مراکش کی جانب روانہ کیا۔ اندلسی فوج کشی کا حال سن کر حاکم مراکش نے معزعبیدی سے اعانت طلب کی اور اس کی فرماں برداری و اطاعت کو قبول کر لیا۔ ادھر سے امیر جوہر فوج لے کر مراکش پہنچ گیا۔ معرکہ کار زار گرم ہوا۔ یعلی بن محمد اس معرکہ میں کام آیا اور یہ مہم ناکام رہی۔
اس خبر کو سن کر دربار قرطبہ میں فکر و ملال کے آثار نمایاں ہوئے۔ خلیفہ نے اپنے آزاد کردہ غلام امیر غالب کو مراکش روانہ کیا۔ غالب کے پہنچنے پر جوہر تو مصر کی طرف چل دیا اور حسن حاکم مراکش مقابلہ پر آمادہ ہوا کئی معرکوں کے بعد غالب نے حسن کو ایک قلعہ میں محصور کر کے اس بات پر مجبور کر لیا
مسلمان بھی۔ کسی کو غیرت نہ آئی کہ سجدہ تو صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کو کرنا ہے۔ اگر یہ روایت درست ہے تو پھر یہ کیسا بے روح خلیفہ تھا جو یہ سب کچھ ہوتا ہوا دیکھتا رہا۔
کہ وہ بلا شرط اپنے آپ کو غالب کے سپرد کر دے۔ چنانچہ غالب نے حاکم مراکش کو قرطبہ روانہ کیا۔ خلیفہ نے اس کے ساتھ عزت و محبت کا برتائو کیا۔ اور بطور مہمان قرطبہ میں مقیم کر کے روزینہ مقرر کر دیا۔ چند روز کے بعد اس کی خواہش کے موافق اسے اسکندریہ کی جانب بھیج دیا۔ غالب نے ایک سال مراکش میں قیام کر کے وہاں کے تمام انتظام کو مضبوط و مکمل کیا اور ۳۶۳ھ میں مراکش کے بہت سے قیدیوں کو ہمراہ لیے ہوئے قرطبہ واپس آیا۔ جہاں اس کا بڑا شاندار استقبال کیا گیا۔