عبدالرحمن ثالث
عیسائی بادشاہوں کی مرعوبیت
شانجہ کا چچا زاد بھائی اردونی جو فردی نند حاکم قسطلہ کا داماد بھی تھا ریاست لیون کا فرماں روا تھا۔ جب شانجہ کو خلیفہ عبدالرحمن ثالث کی فوجوں نے لیون کا حاکم بنا دیا تو اردونی اپنے خسر فردی نند کے پاس چلا گیا تھا اب اردونی نے جلیقیہ سے اپنے بیس ہمراہیوں کے ساتھ خلیفہ حکم کی خدمت میں حاضر ہونے اور فریاد کرنے کا قصد کیا۔ چنانچہ ۳۵۵ھ میں اردونی شاہ لیون شہر سالم میں مع اپنے ہمراہیوں کے پہنچا تو امیر غالب محافظ حدود شمالی نے اس کو روکا اور کہا کہ تم ممالک محروسہ اسلامیہ میں بلا اطلاع و اجازت کیسے داخل ہوئے۔ اردونی سابق بادشاہ لیون نے کہا کہ میں امیرالمومنین کا ایک ادنیٰ غلام ہوں۔ میں اپنے آقا کے پاس جاتا ہوں میں نے کسی اجازت اور اطلاع کی ضرورت نہیں محسوس کی۔ تاہم غالب نے اس کو وہیں شہر سالم میں روک کر دربار خلافت کو اطلاع دی۔ یہاں سے اردونی کے آنے کی اجازت مرحمت ہوئی اور ساتھ ہی اس کے استقبال کے لیے ایک سردار کو روانہ کر دیا گیا۔
جب اردونی شہر قرطبہ کے قریب گیا اور شہر میں داخل ہونے کے بعد وہ خلیفہ عبدالرحمن ثالث کی قبر کے سامنے پہنچا تو خود بخود فوراً گھوڑے سے اتر کر قریب پہنچا۔ اور دیر تک دعا کرتا رہا۔ اور قبر کو سجدہ کر کے آگے روانہ ہوا۔ خلیفہ حکم نے اردونی کو اجازت دی کہ وہ سفید لباس پہن کر جو بنو امیہ میں عزت کا لباس سمجھا جاتا تھا داخل دربار ہو۔ شہر طیطلہ کا اسقف عبداللہ بن قاسم اور قرطبہ کے عیسائیوں کا مجسٹریٹ ولید بن خیرون اس کے ہمراہ برائے ادب آموزی و رہبری موجود تھے۔ اردونی جب دربار میں حاضر ہوا تو خلیفہ کے سامنے پہنچنے سے پہلے ہی اس مکان کی عظمت و ہیبت سے مرعوب ہو کر اور ٹوپی اتار کر دیر تک ششدر کھڑا رہا۔ ہمراہیوں نے آگے بڑھنے کے لیے اشارہ کیا۔ جب تخت کے سامنے پہنچا تو بے اختیار سجدہ میں گر پڑا۔ پھر گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر کسی قدر آگے بڑھا اور پھر سجدہ میں گر پڑا۔ اسی طرح سجدے کرتا ہوا اس مقام تک پہنچا جو اس کے لیے مقرر کیا گیا تھا اور اس کرسی پر جو اس کے لیے بچھائی گئی تھی بیٹھا۔ اب اس نے ولید بن خیرون کے اشارہ پر کئی مرتبہ بولنے کی کوشش کی اس پر اس قدر رعب تھا۔ کہ کچھ نہ بول سکا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر خلیفہ حکم کچھ دیر خاموش رہا تاکہ اس کو اپنے حواس بجا کرنے کا موقعہ ملے۔ پھر اس کے بعد خلیفہ نے کہا کہ۔۔
’’اے اردون ہم تیرے یہاں آنے سے بہت خوش ہوئے۔ ہمارے الطاف خسروانہ سے تیری خواہشات پوری ہوں گی‘‘۔
اردونی نے خلیفہ کا یہ کلام سن کر فرط مسرت سے اٹھ کر تخت کے سامنے سجدہ کیا۔ اور نہایت عاجزی سے عرض کیا:
’’اسے میرے آقا میں حضور کا ادنیٰ غلام ہوں‘‘۔
خلیفہ نے فرمایا کہ :
’’ہم تجھ کو خیر خواہان دولت میں شمار کرتے ہیں اور تیری درخواستوں کو منظور کرتے ہیں۔ اگر کوئی خواہش ہو تو بیان کر‘‘۔
اردونی یہ سن کر پھر دیر تک تخت کے سامنے سجدہ میں پڑا رہا اور اس کے بعد نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کیا۔ کہ شانجہ میرا چچا زاد بھائی اس سے پہلے سابق خلیفہ کی خدمت میں اس طرح حاضر ہوا تھا کہ اس کا کوئی مدد گار نہ تھا۔ اور رعایا اس سے خوش نہ تھی۔ خلیفہ مرحوم نے اس کی التجا سنی اور اس کو بادشاہ بنا دیا۔ میں نے خلیفہ مرحوم کے حکم اور فیصلے کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی اور ملک چھوڑ دیا۔ حالانکہ رعایا مجھ سے خوش تھی‘ میں اس وقت اپنے دلی جوش اور عقیدت کے ساتھ حاضر ہوا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ خلیفہ وقت میرے استحقاق پر نظر کر کے میرا ملک مجھ کو مرحمت فرمائیں گے۔ خلیفہ نے یہ سن کر فرمایا کہ ہم تیرا مدعا سمجھ گئے ہیں۔ اگر شانجہ کے مقابلے میں تیرا استحقاق فائق ہے تو ضرور ملک تجھ کو ملے گا۔ یہ سن کر اردونی نے پھر سجدہ کیا۔۱؎ خلیفہ نے دربار برخاست کیا اور اردونی کو اس کی قیام گاہ
۱؎ایسا اس نے شاید خلیفہ اور دربار میں موجود مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور خلیفہ کی شرکیہ انداز میں تعظیم کرنے کے لیے کیا تھا۔ خود خلیفہ کی ذات پر بھی حرف آتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ دیکھتا رہا۔ اردونی کا قبر کو سجدہ کرتے ہوئے اور خود کو یعنی خلیفہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھتا رہا اور اس نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا۔ علماء بھی وہاں موجود ہوں گے اور دیگر
پر عزت و آرام کے ساتھ پہنچا دیا گیا۔
اردونی کو قصر سلطان کے ایک مغربی حصے کے بالا خانے پر ٹھہرایا گیا تھا۔ وہاں جاتے ہوئے راستے میں اردونی نے ایک تخت بچھا ہوا دیکھا۔ جس پر خلیفہ کبھی کبھی بیٹھ جایا کرتا تھا اس خالی تخت کو دیکھ کر اردونی نے اسی طرح سجدہ کیا کہ گویا خلیفہ اس پر بیٹھا ہے۔ اس کے بعد خلیفہ کے وزیر اعظم جعفر نے آ کر اردونی کو خلیفہ کی طرف سے ایک مکلف خلعت دیا۔ اس طرح چند روز مہمان رکھ کر اپنے چند سرداروں کے ساتھ روانہ کیا کہ اس کو آبائی ریاست میں تخت نشین کر آئیں۔ اس کے بعد شانجہ اور سمورہ و جلیقیہ کے رئیسوں نے بھی عرضیاں اظہار فرماں برداری کے لیے روانہ کیں۔ اور بیش بہا تحفے بطور نذرانہ روانہ کیے۔ برشلونہ و طرکونہ کے حاکموں نے بھی قیمتی نذرانے اور خراج روانہ کر کے اظہار عقیدت کیا۔
اس کے بعد فرانس‘ اٹلی اور یورپ کے دوسرے عیسائی سلاطین نے جس طرح خلیفہ عبدالرحمن ثالث کی خدمت میں اپنے سفیر اور تحائف بھیجے تھے اور خلیفہ الحکم کا رعب بھی اپنے باپ کی طرح قائم ہو گیا۔ مغربی جلیقیہ کے عیسائی فرماں روانے جو ان دنوں بہت طاقتور تھا اور جسکا نام لزریق تھا اپنی ماں کو خلیفہ حکم کی خدمت میں روانہ کیا۔ خلیفہ نے مادر لزریق کو عزت کے ساتھ دربار میں بار یاب کیا۔ اور اس کی خواہش کے موافق اس کے بیٹے کے لیے سند امارت و حکومت لکھ دی۔