پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا
پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا
اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو ثابت پیدا کیا ہے جو زمین کے لیے کیلوں (میخوں ) کاکام دیتے ہیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ یہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں گے۔ ایسایا تو حقیقت میں ہوگا، کہ پہاڑ زمین میں دھنس جائیں گے،یا پھر کسی بجلی وغیرہ کے گرنے کی وجہ سے ختم ہوجائیں گے۔ یاپھر لوگوں کے فعل کی وجہ سے ہوگا کہ کثرت سے تعمیر و ترقی ہوگی۔ عمارتیں بنیں گی اور لوگ پھاڑوں کوکاٹ کر برابر کردیں گے۔ جیسا کہ آج کل روئے زمین کے بہت سارے شہروں میں ہورہاہے۔
یاپھر یہ پہاڑ منہدم ہوجائیں گے، کثرت کے ساتھ پہاڑی چٹانیں وغیرہ گریں گی، جیسا کہ اس طرح کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں ۔
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائیں اورتم ایسے بڑے امور دیکھو گے جو اس سے پہلے تم نے نہ دیکھیں ہوں گے۔‘‘ (طبرانی، الصحیحۃ للألبانی:۳۰۶۱)