مدینہ کا برے لوگوں کو نکال دینا
مدینہ کا برے لوگوں کو نکال دینا
یہ نشانی اپنے سے ماقبل کی نشانیوں جیسے مدینہ کی تخریب اور اس کا رہنے والوں سے خالی ہوجانا وغیرہ کی تکمیل ہے۔ مدینہ آباد ہوااور اس کی آبادی خوب بڑھی۔ خصوصاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد سال گزرتے گئے، اورمدینہ کے رہنے والوں میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ اور یہاں پر آبادی مسلسل بڑھتی رہی۔
قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگ یہاں پر رہائش اختیار کرنے سے بے رغبتی برتیں گے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی اپنے چچازاد بھائیوں اور رشتہ داروں کو بلا کر کہیں گے کہ جس جگہ آسانی اور سہولت ہو اس جگہ کوچ کر چلو۔ اور مدینہ ان کے لیے بہتر ہے کاش ! وہ لوگ جان لیں ۔ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے! اللہ وہاں سے کسی کو نہیں نکالے گا سوائے اس کے کہ جو وہاں سے اعراض کرے گا۔ تو اللہ اس کی جگہ وہاں اسے آباد فرمائیں گے کہ جو اس سے بہتر ہوگا۔ آگاہ رہو کہ مدینہ ایک بھٹی طرح ہے جو خبیث چیز یعنی میل کچیل کو باہر نکال دیتا ہے۔ اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مدینہ اپنے میں سے برے لوگوں کو باہر نکال پھینکے گا جس طرح کہ لو ہار کی بھٹی لوہے کے میل کچیل کو باہر نکال دیتی ہے ۔‘‘ (مسلم)
جناب عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ جب مدینہ طیبہ سے نکلے تو اپنے غلام مزاحم کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا:
’’اے مزاحم ! کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ محسوس ہورہا ہے کہ ہم انہی لوگوں میں سے ہوں جنہیں مدینہ طیبہ نے نکال باہر کیا ہے؟‘‘
اس سے یہ مراد ہر گز نہیں ہوسکتا کہ جو انسان مدینہ طیبہ میں رہائش اختیار کرے، پھر یہ شہر چھوڑ کر کہیں دوسری جگہ چلا جائے، تواسے برے اور گندے لوگوں میں سے ایک شمار کیا جائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو کہ بہترین لوگ تھے، وہ بھی مدینہ چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہوئے ہیں ، یہ سب جہاد اور دعوت کی وجہ سے ہوا تھا۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ تم لوگ مدینہ کو اچھے حال میں چھوڑو گے۔ پھر وہاں وحشی جانور یعنی درندے اور چرندے ہی چھاجائیں گے ۔‘‘ (متفق علیہ)
اس کا معنی یہ ہے کہ لوگ ایسے وقت میں مدینہ چھوڑ کر چلے جائیں گے جب وہاں پر رہائش کے مکمل امکانات موجود ہوں گے۔ یہاں کے پھل اچھے ہوں گے۔ زندگی بہت اچھی گزر رہی ہوگی لیکن ایسا فتنہ اور سختی پیش آئے گی کہ لوگ مدینہ طیبہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔آہستہ آہستہ نقل مکانی ہوتے ہوتے ایسا وقت آجائے گا کہ مدینہ میں کوئی ایک بھی باقی نہیں رہے گا، بلکہ مسجدیں اور گھر خالی پڑے ہوں گے۔ جہاں پر درندے اور حیوانات پھریں گیاور پیشاب کریں گے ؛ مگر ان کومنع کرنے (بھگانے) والا کوئی نہ ہوگا۔