دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہونا

دریائے فرات سے سونے کا پہاڑ ظاہر ہونا

دریائے فرات مشہور ہے۔ جس میں بہت زیادہ پانی ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ دریائے فرات کا پانی روک دیاجائے گا اور اس کے بہاؤ کو تبدیل کردیاجائے گا۔ جس کی وجہ سے لوگوں کے لیے سونے کاایک پہاڑ ظاہر ہوگا۔ جسے حاصل کرنے کے لیے لوگ آپس میں لڑیں گے۔ اس لڑائی میں لوگوں کی بڑی تعداد قتل ہوجائے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبردار کیا ہے کہ جو کوئی اس جنگ میں موجود ہو، اس پہاڑ سے کچھ بھی نہ لے؛ ایسا فتنے کے ڈر کی وجہ سے فرمایاہے، یا پھر مقاتلین کی کثرت کی وجہ سے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دریائے فرات سے سونے کا پہاڑے نکل آئے جس پر لوگوں کا قتل وقتال ہوگا اور ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کیے جائیں گے اور ان میں سے ہر آدمی کہے گا شاید میں ہی وہ ہوں جسے نجات حاصل ہوگی اور یہ خزانہ میرے قبضہ میں رہ جائے گا ۔‘‘ (مسلم) ایک روایت میں ہے:’’ پس جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے۔‘‘ (متفق علیہ) سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ہمیشہ لوگوں کی گردنیں دنیا کے طلب کرنے میں ایک دوسرے سے اختلاف کرتی رہیں گی۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ’’ عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک پہاڑ بر آمد ہوگا جب لوگ اس کے بارے میں سنیں گے تو اس کی طرف روانہ ہوں گے۔ پس جو لوگ اس کے پاس ہوں گے وہ کہیں گے اگر ہم نے لوگوں کو چھوڑ دیا تو وہ اس سے سارے کا سارا لے جائیں گے، پھر وہ اس پر قتل و قتال کریں گے، پس ہر سو میں سے ننانوے آدمی قتل کیے جائیں گے ۔‘‘ (مسلم) یہ سونے کا ایک حقیقی پہاڑ ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہی پہاڑ اس دریا کے بہاؤ کو تبدیل کرنے کا سبب بن جائے۔یہ ایک خزانہ ہوگا۔یا سونے کے اس پہاڑ کو مٹی نے ڈھانک رکھا ہے۔ اس لیے وہ غیر معروف ہے۔ جب دریا کا بہاؤ کسی بھی سبب سے تبدیل کردیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس پہاڑ کو بھی ظاہر کردیں گے۔ جو لوگ اس وقت وہاں پر موجود ہوں انہیں چاہیے کہ اس میں سے کچھ بھی نہ لیں ۔ یہ ممانعت فتنہ میں مبتلا ہونے کے ڈر سے ہے۔ یہ فتنہ ابھی تک ظاہر نہیں ہوا۔ اور اللہ ہی جانتا ہے کہ اس کا ظہور کب ہوگا۔ آج کل شام اور ترکی اس دریا پر ڈیم تعمیر کررہے ہیں ۔ اور اس کے آس پاس فیکٹریاں لگائی جارہی ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس دریا کے پانی میں کمی آگئی ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے یہی امور اس پہاڑ کے ظاہر ہونے سے پہلے کی نشانیاں ہوں ۔