درختوں کا گفتگو کرنا

درختوں کا گفتگو کرنا

۹۳۔درختوں کا گفتگو کرنا ۹۴۔پتھر کا مسلمانوں کی مدد کے لیے گفتگو کرنا ۹۵۔مسلمانوں کا یہودیوں کو قتل کرنا یہ قتال آخری زمانے میں ہوگا، جس میں مسلمان نصرت پائیں گے، سو اس وقت درخت اور پتھر بھی بول پڑیں گے وہ کہیں گے : اے مسلم ! اے عبد اللہ ! یہ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے، آ اسے قتل کردے۔ اس وقت شجر و حجر مسلمانوں کے ساتھ مہربان اورنرم دل ہوں گے۔ یہ ان کی تائید اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت ہوگی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایک زمانہ میں تم یہودیوں سے جنگ کرو گیاور تم یہودیوں پر غلبہ پاؤ گے؛( اور جب کوئی یہودی کسی پتھر کی آڑ میں چھپے گا )تو وہ پتھر کہے گا، کہ اے مسلم ! یہ دیکھو یہ ایک یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ دوڑو اسے قتل کردو ۔‘‘ (متفق علیہ) شجر و حجر کا کلام کرنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ سوائے غرقد کے درخت کے، جوکہ یہودیوں کا درخت ہے۔ وہ کلام نہیں کرے گا۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ کریں اور مسلمان انہیں قتل کردیں یہاں تک کہ یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، آاور اسے قتل کردے، سوائے درخت غرقد کے کیوں کہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۔‘‘ (مسلم) اورایک روایت میں ہے کہ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم یہودیوں سے جنگ کرو گے،یہاں تک کہ وہ پتھرجس کے پیچھے یہودی ہوگا؛ کہے گا، کہ اے مسلم ! یہ دیکھو یہ ایک یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔ دوڑو اسے قتل کردو۔‘‘ (بخاری) شجر و حجر کا یہ کلام کرنا حقیقی ہوگا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ جمادات اورنباتات کو قوت گویائی دینے پر قادر ہے۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔ نہیک بن صریم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم ضرور بالضرور مشرکین سے قتال کرو گے؛ یہاں تک کہ تمہارے باقی لوگ نہر اردن کے کنارے پر دجال سے جنگ کریں گے، تم مشرقی کنارے پر ہوں گے او روہ وہ مغربی کنارے پر ہوں گے ۔‘‘(طبرانی) نہیک بن اصرم کہتے ہیں : ’’میں نہیں جانتا کہ اس دن اردن کہاں ہوگا؟ ‘‘ اس سے مقصود وہ سمندر ہے جو مقبوضہ فلسطین اور اردن کو جدا کرتا ہے۔