زلزلوں کی کثرت

زلزلوں کی کثرت

قیامت سے پہلے زلزلوں کی کثرت سے مراد ان کا عام ہوجانا اور ہمیشہ کے لیے آنا ہے۔ یہ زلزلے یا تو امت کے لیے رحمت اوران کے گناہوں کا کفارہ ہیں ، جیسا کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میری امت امت مرحومہ ہے، ان پر آخرت میں کوئی عذاب نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ نے ان کا عذاب دنیا میں قتل، زلزلوں اور فتنوں میں رکھ دیا ہے ۔‘‘ (مسند احمد، حاکم) یا پھر ان زلزلوں کی کثرت لوگوں کے لیے سزا ہے۔ یعنی جب گناہ بڑھ جائیں گے تو اس وقت یہ زلزلے زمانے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عقاب اورعذاب ہوں گے۔ سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ علم اٹھالیا جائے او رزلزلوں کی کثرت ہو۔‘‘ (بخاری) سیّدنا عبد اللہ بن حوالہ الازدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے ابن حوالہ! جب تو خلافت کو ارض مقدس (شام) میں اترتا دیکھے گا تو سمجھ لے کہ زلزلے مصائب اور حوادث قریب آ گئے اور اس دن قیامت لوگوں سے اس قدر قریب ہوگی جس قدر تیرے سر سے میرا ہاتھ ہے۔‘‘ (ابو داؤد)