لوگوں میں بیگانگی کا پھیل جانا
لوگوں میں بیگانگی کا پھیل جانا
آزمائشوں اور امتحانات کی کثرت کے دور میں لوگوں کے تعلقات آپس میں کم ہو جائیں گے۔ یہاں تک کہ معاملہ قطع رحمی اور دلوں کے پھر جانے تک پہنچ جائے گا۔ لوگوں کے مابین تعارف اور پہچان صرف اپنی ذاتی مصلحتوں کی وجہ سے ہو گی۔ سیّدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
’’اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے ؛اس کے وقت پر اس کو سو ائے اللہ کے کوئی ظاہر نہ کرے گا ؛ لیکن میں تمہیں اس کی نشانیوں کے متعلق بتاؤں گا، او رجو کچھ اس سے پہلے ہوگا، بے شک اس سے پہلے فتنہ اور ہرج ہوگا۔ صحابہ کہنے لگے : یارسول اللہ ! فتنہ کو ہم نے پہچان لیا، ہرج کیا چیز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہرج حبشہ کی زبان میں قتل کو کہتے ہیں ؛ اور لوگوں میں بیگانگی ڈال دی جائے گی، لوگ آپس میں ایک دوسرے کو نہیں پہچانیں گے ۔‘‘ (مسند احمد)
یہ حدیث بھی آج کل کے لوگوں کے واقعات عین مطابق ہے، حالت یہ ہوگئی ہے کہ بہت سارے لوگ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی نہیں پہچانتے۔ یہاں تک کہ بسا اوقات بعض بچے راہ میں ایسے بھی ملتے ہیں جن کے متعلق یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ قریبی رحم کے رشتہ دارہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگوں کے مابین تعلقات صرف ذاتی مصلحتوں پر مبنی ہیں ۔اور ایسے ہی انتہائی کمزور تعلقات جن کی بنیاد دنیاوی مفاد پر ہے، بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں ۔جو کہ بہت ہی جلدی قائم ہوتے ہیں اور بہت جلد ہی ختم ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے کہ یہ تعلقات لوگوں کی مصلحتوں میں رغبت پر قائم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان اور بھائی چارے کی بنیاد پر قائم نہیں ہوئے۔ بلکہ انسان دیکھتا ہے کہ اس کی دنیاوی مصلحت کس چیز میں ہے، اگر وہ مصلحت بر آنے کے قابل ہو تو اس کی بنیاد پر تعلقات کی بنیاد رکھی جاتی ہے جو کہ بہت ہی جلد ٹوٹ جانے والی ہوتی ہے۔