گھروں میں نقش و نگار اور زیب وزینت
گھروں میں نقش و نگار اور زیب وزینت
بہت زیادہ آسودگی، فضول خرچی، فخر و مباہات اور تکبر ایسے امور ہیں جن کی مذمت قرآن کریم میں وارد ہوئی ہے:
’’اور حد سے مت گزرو یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔‘‘ (انعام: ۱۴۱)
آخری زمانے میں لوگ اپنے گھروں کی دیواروں پر نقش و نگار اور چتر کاری والے خوبصورت اور قیمتی پردے لگانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں گے۔ سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ لوگ ایسے گھر تعمیر کرنے لگیں جنہیں کپڑوں کی طرح خوبصورت بنائیں گے۔‘‘ (الادب المفرد، سلسلۃ الصحیحۃ: ۲۷۹)
اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ دیواروں پر مطلق طور پر پردہ لگانا یا گھروں کی زیبائش کرنا حرام ہے۔ بلکہ حرام اس معاملہ میں فضول خرچی کرنا ؛ اور مال کو بے جالگانا ؛ اور اس پر تکبر اورفخر کرنا ہے۔