مساجد میں نقش و نگار اور ان کی بناوٹ پر فخرکرنا

مساجد میں نقش و نگار اور ان کی بناوٹ پر فخرکرنا

مساجد کا اصل کردار اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ یہ گھر اسی لیے اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کی امید پر تعمیر کیے جاتے ہیں ۔ لیکن آخری زمانے میں بہت سارے لوگ مساجد تعمیر کریں گے اور ان میں نقش و نگار کریں گے۔اور ہر مسجد بنانے والا اپنی مسجد کی سجاوٹ اور نقش و نگار پر فخر کرے گا۔ بسا اوقات اس چیز کا اظہار کرنے کے لیے نشرو اشاعت کے ذرائع کو بھی کام میں لایاجائے گا۔ ( اس نقش و نگار کی وجہ سے ) لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کی عبادت سے ہٹ کر مسجد کے نقش و نگار میں گم ہوجائیں گے۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر نہ کریں گے۔‘‘ بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے مساجد کی زینت اور نقش و نگاری سے ڈرایاہے؛ کیونکہ ایسا کرنے سے دل عبادت، ذکر اور اطاعت سے مشغول ہوجاتا ہے۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’تم مسجدوں کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہودونصاریٰ نے اپنے اپنے عبادت خانوں کو آراستہ کیا ہے۔‘‘ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’… ’’ تشیید ‘‘(زیب و زینت ) کا معنی ہے اونچی اور لمبی عمارت تعمیر کرنا۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے جب اپنی کتابوں میں تحریف کی تھی اور انہیں بدل ڈالا تھا تو انہوں نے اپنے عبادت خانوں کو ایسے تعمیر کیا تھا۔ ‘‘ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’بے شک یہود و نصاریٰ نے اپنے گرجا گھروں اور عبادت خانوں کو اس وقت مزّین و منقش کیا تھا جب انہوں نے اپنی کتابوں کو بدل ڈالا ؛ اور ان میں تحریف کردی، اس طرح انہوں نے دین کو ضائع کردیا اور نقش و نگاری اور زیب و زینت میں کھو گئے۔‘‘ (عمدۃ القاری :۷/۴۱) ٭ آج کل مساجد کو منقش کرنے کی کئی صورتیں ہیں : ٭ ان کی دیواروں پر مختلف قسم کے رنگ کیے جاتے ہیں ۔ ٭ مختلف قسم کی تصاویر لگائی جاتی ہیں ۔ ٭ رنگارنگ کارپٹ ( جائے نماز ) بچھائے جاتے ہیں ۔ ٭ نقش و نگاری کی جاتی ہے اور ایسے فانوس لگائے جاتے ہیں جو انتہائی مزّین اور بیش قیمت ہوتے ہیں ۔ معاملہ اس حد تک پہنچا ہوا ہے کہ اگر ان مساجد میں نقش و نگار اور اضافی چیزوں کے اخراجات کا اگر حساب لگایا جائے تو اس پیسے سے کئی مساجد تعمیر ہوسکتی ہیں ۔ (یہاں نقش و نگاری کی) ممانعت سے مراد یہ نہیں ہے کہ مساجد کو ایسے ہی چھوڑ دیا جائے، اور ان میں کوئی اچھے قسم کی قالین (جائے نماز وغیرہ) نہ بچھائی جائے، یا انہیں پرانے طرز پر کمزور صورت میں تعمیر کیا جائے۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ مساجد کی تزئین و آرائش و زیبائش میں مبالغہ سے کام نہ لیا جائے۔ سیّدناابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : ’’ جب تم اپنی مساجد کو چونا گچ بنانے لگواور اپنے مصاحف کو زیور سے آراستہ کرنے لگو، تو تم پر ہلاکت ہے۔ ‘‘ (صحیح الجامع :۵۸۵)