کسی شخص کے شر سے بچنے کے لیے اس کی عزت کرنا

کسی شخص کے شر سے بچنے کے لیے اس کی عزت کرنا

یہ اس وقت ہوگا جب شریر لوگ خود ساختہ طور پر بڑے بن جائیں گے، یا پھر ان کا غلبہ ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ لوگ کسی انسان کو اپنی مجلسوں میں بلانے اور اس کی عزت کرنے کے لیے مجبور ہوجائیں گے۔ اوربیشتر اوقات ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی تکلیف اور شر سے بچنے کے لیے اس کے سر پر بوسہ بھی لیا جائے ؛ اس لیے کہ اس کی بغاوت اور ظلم حد سے بڑھا ہوا ہوگا، ( اور لوگ اس سے ڈر رہے ہوں گے) ان تمام نشانیوں کے بارے میں وہ حدیث بطور دلیل پیش کی جاسکتی ہے جسے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کیا روایت ہے۔ جناب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب مال غنیمت کو ذاتی دولت سمجھا جائے گا امانت مال غنیمت بن جائے گی زکوٰۃ کوٹیکس سمجھا جانے لگے گا علم کا حصول غیردین کے لیے ہوگا انسان اپنی بیوی کا مطیع اور ماں کا نافرمان ہو جائے گا دوست کے ساتھ وفا اور باپ کے ساتھ بے وفائی کرے گا مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں گی قبیلے کی سرداری فاسقوں کے ہاتھوں میں آجائے گی ذلیل شخص قوم کا رہبر بن جائے گا اور کسی شخص کو اس کے شر سے ڈرتے ہوئے قابل تعظیم سمجھا جائے گا، گانے والی لڑکیاں اور گانے بجانے کا سامان رواج پکڑ جائیں گے، شراب پی جائے گی اور امت کے آخری لوگ گزرے ہوؤں پر لعن طعن کریں گے تو پھر وہ لوگ سرخ آندھی زلزے خسف چہرے کے بدلنے اور آسمان سے پتھر برسنے کے عذابوں کا انتظار کریں اس وقت نشانیاں اس طرح ظاہر ہوں گی جیسے کسی پرانی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جائے اور پے درپے گرنے لگیں ۔‘‘[1]