اخلاقِ سیئہ

خود پسندی اور غرور

مومن خود پسندی اور غرور سے اجتناب کرتا ہے اور کبھی بھی ایسی صفات سے متصف نہیں ہوتا کیونکہ یہ صفتیں اس کے کمال حاصل کرنے میں رکاوٹ ہوں گی اور نتیجتاً ہلاکت اور بربادی کے سوا اسے کچھ حاصل نہ ہوگا۔کتنی ہی نعمتیں خود پسندی اور غرور کے نتیجے میں عذاب بن جاتی ہیں اور کتنی عزتیں ذلت میں تبدیل ہو جاتی ہیں اور طاقت کمزوری کا روپ دھار لیتی ہے،لہٰذایہ خوفناک بیماری ہے اور انسان کے لیے وبال جان۔اسی لیے مسلمان ان دونوں صفات سے خود بھی بچتا ہے اور دوسروں کو بھی ان سے ڈراتا رہتا ہے۔بنابریں کتاب وسنت میں ان کی حرمت، ان سے نفرت اور ان سے واضح طور پر ڈرایا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللّٰهِ وَغَرَّكُم بِاللّٰهِ الْغَرُورُ﴾ ’’اور آرزوؤں نے تمھیں دھوکا دیا حتیٰ کہ اللہ کا حکم آگیا اور بڑا فریبی(شیطان)اللہ کے بارے میں تمھیں فریب دیتا رہا۔‘‘[1] اور ارشاد عالی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ﴾ ’’اے انسان!تجھے تیرے رب کریم کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘[2] اور فرمان الٰہی ہے:﴿وَيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئًا﴾ ’’اور جنگ حنین کا دن یاد کرو جب تمھیں تمھاری کثرت پر ناز تھا،سو اس نے تمھیں کوئی فائدہ نہ دیا۔‘‘[3] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((ثَلَاثٌ مُّھْلِکَاتٌ:شُحٌّ مُّطَاعٌ،وَھَوًی مُّتَّبَعٌ،وَإِعْجَابُ الْمَرْئِ بِنَفْسِہِ مِنَ الْخُیَلَائِ)) ’’تین چیزیں تباہ کن ہیں،کنجوسی کی اطاعت،خواہش کی پیروی اور انسان کا اپنے آپ کو تکبر کی و جہ سے بہت کچھ سمجھنا۔‘‘[4] نیز فرمایا:’حَتّٰی إِذَا رَأَیْتَ شُحًّا مُّطَاعًا وَّھَوًی مُتَّبَعًا وَّدُنْیَا مُؤْثَرَۃً وَّإِعْجَابَ کُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْیِہِ فَعَلَیْکَ،یَعْنِي بِنَفْسِکَ‘ ’’جب تو دیکھے کہ کنجوسی کی اطاعت کی جارہی ہے،خواہش کی پیروی ہو رہی ہے،دنیا کو ترجیح دی جارہی ہے اور صاحب رائے اپنی رائے کو ہی پسندیدہ قرار دے رہا ہے تو اپنے نفس کو بچانے کی کوشش کرنا۔‘‘[5] یہ بھی فرمایا:((اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ،وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ھَوَاھَا،وَتَمَنّٰی عَلَی اللّٰہِ الْأَمَانِيَّ)) ’’سمجھدار وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو پاتا اور آخرت کے لیے کام کرتا ہے اور احمق وہ ہے جو اپنی خواہش پر چلتا ہے اور اللہ سے(غلط)تمنائیں قائم رکھتا ہے۔‘‘[6] خود پسندی کی چند مثالیں: ابلیس لعین کو اپنا حال پسند آیا،اس نے اپنے نفس اور اپنی اصل پر غرور کیا اور کہا: ﴿خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ﴾’’تونے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس(آدم)کو مٹی سے۔‘‘[1] اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور قدسیوں کے پڑوس سے بھگا دیا۔ ٭ قوم عاد اپنی قوت وسلطنت پر مغرور ہو کر کہنے لگی:ہم سے زیادہ طاقت والا کون ہے؟ تو اللہ نے انھیں دنیا وآخرت میں رسوا کن عذاب میں مبتلا کر دیا۔[2] حضرت سلیمان علیہ السلام عدم توجہ کی بنا پر کہہ بیٹھے:((لَأَطُوفَنَّ اللَّیْلَۃَ بِمِائَۃِ امْرَأَۃٍ تَلِدُ کُلُّ امْرَأَۃٍ غُلَامًا یُّقَاتِلُ فِي سَبِیلِ اللّٰہِ)) ’’میں آج رات ایک سو عورتوں(بیویوں)کے پاس جاؤں گا،ہر عورت بیٹا جنے گی،جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا(اور ’’ان شاء اللہ‘‘نہ کہا)۔‘‘ [3] چنانچہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انھیں(اس متوقع)اولاد سے محروم کر دیا۔ ٭ جنگ حنین میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اپنی افرادی کثرت پر مغرور ہوئے اور کہنے لگے:ہم آج قلت کی بنیاد پر مغلوب نہ ہوں گے۔اس کے نتیجہ میں دوران جنگ بدترین شکست سے دوچار ہوئے اور وسعت کے باوجود ان پر زمین تنگ ہوگئی اور میدا ن چھوڑ کر پیچھے ہٹ گئے۔(پھر جب اللہ نے چاہا تو پانسہ پلٹ گیا اور انھیں شاندار فتح نصیب ہوئی۔) غرور کے مظاہر: ٭ علم میں۔انسان کثرت علم پر مغرور ہو جائے تو مزید علم حاصل کرنے سے پہلوتہی کرنے لگ جاتا ہے اور اساتذہ سے استفادہ نہیں کرتا بلکہ علم والوں کو حقارت سے دیکھتا ہے اور انھیں اپنے سے کم تر گردانتا ہے اور یہی بات اس کی تباہی کے لیے کافی ہے۔ ٭ مال میں۔کثرت اموال کی وجہ سے انسان خود پسندی کا شکار ہو جائے تو فضول خرچی اور اسراف میں مبتلا ہو جاتا ہے اور مخلوق پر اپنی برتری کا اظہار کرتا ہے اور حق کو حقیر جانتا ہے جوکہ اس کے لیے تباہ کن ہے۔ ٭ قوت میں۔اپنی طاقت اور حکمرانی کا نشہ ہو جائے تو ظلم وستم کرتا ہے،جوا کھیلتا ہے اور دھوکا دیتا ہے اور اسی میں اس کی ہلاکت وبربادی ہے۔ ٭ شرف وعزت میں۔بعض انسان اپنی نسبی شرافت اور خاندانی وجاہت کے فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر کردار کی بلندی سے محروم ہو کر کمالات و سعادت حاصل نہیں کر پاتے،اس لیے کہ عمل میں سستی آجائے تو نسب اسے درست نہیں کر سکتا۔نتیجتاً حقارت،گھٹیا پن اور ذلت ورسوائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ ٭ عبادت میں۔اپنے عمل اور کثرت عبادات کی بابت خود پسندی میں مبتلا انسان ذہن میں رب تعالیٰ پر احسان جتلاتا ہے کہ وہ عامل ہے،اس طرح اس کے عمل ضائع قرار دیے جاتے ہیں۔اس کی عملی خود پسندی،اس کے لیے بدبختی اور ہلاکت کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ غرور کا علاج: کثرت سے اللہ کا ذکر کرے۔بایں صورت کہ انسان یقین کرے کہ یہ علم،مال،طاقت اور نسبی شرف صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عطا ہے،وہ اسے چھین بھی سکتا ہے اور بندہ اپنے مالک کی کتنی ہی عبادت کیوں نہ کر لے،وہ اس کی بعض نعمتوں کا عوض بھی نہیں بن سکتی اور اللہ ہی بزرگی اور فضیلت کا اصل مصدر ومنبع ہے اور وہی ہر طرح کی اچھائی دینے والا ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لَنْ یُّنَجِّيَ أَحَدًا مِّنْکُمْ عَمَلُہُ،قَالُوا:وَلَا أَنْتَ یَارَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ یَّتَغَمَّدَنِيَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ)) ’’تم میں سے کسی کو اس کے عمل ہرگز نجات نہیں دلا سکیں گے۔لوگوں نے کہا:اے اللہ کے رسول!آپ کو بھی نہیں۔فرمایا:’’مجھے بھی نہیں،اِلاَّ یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔‘‘[1]