اخلاقِ سیئہ

ریا کاری

ریا کاری،یعنی دکھاوا،نفاق اور شرک ہے اور مسلمان موحد ومومن ہونے کی وجہ سے کوئی کام دکھاوے کے طور پر نہیں کرتا،اس لیے کہ ایمان و توحید،ریا اور نفاق کے منافی ہیں۔اس مذموم صفت کی برائی اور نفرت کی وجہ اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس صفت کو ناپسند کرتے ہیں اور اس پر ناراض ہوتے ہیں۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ریا کرنے والوں کو عذاب وسزا کی وعید سنائی ہے۔ارشاد ہے: ﴿فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ﴿٤﴾الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ﴿٥﴾الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ﴿٦﴾وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾ ’’ایسے نمازیوں کے لیے خرابی ہے جو اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں،جو ریا کرتے ہیں اور برتنے کی عام چیز کا(عاریتًا دینے سے)انکار کر دیتے ہیں۔‘‘[3] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ جل شانہ کا یہ فرمان عالی شان بیان کیا ہے:((أَنَا أَغْنَی الشُّرَکَائِ عَنِ الشِّرْکِ،مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَکَ فِیہِ مَعِيَ غَیْرِي تَرَکْتُہُ وَشِرْکَہُ)) ’’میں شرک سے سب سے زیادہ بے نیاز ہوں جس نے ایسا عمل کیا کہ اس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا تو میں ایسے شخص کو اوراس کے شرک کو چھوڑتا ہوں۔‘‘[4] اور فرمایا:((مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللّٰہُ بِہِ،وَمَنْ رَّائٰ ی رَائَ ی اللّٰہُ بِہِ))’’جو لوگوں کو دکھلاوے کے لیے عمل کرے،اللہ تعالیٰ اسے دکھلادے گا اور جو شہرت کے لیے کام کرے اللہ تعالیٰ اسے مشہور کر دے گا۔‘‘[1] نیز فرمان نبوی ہے:((إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمُ الشِّرْکُ الْأَصْغَرُ،قَالُوا:وَمَا الشِّرْکُ الْأَصْغَرُ یَارَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ:اَلرِّیَائُ،یَقُولُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِذَا جُزِيَ النَّاسُ بِأَعْمَالِھِمْ:اِذْھَبُوا إِلَی الَّذِینَ کُنْتُمْ تُرَائُ ونَ فِي الدُّنْیَا فَانْظُرُوا ھَلْ تَجِدُونَ عِنْدَھُمْ جَزَائً؟)) ’’سب سے زیادہ خطرناک چیز جس کا میں تم پر خطرہ محسوس کرتا ہوں،چھوٹا شرک ہے۔‘‘لوگوں نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’وہ دکھاوا ہے۔اللہ عزوجل قیامت کے دن جب بندوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو فرمائیں گے:جن کو دکھلانے کے لیے تم نے عمل کیے تھے،ان کے پاس جاؤ،پھر دیکھو کیا وہاں تمھیں کوئی صلہ ملتا ہے۔‘‘[2] اور اصل میں ریا یہ ہے کہ بندہ اللہ عزوجل کی اطاعت اس غرض سے کرے کہ وہ لوگوں کے ہاں سرخرو ہو اور ان کے دلوں میں اس کی قدر ومنزلت ہو۔ ریا کے مظاہر: ٭ عمل کرنے والے کی تعریف ہو جائے تو وہ فرماں برداری کا عمل بڑھاتا چلا جائے اور اگرتعریف نہیں ہوئی یا تنقیص ہو گئی یا کسی نے اس عمل کی مذمت کر دی تو اسے چھوڑ دے یا کم کر دے۔ ٭ لوگوں کی معیت میں عمل کرے تو خوش وخرم اور اگر اکیلا ہو تو کاہل وسست ہوجائے۔ ٭ لوگوں کو دیکھا کر خیرات کرے اگر لوگ دیکھنے والے نہ ہوں تو وہ خیرات نہ کرے۔ ٭ حق اور نیکی کی جو بات بھی کہتا ہے یا اطاعت وفرماں برداری کا کوئی کام کرتا ہے تو اس میں اسے محض اللہ کی رضا مطلوب ومقصود نہیں ہے بلکہ اس میں انسانوں کی رضا اور خوشی کوشامل رکھتا ہے یا فقط انسانوں کی رضا کے لیے کام کرتا ہے۔اللہ کی رضا سرے سے اس کے ذہن میں آتی ہی نہیں۔