حسنِ خلق
اللہ تعالیٰ پر بھروسا اور خود اعتمادی
مسلمان اپنے تمام کاموں میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسا اور توکل کرتا ہے۔وہ اسے صرف اخلاقی فرض ہی نہیں سمجھتا بلکہ ایک دینی فرض اور اسلامی عقیدہ شمار کرتا ہے۔اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حکم ہے:
﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾’’اور اللہ ہی پر بھروسا کرو اگر تم ایمان والے ہو۔‘‘[4]
نیز فرمایا:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾’’اور ایمان والوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔‘‘[5]
یہی وجہ ہے کہ مطلق طور پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر توکل کرنا مومن کے عقیدے کا لازمی جزو ہے۔ایماندار اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہوئے خود کو پوری طرح سے اس کے سپرد کر دیتے ہیں۔
اسلام سے ناواقف اور عقائد اسلام کے مخالفین نے توکل کا جو خود ساختہ تصور قائم کیا ہوا ہے،مومن کے نقطۂ نظر سے وہ غلط ہے،یعنی توکل زبان سے اللہ کا نام لینا ہے،چاہے دل تدبر سے خالی ہو۔ہونٹ اس کے ذکر سے حرکت میں رہیں،چاہے عقل وفہم اس کی حقیقت سے عاری ہو یا پھر اسباب کو قابل توجہ نہ سمجھنا،کام نہ کرنا،ذلت وگھٹیا پن اور کمینگی پر قناعت کرنا ہی توکل کے شعار وعلامات ہیں بلکہ یہ سب کچھ اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا ہے۔یہ تصور بالکل غلط ہے اس کے برعکس مسلمان کے ذہن میں توکل کا وہ مفہوم ہے جو اس کے ایمان اور عقیدے کا جزو ہے،یعنی کسی بھی کام کے لیے جتنے بھی جائز اسباب ہیں سب کو استعمال کرنے کے باوجود اس کام کی تکمیل اور اس کا صدور محض اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔مومن اسباب کے بغیر کسی ثمر کے حاصل ہونے کی طمع نہیں کرتا،اسی طرح جن چیزوں کا پہلے صادر ہونا ضروری ہے،ان کے بغیر کسی نتیجہ کی برآمدگی کا وہ قائل نہیں ہوتا۔ہاں،وہ ان اسباب ومقدمات کے ثمرات و مقاصد کے حصول کو اللہ کے سپرد کر دیتا ہے،اس لیے کہ وہی ہر کام کو نتیجہ خیز بنانے پر قادر ہے،اس کے سوا کسی کو اس کی قدرت نہیں ہے۔
گویا توکل مسلمان کے نزدیک رضا ورغبت سے اطمینان کے ساتھ کام کرنے اور پھر اس کے مثبت نتیجے کی امید رکھنے کا نام ہے جبکہ عقیدہ بھی یہ ہو کہ جو اللہ چاہے گا،وہی ہو گا اور جو نہیں چاہے گا،وہ نہیں ہو گا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کسی اچھے کام کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا۔مسلمان کو تو کائنات میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی سنت کا یقین ہے،اسی لیے وہ اعمال کے لیے اسباب مطلوبہ کو ضروری سمجھتا ہے اور انھیں مہیا کرنے اور مکمل کرنے میں پوری طاقت صرف کرتا ہے لیکن یہ ہر گز نہیں سمجھتا کہ اغراض ومقاصد کے حصول میں صرف اسباب ہی کافی ہیں۔انھیں وہ اس سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا کہ ان اسباب کو اختیار کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے،لہٰذا دیگر اوامر ونواہی کی طرح اس کی تعمیل بھی ضروری ہے۔باقی رہا مطلوبہ نتائج اور پسندیدہ اغراض کا حاصل ہونا تو یہ اللہ کے سپرد ہے۔وہی اس پر قادر ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں اور اس پوری کائنات میں وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور جو نہیں چاہتا،نہیں ہوتا۔ایسے کتنے ہی کارکن اور محنت کش ہیں جو اپنی محنت کا پھل نہ پاسکے اور کتنے ہی کاشت کار ہیں جو کاشت ومحنت کے باوجود غلہ حاصل نہ کر سکے۔بس اسباب پر مسلمان کی نظر صرف اتنی ہی ہے،اس لیے کہ ان پر کلی اعتماد اور ہر معاملہ میں انھی کا اعتبار کرنا کفر وشرک ہے جس سے احتراز ضروری ہے،البتہ کسی بھی کام کے مطلوبہ اسباب کو درخور اعتنا نہ سمجھنا اور باوجود قدرت کے انھیں حاصل کرنے کی سعی نہ کرنا اور امید رکھنا کہ یہ کام ہو جائے گا،یہ اللہ کی نافرمانی ہے جس سے توبہ واستغفار کرنا چاہیے۔
اسباب کے بارے میں مسلمان کا یہ نظریہ اسلامی روح اور نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ساتھ کئی طویل لڑائیاں لڑی ہیں۔آپ جنگ سے پہلے پوری تیاری کرتے تھے،سامانِ جنگ مہیا ہوتا،معرکے کے لیے میدان کا چناؤ ہوتا اور وقت کا انتخاب کیا جاتا۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت یہ بھی مروی ہے کہ آپ گرمی کے وقت حملہ نہیں کرتے تھے۔فضا ٹھنڈی اور خوشگوار ہو جاتی،جنگ کی پوری پالیسی طے کر لی جاتی اور صفوں کو منظم کر دیا جاتا تو اجازت مرحمت فرماتے اور پھر معرکہ کی کامیابی کے لیے مطلوبہ مادی اسباب مہیا کر لینے کے بعد ہاتھ اٹھا کر اللہ کی جناب میں عرض فرماتے:
’اَللّٰھُمَّ!مُنْزِلَ الْکِتَابِ وَمُجْرِيَ السَّحَابِ وَھَازِمَ الْأَحْزَابِ اھْزِمْھُمْ وَانْصُرْنَا عَلَیْھِمْ‘ ’’اے اللہ!کتاب نازل کرنے والے،بادلوں کو حرکت دینے والے اور دشمن افواج کو شکست دینے والے،انھیں شکست سے دوچار کر اور ہمیں ان پر فتح عطا فرما۔‘‘[1]
گویا آپ کی عادت مبارکہ اور سیرت طیبہ یہ تھی کہ مادی اور روحانی دونوں قسم کے اسباب سے کام لیا جائے اور پھر فتح وکامرانی کو حقیقی مالک،رب تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔
ایک اور مثال ملاحظہ فرمایئے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت سے پہلے اکثر ساتھیوں کو مکہ سے روانہ کر دیا تھا،ان کے بعد اللہ کی طرف سے آپ کو ہجرت کرنے کی اجازت مرحمت ہوئی۔بوقت ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر درج ذیل ترجیحات تھیں:
1: اپنے ساتھیوں میں سے بہترین ساتھی(ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ)اس ہجرت کے سفر میں آپ کے ساتھ رہے۔
2: کھانے پینے کی چیزیں تیار کرائیں اور اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے نطاق(کمر بند)کے دو ٹکڑے کر کے ایک سے انھیں باندھا جس کی وجہ سے ان کا لقب’’ذات النطاقین‘‘پڑا۔
3: اس طویل اور پر مشقت سفر کے لیے بہترین اور عمدہ سواری کا انتظام کیا۔
4: ایک ماہر،جغرافیہ دان جو راستے کی نزاکتوں اور باریکیوں کو خوب جانتا تھا،کی خدمات حاصل کیں تاکہ وہ اس سفر میں راستے کی صحیح رہنمائی کر سکے۔[2]
5: ہجرت کی رات آپ کا مکان دشمن کے محاصرے میں تھا،آپ نے کمال دانشمندی سے اپنے بستر پر اپنے عزیز بھائی علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سلا دیا تاکہ دشمنوں کو باور کرایا جائے اور چال چلی جائے کہ آپ گھر میں ہی ہیں۔جو دروازوں کے شگافوں سے صورت حال پر تھوڑے تھوڑے وقفہ سے نظر رکھ رہے تھے۔[3]
6: دشمن کو حقیقت حال کا پتہ چلا تو آپ کا پیچھا کرتے ہوئے دوڑ پڑا لیکن آپ جناب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی معیت میں غار ثور میں پناہ گزین ہو گئے تاکہ کینہ ور،حاسد اور بے رحم دشمن کی نظروں سے چھپ جائیں۔[4]
7: ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب فرمایا:’’اگر دشمن اپنے قدموں کی طرف نظر کر لے تو وہ ہمیں تاڑ لے گا ‘‘تو اس پر توکل کے اعلیٰ منصب پر فائز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَا ظَنُّکَ یَا أَبَا بَکْرٍ!بِاثْنَیْنِ،اَللّٰہُ ثَالِثُھُمَا)) ’’اے ابوبکر!ان دو ہستیوں کے بارے میں تمھاراکیا خیال ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔‘‘[1]
اس واقعہ میں ایمان و توکل کے اعلیٰ حقائق نمایاں ہیں،غور فرمائیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسباب کا انکار نہیں کیا اور نہ ان پر کلی اعتماد کیا اور واقعی مومن کے لیے آخری سبب وسہارا یہی ہوتا ہے کہ اللہ کے آگے گر جائے اور پورے اطمینان و وثوق کے ساتھ معاملہ اس کے سپرد کر دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے بچنے کے لیے جملہ اسباب مہیا کیے تھے حتیٰ کہ اس تاریک غار میں چھپے جس میں خوفناک سانپوں اور بچھوؤں کا بسیرا تھامگر جب آپ کے ساتھی کو خوف اور غم نے گھیرا تو ایمان کے کس اعتماد ووثوق اور توکل کے کس اعلیٰ یقین کی بنیاد پر آپ نے فرمایا:’لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا مَا ظَنُّکَ یَا أَبَا بَکْرٍ!بِاثْنَیْنِ،اللّٰہُ ثَالِثُھُمَا‘
’’غم نہ کر،اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ابوبکر(رضی اللہ عنہ!)تمھارا کیا گمان ہے ان دو کے متعلق جن کے ساتھ تیسرا اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے؟‘‘[2]
درحقیقت مسلمان کا نظریۂ اسباب،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ اور آپ کی تعلیم سے مستفاد ہے،یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ مسلمان اس بارے میں محض مقتدِی اور فرماں بردار ہے۔
اسی طرح خود اعتمادی کا وہ مفہوم بھی جو گناہوں میں آلودہ،حواس باختہ اور بیوقوف لوگوں نے گھڑ رکھا ہے،ایک مسلمان کے شایان شان نہیں ہے،جن کے ہاں اللہ تعالیٰ سے تعلق توڑ لینا ہی خود اعتمادی کہلاتا ہے ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ بندہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے اور اپنے کسب ونفع کا حصول وہ خود کرتا ہے،اللہ کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ان کے اوہام سے پاک ہے۔
مسلمان کا توکسب وعمل پر اعتماد اس یقین کے ساتھ ہوتا ہے کہ وہ صرف اللہ کا محتاج ہے،کسی اور کا نہیں اور اس احتیاج کا اظہار بھی اسی کے آگے کرتا ہے۔اگر وہ کام خود کرتا ہے تو اس کا بھروسا اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ہوتا ہے۔اگر درمیان میں کوئی رکاوٹ آجائے تو اس کے سوا کسی سے مدد نہیں مانگتا،اس لیے کہ اس کا دل غیر اللہ کے تعلق سے بری ہوچکا ہے اور غیر اللہ سے ایسا تعلق اسے پسند نہیں ہے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم،سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم کا طرز عمل اور صدیقین رحمۃ اللہ علیہم کا پسندیدہ طریقہ بھی یہی تھا،ان میں سے اگر کسی کے ہاتھ سے چابک گر جاتا تو گھوڑے سے اتر کر خود اسے اٹھاتا،کسی کو نہ کہتا کہ مجھے یہ اٹھا دو۔[3]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت میں مسلمانوں سے اقامت نماز،ادائیگیٔ زکاۃ اور اس بات کا وعدہ لیا کرتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے حاجات کا سوال نہیں کریں گے۔[1]
توکل اور اعتماد میں اس عقیدے کے مطابق زندگی بسر کرنے والا مومن اپنے عقیدہ ونظریہ کی آبیاری آیات مبارکہ اور احادیث مطہرہ سے کرتا رہتا ہے۔
﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ﴾’’اور اس زندہ پر بھروسا کر جو کبھی نہیں مرے گا۔‘‘[2]
نیز ارشاد ربانی ہے:﴿وَقَالُوا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾’’اور انھوں نے کہا:ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کام بنانے والا ہے۔‘‘[3]
نیز ارشاد ہے:﴿إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ﴾’’بے شک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔‘‘[4]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَوْ أَنَّکُمْ تَوَکَّلْتُمْ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ،تَغْدُو خِمَاصًا وَّتَرُوحُ بِطَانًا‘
’’اگر تم اللہ پر ایسے بھروسا کرو جس طرح اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے تو تمھیں بھی ایسے روزی دے گا جس طرح پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو سیر ہو کر لوٹتے ہیں۔‘‘[5]
اور گھر سے باہر نکلتے وقت آپ فرمایا کرتے تھے:((بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ،وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ))
’’اللہ کے نام سے(نکلتا ہوں)میں اللہ پر توکل کرتا ہوں اور بدی سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اللہ ہی(کی طرف)سے حاصل ہوسکتی ہے۔‘‘[6]
اور ان ستر ہزار لوگوں کے بارے میں،جو بغیر حساب وعذاب کے بہشت میں داخل ہوں گے،فرمایا:
((ھُمُ الَّذِینَ لَا یَسْتَرْقُونَ وَلاَ یَتَطَیَّرُونَ وَلَا یَکْتَوُونَ وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُونَ))
’’یہ وہ لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے،بد شگونی نہیں کرتے،داغ نہیں لگواتے اور صرف اپنے پالنے والے اللہ ہی پر بھروسا کرتے ہیں۔‘‘[7]