حسنِ خلق
صبر وتحمل
ان عادات و صفات میں،جن سے ایک مسلمان اخلاق حسنہ میں کمال اور زینت حاصل کرتا ہے،اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صبر کرنا اور تکالیف وایذائیں برداشت کرنا بھی ہے۔ناپسند اور تکلیف دہ صورت حال پر اپنے آپ کو حوصلہ دینا،برداشت کرنا اور تسلیم و رضا کی صفت سے متصف ہونا صبر ہے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عبادت واطاعت میں اگر انسانی نفس کچھ تکلیف محسوس کرتا ہے تو اس تکلیف کو خوشی خوشی قبول کرتے ہوئے اس عبادت و اطاعت پرہمیشہ کار بند رہنا مومن کا شیوہ ہے جبکہ اللہ کی نافرمانی میں طبعی طور پر کتنی ہی کشش کیوں نہ ہو،وہ اپنے نفس کو اس سے روکتا ہے۔اسی طرح مصیبت کے نازل ہونے کی صورت میں جزع فزع اور ناراضی کا اظہار نہیں کرتا۔دانا کہتے ہیں کہ فوت شدہ چیز پر غم و غصہ کا اظہار آفت ہے اور متوقع امر پر ایسا کرنا کم عقلی ہے،جبکہ تقدیر الٰہی پر راضی نہ ہونے کا مطلب اللہ واحد و قہار کے ساتھ ناراضی کا اظہار ہے۔
چنانچہ ان حالات میں مومن اللہ کی مدد کا طلبگار ہوتا ہے اور فرماں برداری پر اور فرماں برداروں کے لیے اس کے اجر عظیم کو یاد کرتا ہے اور نافرمانوں اور اللہ کے ناپسندیدہ لوگوں کے لیے اس کی وعید اور شدید عذاب کو ذہن میں لاتا ہے اور پھر سوچتا ہے کہ اللہ کے فیصلے جاری ہیں،انھیں کوئی نہیں روک سکتا اور اللہ کا فیصلہ عدل وانصاف کا فیصلہ ہے،بندہ صبر کرے یا نہ کرے۔ہاں،صبر کی صورت میں اجر ملے گا اور بے صبری میں گناہ اور عذاب ہو گا،لہٰذا کیوں نہ میں صبر سے کام لوں ؟
صبر وبرداشت ان عادات واخلاق میں سے ہیں جو انسان ریاضت اور محنت سے حاصل کر سکتا ہے،مسلمان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ دوران تکلیف اجر وثواب کا وعدہ یاد کرکے اللہ سے صبر کی توفیق مانگے۔
ارشاد حق تعالیٰ ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾’’اے ایمان والو!صبر کرو،ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرو اور(دشمن کے سامنے)جمے رہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔‘‘[1]
مزید فرمایا:﴿وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ﴾’’صبر اور نماز کے ذریعے سے مدد حاصل کرو۔‘‘[2]
نیز فرمایا:﴿وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلَّا بِاللّٰهِ﴾’’اور صبر کر اور اللہ کی توفیق سے ہی تجھے صبر مل سکتا ہے۔‘‘[3]
ارشاد ربانی ہے:﴿وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا أَصَابَكَ ۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾’’اور تجھے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کر،یقینا یہ پختہ کردار میں سے ہے۔‘‘[4]
فرمان الٰہی ہے:
﴿وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴿١٥٥﴾الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴿١٥٦﴾أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴾
’’اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سناؤ،جب انھیں مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں:﴿إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾
’’ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ‘‘۔یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے مہربانیاں اور رحمت(اترتی)ہے اور یہی لوگ سیدھے راستے پر چلنے والے ہیں۔‘‘[1]
حق تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَلَنَجْزِيَنَّ الَّذِينَ صَبَرُوا أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
’’اور یقینا ہم(آخرت میں)صبر کرنے والوں کو ان کے اعمال کا نہایت اچھا بدلہ دیں گے۔‘‘[2]
ارشاد باری ہے:﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ﴾
’’اور ہم نے ان(بنی اسرائیل)میں سے چونکہ ان لوگوں نے صبر کیا تھا،ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے(لوگوں کی)رہنمائی کرتے تھے اور ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔‘‘[3]
ارشاد الٰہی ہے:﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾’’صبر کرنے والوں کو ان کا ثواب بغیر حساب کے پورا دے دیا جائے گا۔‘‘[4]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَلصَّبْرُ ضِیَائٌ‘ ’’صبر ایک روشنی ہے۔‘‘[5]
اور فرمایا:’مَنْ یَّسْتَعْفِفْ یُعِفَّہُ اللّٰہُ،وَمَنْ یَّسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللّٰہُ،وَمَنْ یَّتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللّٰہُ،وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَائً خَیْرًا وَّأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ‘
’’جو(سوال سے)بچنے کی کوشش کرتا ہے،اللہ اسے بچاتا ہے اور جو(دوسروں کی دولت سے)بے نیازی اختیار کرتا ہے،اللہ اسے بے نیاز کرتا ہے اور جو صبر کی کوشش کرے،اللہ اسے صبر عطا کرتا ہے اور صبر سے بہتر اور وسیع کسی کو کوئی چیز نہیں ملی۔‘‘[6]
ارشاد نبوی ہے:’عَجَبًا لِّأَمْرِ الْمُؤمِنِ،إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ لَہُ خَیْرٌ،وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ،إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّائُ شَکَرَ،فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ،وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّائُ صَبَرَ،فَکَانَ خَیْرًا لَّہُ‘
’’مومن کی یہ بات کتنی عجیب ہے کہ اس کے سارے معاملات اس کے حق میں بہتر ہوتے ہیں۔اگر اسے خوشی پہنچے تو وہ شکر ادا کرتا ہے جو اس کے لیے خیر(وبرکت)کا باعث ہے اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے،یہ بھی اس کے لیے بہتری اور اچھائی ہے۔‘‘[7]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دختر کے فرزند کی جانکنی کا وقت تھا،بی بی نے نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا تو آپ نے ارشاد فرمایا:’’میری بیٹی کو سلام کہو اور میرا پیغام دو:
’إِنَّ لِلّٰہِ مَا أَخَذَ وَلَہُ مَا أَعْطٰی،وَکُلُّ شَيْئٍ عِنْدَہُ بِأَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ‘
’’اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا ہے اور جو اس نے دیا ہے،وہ بھی اسی کا ہے۔ہر چیز کا اس کے ہاں ایک وقت مقرر ہے۔اسے چاہیے کہ وہ صبر کرے اور اللہ کے ہاں ثواب کی نیت کرے۔‘‘[1]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی قَالَ:إِذَا ابْتَلَیْتُ عَبْدِي بِحَبِیبَتَیْہِ فَصَبَرَ عَوَّضْتُہُ مِنْھُمَا الْجَنَّۃَ‘
’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں جب اپنے بندے کو اس کی دو پیاری اور محبوب چیزوں(آنکھوں)کی تکلیف میں مبتلا کروں اور وہ صبر کرے تو اس کے عوض میں اسے بہشت عطا کرتا ہوں۔‘‘[2]
آپ نے فرمایا:’مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہِ خَیْرًا یُّصِبْ مِنْہُ‘ ’’اللہ جس سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے،اسے بیماری کی مصیبت میں ڈال دیتا ہے۔‘‘[3]
نیز فرمایا:’إِنَّ عِظَمَ الْجَزَائِ مَعَ عِظَمِ الْبَلَائِ،وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاھُمْ،فَمَنْ رَّضِيَ فَلَہُ الرِّضَا،وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السَّخَطُ‘
’’جتنی بڑی مصیبت ہو اتنا بڑا اجر وثواب ہے۔اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انھیں آزماتا ہے،چنانچہ جو راضی ہوتا ہے،اس کے لیے(اللہ کی)رضا ہے اور جو ناراض ہوتا ہے اس کے لیے(اللہ کی)ناراضی ہے۔‘‘[4] مزید فرمایا:’مَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَۃِ فِي نَفْسِہِ وَوَلَدِہِ وَمَا لِہِ حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ وَمَا عَلَیْہِ خَطِیئَۃٌ‘
’’مومن مرد اور عورت کو برابر،اس کے نفس،اولاد اور مال میں آزمایا جاتا ہے حتیٰ کہ جب وہ اللہ سے ملتے ہیں تو ان کے ذمے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔‘‘[5]
ایذا برداشت کرنا تکلیف دہ صبر ہے لیکن صدیقین وصالحین رحمۃ اللہ علیہم کا طرز عمل اور شعار یہی رہا ہے،اللہ کی ذات کی وجہ سے جب ایک مسلمان کو تکلیف پہنچتی ہے اور اسے ستایا جاتا ہے تو وہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتا ہے،برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتا اور نہ اپنی ذات کے لیے انتقام لیتا ہے،اس معاملہ میں اپنی شخصیت کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا بلکہ سب کچھ اللہ کے دین اور اس کی رضا جوئی کے لیے کرتا ہے۔اللہ کے انبیاء و رسل علیہم السلام اس کے لیے بہترین نمونہ ہیں۔ان میں کم ہی ہیں جنھیں اللہ کی ذات اور اس کے دین میں ابتلا اور آزمائشوں سے نہ گزرنا پڑا ہو۔عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کا حال بیان کر رہے تھے جسے اس کی قوم نے خون آلود کر دیا اور وہ اپنے چہرے سے خون بھی صاف کر رہا تھا اور کہے جارہا تھا:’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُونَ‘ ’’اے اللہ!میری قوم کی مغفرت فرما کیونکہ یہ جانتے نہیں ہیں۔‘‘[1]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ایذائیں برداشت کیں،ان میں ایک یہ بھی تھی جس کی جھلک ابھی بیان ہوئی ہے۔مزید برداشت کے ایک اور انداز کا تذکرہ یوں ہے:آپ نے ایک دن مال تقسیم کیا تو ایک اعرابی(بدو)کہنے لگا،اس تقسیم میں انصاف اور اللہ کی رضا کو ملحوظ نہیں رکھا گیا۔یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تو چہرہ سرخ ہو گیا اور فرمایا:((یَرْحَمُ اللّٰہُ مُوسٰی قَدْ أُوذِيَ بِأَکْثَرَ مِنْ ھٰذَا فَصَبَرَ))
’’اللہ موسیٰ(علیہ السلام)پر رحم کرے،انھیں اس سے بھی زیادہ ایذائیں دی گئیں مگر انھوں نے صبر کیا۔‘‘[2]
خباب بن ارت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کعبہ کے سائے تلے چادر کا سرہانا لگا کر لیٹے ہوئے تھے،ہم نے آپ کے پاس شکایت کی اور کہا:کیا آپ ہمارا بدلہ نہیں لیں گے،کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:
((قَدْ کَانَ مِنْ قَبْلِکُمْ یُؤخَذُ الرَّجُلُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِي الْأَرْضِ فَیُجْعَلُ فِیھَا فَیُجَائُ بِالْمِنْشَارِ فَیُوضَعُ عَلٰی رَأْسِہٖ فَیُجْعَلُ نِصْفَیْنِ،وَیُمْشَطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیدِ مِنْ دُونِ لَحْمِہٖ وَعَظْمِہٖ فَمَا یَصُدُّہٗ ذٰلِکَ عَنْ دِینِہٖ))
’’تم سے پہلے لوگوں میں ایسے لوگ بھی تھے جنھیں گرفتار کر کے زمین میں گاڑ دیا جاتا اور پھر آرے سے ان کے جسموں کو سر سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا جاتا اور لوہے کی کنگھیاں ان کے گوشت اور ہڈیوں کے درمیان کھینچی جاتیں۔یہ بات بھی انھیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے دین سے نہیں روکتی تھی۔‘‘[3]
قرآن پاک میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انبیاء ورسل علیہم السلام کے تحمل وبرداشت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللّٰهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَىٰ مَا آذَيْتُمُونَا ۚ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ﴾
’’اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ پر بھروسا نہ کریں،حالانکہ اس نے ہمیں راستے دکھائے ہیں!اور تم ہمیں جو بھی ایذا دو گے ہم صبر کریں گے اور چاہیے کہ توکل کرنے والے اللہ ہی پر بھروسا کریں۔‘‘[1]
بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کہا کرتے تھے:’’ایذا پر صبر نہ کرنے والے کو ہم ایمان والا نہیں سمجھتے تھے۔‘‘[2]
صبر وتحمل کی ان زندہ اور منہ بولتی مثالوں کی روشنی میں ایک مسلمان زندگی بسر کرتا ہے،وہ شکایت وناراضی کا اظہار نہیں کرتا،برائی کا دفاع برائی سے نہیں کرتا،البتہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے اور عفو و درگزر اور صبر و تحمل کی صفات سے متصف ہوتا ہے۔ارشاد باری ہے:﴿وَلَمَن صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ﴾
’’جو صبر کرتا ہے اور معاف کرتا ہے(تو)یقینا یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔‘‘[3]