لباس کے آداب
لباس کے آداب
مسلمان کا اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لباس پہننے کا حکم دیا ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
﴿يَا بَنِي آدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ﴾’’اے اولادِ آدم!ہر مسجد(نماز)کے پاس اپنی زینت اپناؤ(لباس پہنو)اور کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو کہ اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ [3]
اور لباس کو احسان جتلاتے ہوئے یہ فرمایا:﴿يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ﴾
’’اے اولادِ آدم!ہم نے تم پر لباس نازل کیاتا کہ تمھارا ستر ڈھانکے اور(تمھارے بدنوں کے لیے باعثِ)زینت بھی ہو اور تقویٰ کا لباس بہتر ہے۔‘‘[4]
نیز ارشادِ عالی ہے:﴿وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الْحَرَّ وَسَرَابِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ﴾’’اور(اللہ نے)تمھارے لیے قمیصیں بنائیں جو تمھیں گرمی سے محفوظ رکھتی ہیں اور ایسی قمیصیں(بھی بنائیں)جو تمھیں تمھاری جنگ(کے ضرر)سے محفوظ رکھتی ہیں۔‘‘ [5]
فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَعَلَّمْنَاهُ صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَّكُمْ لِتُحْصِنَكُم مِّن بَأْسِكُمْ ۖ فَهَلْ أَنتُمْ شَاكِرُونَ﴾
’’اور ہم نے اسے تمھارے لیے لباس بنانے کا طریقہ سکھایا تاکہ تمھیں جنگ میں(دشمن کے وار سے)بچائے،پھر کیا تم شکر ادا کرتے ہو؟‘‘ [6]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی لباس پہننے کا حکم دیا ہے۔ارشادِ نبوی ہے:
((کُلُوا وَاشْرَبُوا وَالْبَسُوا وَتَصَدَّقُوا فِي غَیْرِ إِسْرَافٍ وَّلَا مَخِیلَۃٍ))
’’کھاؤ،پیو،پہنو اور خیرات کرولیکن اسراف اور بڑائی کے بغیر۔‘‘ [1]
اسی طرح آپ نے جائز وناجائز اور مستحسن ومکروہ لباس کی پوری وضاحت فرما دی ہے۔بنا بریں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ درج ذیل آداب کا التزام کرے۔
1: مرد ریشمی لباس کا استعمال کسی طرح بھی نہ کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’لَا تَلْبَسُوا الْحَرِیرَ،فَإِنَّہُ مَنْ لَّبِسَہُ فِي الدُّنْیَا لَمْ یَلْبَسْہُ فِي الْآخِرَۃِ‘ ’’ریشم نہ پہنو،جو اسے دنیا میں پہنتا ہے،وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا۔‘‘ [2]
ایک دن آپ نے ریشم اپنے دائیں ہاتھ میں اور سونا بائیں ہاتھ میں لیا اوریوں فرمایا:
’إِنَّ ھٰذَیْنِ حَرَامٌ عَلٰی ذُکُورِ أُمَّتِي‘ ’’یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔‘‘ [3]
نیز یہ بھی فرمایا:’حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِیرِ وَالذَّھَبِ عَلٰی ذُکُورِ أُمَّتِي وَأُحِلَّ لإِِنَاثِھِمْ‘
’’ریشمی لباس اور سونا میری امت کے مردوں کے لیے حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہے۔‘‘ [4]
2: شلوار،قمیص،کوٹ اور چادر وغیرہ اتنے لمبے نہیں ہونے چاہئیں کہ ٹخنوں سے نیچے تجاوز کر جائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((مَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الإِْزَارِ فَفِي النَّارِ))’’تہبند کا جتنا حصہ ٹخنوں سے نیچے ہوگا جہنم میں(لے جانے کا باعث)ہو گا۔‘‘[5]
نیز فرمایا:((اَلإِْسْبَالُ فِي الإِْزَارِ وَالْقَمِیصِ وَالْعِمَامَۃِ،مَنْ جَرَّمِنْھَا شَیْئًا خُیَلَائَ لَمْ یَنْظُرِ اللّٰہُ إِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ))
’’تہبند،قمیص،اور پگڑی میں ’’اسبال‘‘(نیچے گھسٹنے کا احتمال)ہے۔جو انھیں تکبر کے طور پر گھسیٹے گا،اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی طرف(نظرِ رحمت سے)نہیں دیکھیں گے۔‘‘[6]
مزید فرمایا:((لَا یَنْظُرُ اللّٰہُ إِلٰی مَنْ جَرَّ ثَوْبَہُ خُیَلَائَ))’’جو تکبر کے طور پر اپنا کپڑا گھسیٹتا ہے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کی طرف نہیں دیکھے گا۔‘‘ [7]
3: لباس کسی بھی رنگ کا ہو جائز ہے مگر بہتر یہ ہے کہ سفید لباس کو ترجیح دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اِلْبَسُوا الْبَیَاضَ،فَإِنَّھَا أَطْھَرُ وَأَطْیَبُ،وَکَفِّنُوا فِیھَا مَوْتَاکُمْ‘
’’سفید لباس پہنو!یہ انتہائی پاک اور خوشگوار ہوتا ہے اور اسی میں اپنے مرُدوں کو کفناؤ۔‘‘ [1]
نیز براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد تھے،میں نے آپ کو سرخ لباس کے جوڑے میں دیکھا ہے،(اور)میں نے اس سے پہلے ویسا حسین کہیں نہیں دیکھا۔[2]
اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے سبز رنگ کا لباس بھی زیب تن کیاہے۔[3]
اور کالے رنگ کی پگڑی استعمال کی ہے۔[4]
4: مسلمان عورت پر لازم ہے کہ اتنا لمبا لباس استعمال کرے جو قدموں کو ڈھانپ لے اور اوڑھنی ایسی ہو کہ سر،گردن اور سینہ کو چھپا دے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا حکم ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ﴾’’اے نبی!اپنی بیویوں،بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں کو کہیں کہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکائیں۔‘‘[5]
نیز فرمایا:﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ﴾
’’اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالیں اور اپنی زینت کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں لیکن اپنے خاوندوں کے سامنے یا اپنے آباء کے سامنے:۔‘‘ [6]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’’اللہ تعالیٰ انصار کی عورتوں پر رحم فرمائے،جب آیت﴿وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ﴾(النور31:24)نازل ہوئی تو انھوں نے اپنی موٹی چادریں پھاڑ کر ان سے اپنے آپ کو ڈھانپ لیا۔[7]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جب آپ پر﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ ...﴾نازل ہوئی تو انصار کی عورتیں موٹی چادریں سروں پر لپیٹ کر نکلیں،ایسا لگتا تھا گویا سروں پر کوے بیٹھے ہیں۔[8]
5: مرد سونے کی انگوٹھی نہ پہنے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سونے اورریشم کے متعلق فرمان ہے:
’إِنَّ ھٰذَیْنِ حَرَامٌ عَلٰی ذُکُورِ أُمَّتِي‘ ’’بلاشبہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔‘‘ [1]
نیز فرمایا:’حُرِّمَ لِبَاسُ الْحَرِیرِ وَالذَّھَبِ عَلٰی ذُکُورِ أُمَّتِي وَأُحِلَّ لإِِنَاثِھِمْ‘
’’ریشمی لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام اور عورتوں کے لیے حلال ہیں۔‘‘ [2]
آپ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اتار کر پھینک دی اور فرمایا:’یَعْمِدُ أَحَدُکُمْ إِلٰی جَمْرَۃٍ مِّنْ نَّارٍ فَیَجْعَلُھَا فِي یَدِہِ‘
’’تم میں سے ایک جہنم کے انگارے کا ارادہ کرتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چلے جانے کے بعد لوگوں نے کہا:’’یہ انگوٹھی اٹھالو اور اس سے(کوئی اور)فائدہ حاصل کرلو‘‘ تو اس شخص نے جواب دیا:’’نہیں،اللہ کی قسم!میں اسے نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینکا ہے۔‘‘[3]
6: چاندی کی انگوٹھی پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ انگوٹھی میں اپنا نام کندہ کرے اور خطوط و رسائل میں اسے مہر کے طور پر استعمال کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس پر(محمد رسول اللہ)کندہ کیا اور آپ بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں اسے زیبِ تن کرتے تھے۔[4]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں ہاتھ کی خنصر(چھوٹی انگلی)میں انگوٹھی پہنتے تھے۔‘‘[5]
7: کپڑا اس انداز میں نہ اوڑھے کہ ہاتھ اس سے آسانی سے نکالے نہ جاسکیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے۔اور آپ نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ آدمی ایک جوتا پہن کر چلے۔ارشادِ نبوی ہے:((لَا یَمْشِ أَحَدُکُمْ فِي نَعْلٍ وَّاحِدَۃٍ،لِیُنْعِلْھُمَا جَمِیعًا أَوْلِیَخْلَعْھُمَا جَمِیعًا))
’’تم میں سے کوئی شخص ایک جوتا پہن کر نہ چلے،دونوں پہن لے یا دونوں اتار دے۔‘‘ [6]
8: مسلمان مرد،مسلمان عورت کا لباس نہ پہنے اور اسی طرح عورت،مرد کا لباس نہ پہنے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
’لَعَنَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم الْمُخَنَّثِینَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَائِ‘
’’نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے ساتھ مشابہت کرنے والے مرد اور مردوں کے ساتھ مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے۔‘‘ [1] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
((لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم الرَّجُلَ یَلْبَسُ لِبْسَۃَ الْمَرْأَۃِ،وَالْمَرْأَۃَ تَلْبَسُ لِبْسَۃَ الرَّجُلِ))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ایسے مرد پرجو عورت کا لباس پہنے اور ایسی عورت پر جو مرد کا لباس پہنے۔‘‘[2]
9: جوتا پہلے دائیں پاؤں میں پہنے اور جب اتارے تو پہلے بائیں پاؤں سے اتارے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُکُمْ فَلْیَبْدَأْ بِالْیَمِینِ،وَإِذَا انْتَزَعَ فَلْیَبْدَأْ بِالشِّمَالِ لِتَکُنِ الْیُمْنٰی أَوَّلَھُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَھُمَا تُنْزَعُ))
’’جب تم میں سے کوئی جوتا پہنے تو دائیں پاؤں میں پہلے پہنے اور جب اتارے تو بائیں پاؤں سے پہلے اتارے چاہیے کہ دائیں میں پہلے پہنا جائے اور آخر میں اتارا جائے۔‘‘[3]
10: لباس پہنتے وقت دائیں جانب کو اختیار کرے۔امی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
((کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یُحِبُّ التَّیَمُّنَ فِي شَأْنِہِ کُلِّہِ فِي نَعْلَیْہِ وَتَرَجُّلِہِ وَطُھُورِہِ))
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب کاموں،جوتے پہننے،کنگھی کرنے اور وضوکرنے(وغیرہ)میں دائیں طرف(سے ابتدا کرنے)کو پسند کرتے تھے۔‘‘[4]
11: نیا کپڑا،پگڑی یا کوئی بھی لباس پہنتے وقت یہ دعا پڑھے:
((اَللّٰھُمَّ!لَکَ الْحَمْدُ،أَنْتَ کَسَوْتَنِیہِ،أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِہِ وَخَیْرِ مَا صُنِعَ لَہُ،وَأَعُوذُبِکَ مِنْ شَرِّہِ وَشَرِّمَا صُنِعَ لَہُ))
’’اے اللہ!تیری ہی تعریف ہے تونے ہی مجھے یہ پہنایا ہے۔میں تجھ سے اس کی اچھائی کا اور اس اچھائی کا جس کے لیے اسے بنایا گیا ہے،سوال کرتا ہوں،اور میں اس کے شر سے اوراس شر سے جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘[5]
12: اپنے بھائی کو نیا لباس پہنے دیکھے تو یہ دعا دے:
’أَبْلِ وَأَخْلِقْ‘ ’’ تو اسے استعمال کر کے خوب بوسیدہ اور پرانا کر۔‘‘
کیونکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’ام خالد رضی اللہ عنہا ‘‘کو،جب اس نے نیا لباس پہنا تھا،’أَبْلِي وَأَخْلِقِي‘ ’’تو اس کے بوسیدہ ہونے اور پھٹنے تک اسے استعمال کرتی رہے۔‘‘کی دعا دی تھی۔
لہٰذا مذکر کے لیے’أَبْلِ وَأَخْلِقْ‘ اور مؤنث کے لیے ’أَبْلِي وَأَخْلِقِي‘ کے الفاظ کے ساتھ دعادی جائے گی۔[1]