سفر کے آداب
سفر کے آداب
1: اگر کسی کا کوئی حق یا امانت ہو تو اس کی ادائیگی کرے،اس لیے کہ سفر میں ہلاکت کے امکانات ہوتے ہیں۔
2: سفر خرچ حلال ذریعہ سے تیار کرے،مزید بیوی،بچوں اور والدین کا لازمی اور ضروری خرچ مہیا کر کے جائے۔
3: بھائیوں،ساتھیوں اور اہل و عیال کے ساتھ الوداعی ملاقات کرے اور یہ دعا دے:’أَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِینَکُمْ وَأَمَانَتَکُمْ وَخَوَاتِیمَ أَعْمَالِکُمْ‘
’’میں تمھارے دین،تمھاری امانت اورتمھارے خاتمۂ اعمال کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ [4]
اور الوداع کہنے والے اسے یہ دعا دیں:’زَوَّدَکَ اللّٰہُ التَّقْوٰی وَغَفَرَ ذَنْبَکَ وَیَسَّرَلَکَ الْخَیْرَ حَیْثُ مَا کُنْتَ‘
’’اللہ تجھے تقویٰ کا توشہ عطا کرے،تیرے گناہ معاف کرے اور تو جدھر بھی جائے اچھائی کو تیرے لیے آسان کرے۔‘‘[5]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’إِنَّ لُقْمَانَ قَالَ:إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی إِذَا اسْتُودِعَ شَیْئًا حَفِظَہُ‘
’’لقمان(علیہ السلام)نے کہاکہ جو چیز اللہ کے سپرد کی جائے،وہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔‘‘[6]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمرکو ان الفاظ کے ساتھ رخصت فرمایا:’أَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِینَکَ وَأَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیمَ عَمَلِکَ‘
’’میں تیرا دین،امانت اور خاتمۂ عمل اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ [1]
4: سفر ایسے تین یا چار ساتھیوں کے ساتھ اختیار کرے،جن کے بارے میں اسے یقین ہو کہ یہ سفر میں ٹھیک رہیں
گے۔کیونکہ سفر انسان کے جانچنے کا ایک ذریعہ ہے،جس میں لوگوں کے اخلاق و کردار نمایاں ہوتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:’اَلرَّاکِبُ شَیْطَانٌ وَّالرَّاکِبَانِ شَیْطَانَانِ وَالثَّلَاثَۃُ رَکْبٌ‘
’’اکیلا سوار شیطان ہے،دو بھی شیطان ہیں اور تین قافلہ ہے۔‘‘[2]
نیز فرمایا:’لَوْیَعْلَمُ النَّاسُ مَافِي الْوَحْدَۃِ مَا أَعْلَمُ،مَا سَارَ رَاکِبٌ بِلَیْلٍ وَّحْدَہُ‘
’’اگر لوگ اکیلے سفر کرنے کی وہ خرابیاں جان لیں جو مجھے معلوم ہیں تو کوئی بھی رات کو اکیلا سفر نہ کرے۔‘‘[3]
5: مسلمان مسافروں کا قافلہ اپنے میں سے ایک کو امیر چن لے جو سب کے مشورے سے ان کی قیادت کے فرائض سرانجام دے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’إِذَا خَرَجَ ثَلَاثَۃٌ فِي سَفَرٍ فَلْیُأَمِّرُوا أَحَدَھُمْ‘ ’’جب تین اشخاص سفر کے لیے نکلیں تو اپنے میں سے ایک کو(اپنا)امیر بنا لیں۔‘‘[4]
6: سفر شروع کرنے سے پہلے استخارہ کی دعا پڑھے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب دی ہے اور قرآنی سورت کی طرح آپ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ دعا سکھاتے تھے اور جملہ معاملاتِ زندگی میں اس پر عمل فرماتے تھے۔[5]
7: گھر سے نکلتے وقت یہ دعائیں پڑھے:’بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ‘
’’اللہ کے نام سے سفر شروع کرتا ہوں،اسی پر میں نے توکل کیا ہے اور اسی کے ساتھ کسی کو برے کام سے بچنے اور نیک کام کرنے کی طاقت ملتی ہے۔[1]
’اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُ بِکَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْھَلَ أَوْ یُجْھَلَ عَلَيَّ‘
اے اللہ!میں تیری پناہ لیتا ہوں کہ بھٹکوں یا بھٹکایا جاؤں،پھسلوں یا پھسلایا جاؤں،ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے یا(کسی کے ساتھ)جہالت کے کام کروں یا میرے ساتھ کوئی جہالت و نادانی سے پیش آئے۔‘‘ [2]
سواری پر سوار ہو تو یہ دعا پڑھے:
’اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،اَللّٰہُ أَکْبَرُ،سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِینَ وَإِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ،اَللّٰھُمَّ!إِنَّا نَسْئَلُکَ فِي سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی،وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی،اَللّٰھُمَّ!ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِعَنَّا بُعْدَہُ،اَللّٰھُمَّ!أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِیفَۃُ فِي الْأَھْلِ،اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ وَّعْثَائِ السَّفَرِ وَکَابَۃِ الْمَنْظَرِ،وَسُوئِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَھْلِ‘
’’اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے،اللہ سب سے بڑا ہے۔پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اسے(سواری کو)مسخر کر دیا،ہم اسے اپنے کنٹرول میں نہیں کر سکتے تھے۔یقینا ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اے اللہ!ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقوٰی کا سوال کرتے ہیں اور اس عمل کا جسے تو پسند کرے۔اے اللہ!ہمارے اس سفر کو ہم پر آسان کر دے اور اس کی دوری کو لپیٹ دے۔اے اللہ!سفر میں تو ہی ساتھی ہے اور پیچھے گھر میں اہل و عیال کا نگران بھی تو ہے۔اے اللہ!میں سفر کی شدتوں،برے منظراور واپسی پر مال اور اہلِ خانہ میں برے حالات(پیدا ہونے)سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘ [3]
8: سفر کے لیے جمعرات کے دن صبح سویرے نکلے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’اَللّٰھُمَّ!بَارِکْ لِأُمَّتِي فِي بُکُورِھَا‘ ’’اے اللہ!میری امت کی صبح میں برکت فرما۔‘‘ [4]
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً جمعرات کے دن سفر اختیار کیاکرتے تھے۔[5]
9: اونچی جگہ چڑھتے وقت اللہ اکبر کہے۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ایک شخص نے کہا:اے اللہ کے رسول!میں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں،مجھے وصیت کیجیے۔تو آپ نے یہ فرمایا:’عَلَیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ وَالتَّکْبِیرِ عَلٰی کُلِّ شَرَفٍ‘
’’تم اللہ کا خوف اور ڈر لازم پکڑو اور ہر اونچائی پر تکبیر کہو۔‘‘ [1]
10: کسی کا خطرہ محسوس ہو تو یہ دعا پڑھے:’اَللّٰھُمَّ!إِنَّا نَجْعَلُکَ فِي نُحُورِھِمْ وَنَعُوذُبِکَ مِنْ شُرُورِھِمْ‘
’’اے اللہ!ہم تجھے ان کے سینوں میں(مدمقابل)کرتے ہیں اور ان کی شرارتوں سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔‘‘[2]
ایسے مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی دعا منقول ہے۔
11: سفر میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے اور دنیا و آخرت کی اچھائی کا سوال کرے کیونکہ سفر میں دعا قبول ہوتی ہے۔ارشادِ نبوی ہے:’ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُّسْتَجَابَاتٌ:دَعْوَۃُ الْمَظْلُومِ،وَدَعْوَۃُ الْمُسَافِرِ،وَدَعْوَۃُ الْوَالِدِ عَلٰی وَلَدِہِ‘
’’تین دعائیں قبول ہوتی ہیں:مظلوم کی دعا،مسافر کی دعا اور والد کی اولاد کے حق میں دعا۔‘‘ [3]
12: کسی جگہ پڑاؤ ڈالے تویہ کہے:’أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ‘’’میں اللہ کے کامل تر کلمات کی پناہ لیتا ہوں،اس کی مخلوق کے شر سے۔‘‘[4]
رات کا وقت آئے تویوں کہے:((یَا أَرْضُ!رَبِّي وَرَبُّکِ اللّٰہُ،أَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّکِ وَشَرِّمَا فِیکِ وَشَرِّمَا خُلِقَ فِیکِ وَشَرِّمَا یَدِبُّ عَلَیْکِ،وَأَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ(شَرِّ)أَسَدٍ وَّأَسْوَدَ،وَمِنَ الْحَیَّۃِ وَالْعَقْرَبِ،وَمِنْ سَاکِنِي الْبَلَدِ،وَمِنْ وَّالِدٍ وَّمَا وَلَدَ))
’’اے زمین!میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔میں تیرے شر سے اور تیرے اندرموجود شر سے،تجھ میں پیدا شدہ شر سے اور تجھ پر چلنے والی مخلوق کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں اور اللہ کی پناہ لیتا ہوں شیر،سانپ،بچھو،شہر میں رہنے والوں اور(ہر)جنم دینے والے اور جو کچھ اس نے جنم دیا ہے،کے شر سے۔‘‘[5]
13: تنہائی میں خوف محسوس کرے تو کہے:
((سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوسِ رَبِّ الْمَلَائِکَۃِ وَالرُّوحِ،جُلِّلَتِ السَّمٰوَاتُ وَالْأَرْضُ بِالْعِزَّۃِ وَالْجَبَرُوتِ))
’’بادشاہ مطلق،پاک ذات،فرشتوں اور روح الامین کے رب کی تسبیح(کرتا ہوں)جس کا غلبہ اور قہر آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے۔‘‘[1]
14: رات کے ابتدائی حصہ میں سوئے تو اپنا بازو بچھا کر اس پر سر رکھ کر سوئے اور اگر رات کے آخری پہر آرام کرنا چاہے تو بازو کھڑا کر کے ہتھیلی پر سر رکھے،تا کہ گہری نیند نہ سو سکے ورنہ صبح کی نماز وقت پر نہیں پڑھ سکے گا۔
15: سفر میں کوئی شہر یا آبادی سامنے آئے تو کہے:((اَللّٰھُمَّ!)اجْعَلْ لَّنَا فِیھَا رِزْقًا وَّقَرَارًا))
’’اے اللہ!اس میں ہمیں حلال روزی دے اور ہمارے لیے اس میں ٹھہرنا نصیب کر۔‘‘[2]
’فَإِنَّا نَسْأَلُکَ خَیْرَ ھٰذِہِ الْقَرْیَۃِ وَخَیْرَ أَھْلِھَا وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ أَھْلِھَا وَشَرِّمَا فِیھَا‘
’’ہم تجھ سے اس شہر کی اور اس میں رہنے والوں کی اچھائی کا سوال کرتے ہیں اور تیری پناہ چاہتے ہیں اس شہر کے شر سے،اس میں رہنے والوں کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کے شر سے۔‘‘[3]
ایسے مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہی دعا کیا کرتے تھے۔
16: سفر سے مقصودضرورت کے پورا ہونے پر جلد اپنے وطن اور گھر واپس آ جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’اَلسَّفَرُ قِطْعَۃٌ مِّنَ الْعَذَابِ یَمْنَعُ أَحَدَکُمْ طَعَامَہُ وَ شَرَابَہُ وَنَوْمَہُ،فَإِذَا قَضٰی أَحَدُکُمْ نَھْمَتَہُ،(حَاجَتَہُ مِنْ سَفَرِہِ)فَلْیُعَجِّلْ إِلٰی أَھْلِہِ‘
’’سفر عذاب کا قطعہ ہے جو تم میں سے ایک کو کھانے،پینے اور آرام سے روکتا ہے۔جب تم میں سے کوئی اپنے سفرکے مقصد کو پورا کرلے تو اپنے اہل کی طرف جلدی لوٹ آئے۔‘‘ [4]
17: واپسی پر تین بار ’’اللہ اکبر‘‘ کہے اور پھر بار بار یہ ذکر کرے:’آئِبُونَ،تَآئِبُونَ،عَابِدُونَ،لِرَبِّنَا حَامِدُونَ‘
’’(ہم)واپس آنے والے توبہ کرنے والے،عبادت کرنے والے اور اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں۔‘‘[5]
ایسے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول ہوا کرتا تھا۔
18: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ و عادت مبارکہ یہ تھی کہ اپنی آمد کی اطلاع پہلے گھر بھجوا دیتے تھے،لہٰذا بلا اطلاع اور رات کے وقت اپنے گھر نہیں آنا چاہیے۔[1]
(:عورت اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کر ے۔حدیث نبوی ہے:
’لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ‘ ’’کوئی عورت اپنے محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘[2]