مہمان نوازی کے آداب

قبولِ دعوت کے آداب

1: کھانے کی دعوت قبول کر لینی چاہیے،معقول عذر کے بغیر اس سے پیچھے رہنا مناسب نہیں ہے،مثلاً:دعوت میں شریک ہونے سے دین یا بدن میں نقصان و ضرر کا اندیشہ ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَنْ دُعِيَ إِلٰی عُرْسٍ أَوْنَحْوِہِ فَلْیُجِبْ‘ ’’جسے شادی وغیرہ(کی دعوت)کے لیے بلایا جائے،وہ اسے قبول کرے۔‘‘ [1] نیز فرمایا:’لَوْ دُعِیتُ إِلٰی ذِرَاعٍ أَوْکُرَاعٍ لَّأَجَبْتُ،وَلَو أُھْدِيَ إِلَيَّ ذِرَاعٌ أَوْ کُرَاعٌ لَّقَبِلْتُ‘ ’’مجھے اگر بکری کے بازو یا پائے کے لیے بلایا جائے تو میں ضرور دعوت قبول کروں گا اور اگر مجھے بازو یا پائے کا تحفہ دیا جائے تو میں اسے منظور کروں گا۔‘‘ [2] 2: قبولِ دعوت میں امیر وغریب کا فرق نہ کرے،غریب کی دعوت قبول نہ کرنے سے اس کی دل شکنی ہو گی اور اس میں تکبر کا پہلو بھی ہے،اور تکبر کرنے پر اللہ ناراض ہوتا ہے۔ غرباء کی دعوت قبول کرنے کے بارے میں مروی ہے کہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما ایک دن مساکین کے پاس سے گزرے جو روٹی کے ٹکڑے زمین پر رکھ کر کھا رہے تھے۔انھوں نے حسن رضی اللہ عنہ کو دعوت دی۔اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بیٹے!ہمارے ساتھ صبح کے کھانے میں شریک ہو جائیں۔ حسن رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا:’نَعَمْ،إِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِ‘ ’’ہاں،بے شک اللہ تعالیٰ بڑائی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔‘‘[3] خچر سے اترے اوران کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ 3: قبولِ دعوت میں دور اور قرابت والے کا فرق نہ کرے بلکہ جو پہلے آ جائے اس کی دعوت قبول کر لے اور دوسرے سے معذرت کر لے۔ 4: نفلی روزہ کی وجہ سے انکار نہ کرے اگر صاحب دعوت اسے کھانا کھلانے میں خوشی محسوس کرتا ہے تو روزہ افطار کر دے اور ایک مومن کے دل کو خوش کردے ورنہ ان کے لیے دعائے خیر کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ فَلْیُجِبْ،فَإِنْ کَانَ صَائِمًا فَلْیُصَلِّ وَإِنْ کَانَ مُفْطِرًا فَلْیَطْعَمْ‘ ’’جب تم میں سے کسی کو کھانے کے لیے بلایا جائے تو وہ قبول کرے۔اگر(نفلی)روزے سے ہے تو دعا کر دے اور اگر روزہ دار نہیں تو کھانا کھائے۔‘‘ [1] آپ نے نفلی روزہ رکھنے والے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے،جسے دعوت ملی تھی،یہ فرمایا:’دَعَاکُمْ أَخُوکُمْ وَتَکَلَّفَ لَکُمْ‘ ’’تمھیں تمھارے بھائی نے دعوت دی ہے اورتکلیف اٹھائی ہے۔‘‘ پھر آپ نے اسے حکم دیا کہ افطار کرلو۔اور اگر تم چاہو تو اس کے بدلے میں کسی دوسرے دن روزہ رکھ لینا۔‘‘[2] 5: قبول دعوتِ طعام میں اپنے ساتھی مسلمان کی عزت و توقیر مطلوب ہونی چاہیے تاکہ ثواب ملے۔ حدیث میں ہے:’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ،وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِیئٍ مَّا نَوٰی‘ ’’اعمال نیتوں پر موقوف ہیں اور ہر شخص کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی اس نے نیت کی۔‘‘ [3] حقیقت یہ ہے کہ اچھی نیت سے مباح کام کو اطاعت کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے جس پر مومن اجر کا مستحق قرار پاتا ہے۔