مہمان نوازی کے آداب

مہمانی کے لیے بلانا

1: اپنی ضیافت میں متقی اور پرہیزگار لوگوں کو بلائے،فاسق اور مجرم اشخاص کومدعو نہ کرے۔ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا،وَلَا یَأْکُلْ طَعَامَکَ إِلَّا تَقِيٌّ‘ ’’صرف ایماندار کی صحبت اختیار کر اور تیرا کھانا صرف متقی ہی کھائے۔‘‘ [3] 2: ضیافت و مہمانی کے لیے اغنیاء کو مخصوص نہ کرے بلکہ فقراء کو بھی بلائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِ یُدْعٰی لَھَا الْأَغْنِیَائُ وَیُتْرَکُ الْفُقَرَائُ)) ’’بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں دولت مند بلائے جائیں اور فقراء کو چھوڑ دیا جائے۔‘‘ [4] 3: ضیافت میں مقصود ایک دوسرے سے بڑھنا اور فخرکرنا نہ ہو بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورسابقہ انبیاء،مثلاً:ابراہیم علیہ السلام کے طریق کی پیروی کا ارادہ کرے اور اس میں یہ نیت و جذبہ بھی کارفرما ہو کہ ایماندار بھائیوں میں سرور اور خوشی پیدا کرے گا۔ 4: کسی ایسے شخص کو دعوت نہ دے جس کا شریک ہونا مشکل ہو یا(خیال ہو کہ)وہ کسی شریک ساتھی کی و جہ سے رنجیدہ ہو گا کیونکہ مومن کو ایذا دینا حرام ہے۔