حقوق العباد

مسلمانوں کے حقوق

ہر مسلمان تسلیم کرتا ہے کہ مجھ پردوسرے مسلمان بھائیوں کے کچھ حقوق و آداب واجب ہیں اور وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ دراصل ان حقوق کی ادائیگی اللہ کی عبادت ہے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے،اس لیے کہ یہ حقوق و آداب حق تعالیٰ نے ہر مسلمان پر واجب کیے ہیں تاکہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے انھیں انجام دے تو یہ بلاشبہ اللہ ہی کی اطاعت و فرماں برداری ہے اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ان آداب میں درج ذیل امور بھی شامل ہیں: 1: جب ملے تو گفتگو سے پہلے سلام کہے اور مصافحہ کرے،سلام کے الفاظ یہ ہیں: ’اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ‘ ’’تم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو۔‘‘[1] اور جوابی الفاظ یہ ہیں: ’وَ عَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرْکَاتُہُ‘ ’’اور تم پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت و برکات ہوں۔‘‘ [2] یہ درج ذیل ارشادِ باری کی بنا پر ہے:﴿وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا﴾’’اور جب تمھیں سلام کہا جائے تو اس سے بہتر جواب دو یا اسی کو لوٹاؤ۔‘‘[3] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’یُسَلِّمُ الرَّاکِبُ عَلَی الْمَاشِي،وَالْمَاشِي عَلَی الْقَاعِدِ،وَالْقَلِیلُ عَلَی الْکَثِیرِ‘ ’’سوار پیدل چلنے والے کو سلام کہے،چلنے والا بیٹھنے والے کو اور کم تعداد والے بڑی جماعت کو سلام کہیں۔‘‘ [4] ایک سوال کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا:’وَ تَقْرَأُ السَّلَامَ عَلٰی مَنْ عَرَفْتَ وَ مَنْ لَّمْ تَعْرِفْ‘ ’’تو پہچاننے والے اور نہ پہچاننے والے سب کو سلام کہے۔‘‘ [5] نیز فرمایا:’مَا مِنْ مُّسْلِمَیْنِ یَلْتَقِیَانِ فَیَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَہُمَا قَبْلَ أَنْ یَّتَفَرَّقَا‘ ’’جو بھی دو مسلمان ملتے ہیں اور باہم مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے انھیں معاف کر دیاجاتا ہے۔‘‘[6] مزید فرمایا:’مَنْ بَدَأَ بِالْکَلَامِ قَبْلَ السَّلَامِ فَلَا تُجِیبُوہُ حَتّٰی یَبْدَأَ بِالسَّلَامِ‘ ’’جو شخص سلام سے پہلے گفتگو شروع کر دے،اسے جواب نہ دو جب تک وہ سلام نہ کرے۔‘‘ [7] 2: ایک دوسرے کے حقوق و آداب میں یہ بھی ہے کہ چھینک مارنے والا’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ ’’سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ‘‘ کہے تو دوسر’یَرْحَمُکَ اللّٰہُ‘ ’’اللہ تجھ پر رحم کرے‘‘ کہہ کر اسے جواب دے اور چھینک مارنے والا کہے:’یَغْفِرُ اللّٰہُ لِي وَلَکَ‘ ’’اللہ مجھے اور تجھے معاف کرے‘‘ یا ’یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحُ بَالِکُمْ‘’’اللہ تمھیں ہدایت دے اور تمھارے حالات سنوارے۔‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ،وَلْیَقُلْ لَّہُ أَخُوہُ أَوْ صَاحِبُہٗ:یَرْحَمُکَ اللّٰہُ،فَإِذَا قَالَ لَہُ: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ،فَلْیَقُلْ:یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ‘ ’’جب تم میں سے کوئی شخص چھینک مارے تو ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘کہے،پھر چاہیے کہ اس کا بھائی یا اس کا ساتھی اسے ’یَرْحَمُکَ اللّٰہُ‘ کہے اور(پہلا)اسے جواب دے:’یَہْدِیکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ‘[1] ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چھینک کے وقت اپنا ہاتھ یا کپڑا منہ پر رکھ لیتے تھے اور اس طریقے سے آواز پست کرتے۔[2] 3: اگر کوئی بیمار ہو جائے تو اس کی بیمار پرسی کرے اور شفا کی دعا مانگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ خَمْسٌ:رَدُّ السَّلَامِ،وَعِیَادَۃُ الْمَرِیضِ،وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ،وَ إِجَابَۃُ الدَّعْوَۃِ،وَ تَشْمِیتُ الْعَاطِسِ‘ ’’مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں:سلام کا جواب دینا،بیمار کی عیادت کرنا،جنازے کے پیچھے جانا،دعوت قبول کرنا اور چھینک مارنے والے(کی چھینک)کا جواب دینا۔‘‘ [3] براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِعِیَادَۃِ الْمَرِیضِ،وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ،وَ تَشْمِیتِ الْعَاطِسِ،وَ إِبْرَارِ الْمُقْسِمِ،وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ،وَ إِجَابَۃِ الدَّاعِي،وَ إِفْشَائِ السَّلَامِ‘ ’’ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی بیمار پرسی کرنے،جنازے کے ساتھ جانے،چھینک کا جواب دینے،قسم ڈالنے والے کی قسم پوری کرنے،مظلوم کی مدد کرنے،دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے اور سلام کوعام کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘ [4] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’أَطْعِمُوا الْجَائِعَ،وَعُودُوا الْمَرِیضَ،وَ فُکُّوا الْعَانِيَ۔الْأَسِیرَ۔‘ ’’بھوکے کو کھانا کھلاؤ۔بیمار کی بیمار پرسی کرو اور قیدیوں کو آزاد کرو(اور کراؤ۔)‘‘ [5] امی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل میں سے کسی کی بیمار پرسی کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اس پر پھیرتے اور فرماتے: ((اَللّٰہُمَّ!رَبَّ النَّاسِ أَذْہِبِ الْبَأْسَ،اِشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَائَ إِلَّا شِفَائُ کَ شِفَائً لَّا یُغَادِرُ سَقَمًا)) ’’اے اللہ!انسانوں کے رب!بیماری دور کر،شفا دے تو شفا دینے والا ہے،تیرے سوا کسی کی شفا نہیں ہے۔ایسی شفا دے جو بیماری کے اثرات کو باقی نہ چھوڑے۔‘‘[1] 4: جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ خَمْسٌ:رَدُّ السَّلَامِ،وَ عِیَادَۃُ الْمَرِیضِ،وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ،وَ إِجَابَۃُ الدَّعْوَۃِ،وَتَشْمِیتُ الْعَاطِسِ‘ ’’مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں:سلام کا جواب دینا،بیمار کی بیمار پرسی کرنا،جنازے کے ساتھ جانا،دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔‘‘ [2] 5: اگر کسی معاملہ میں قسم ڈال دے تو اس کی قسم پوری کرے،بشرطیکہ اس میں کوئی ناجائز بات نہ ہو،یعنی وہ کام کردے جس پر اس نے قسم ڈالی ہے تاکہ وہ اپنی قسم پوری کر سکے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:’أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِعِیَادَۃِ الْمَرِیضِ،وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ،وَ تَشْمِیتِ الْعَاطِسِ،وَ إِبْرَارِ الْمُقْسِمِ،وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ،وَ إِجَابَۃِ الدَّاعِي،وَ إِفْشَائِ السَّلَامِ‘ ’’ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ بیمار کی بیمار پرسی کریں،جنازے کے ساتھ جائیں،چھینک کا جواب دیں،قسم ڈالنے والے کی قسم پوری کریں،مظلوم کی مدد کریں،دعوت دینے والے کی دعوت قبول کریں اور سلام کو عام کریں۔‘‘ [3] 6: اگر کسی معاملہ میں وہ خیر خواہی اور مشورہ طلب کرے یا کسی بات کی صحت و درستی دریافت کرے تو اس کے لیے اچھائی مدنظر رکھے اور اس کی خیر خواہی کرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِذَا اسْتَنْصَحَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیَنْصَحْ لَہُ‘ ’’جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی سے خیرخواہی کا طلب گار ہو تو وہ اس کی خیر خواہی کرے۔‘‘ [4] نیز فرمایا:’اَلدِّینُ النَّصِیحَۃُ،قُلْنَا:لِمَنْ؟ قَالَ:لِلّٰہِ وَلِکِتَابِہٖ وَلِرَسُولِہٖ وَ لِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِینَ وَ عَامَّتِہِمْ‘ ’’دین خیر خواہی(کا نام)ہے۔‘‘ صحابۂ کرام نے عرض کی:کس کے لیے؟ فرمایا:’’اللہ،اس کی کتاب،اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)،سربراہانِ اہلِ اسلام اور عام مسلمانوں کے لیے۔‘‘ [1] مزید فرمایا:((لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ)) ’’تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا حتی کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہ چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘[2] نیز ارشاد فرمایا:’مَثَلُ الْمُؤْمِنِینَ فِي تَوَادِّہِمْ وَتَرَاحُمِہِمْ وَ تَعَاطُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ،إِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہٗ سَائِرُ الْجَسَدَ بِالسَّہَرِ وَالْحُمّٰی‘ ’’آپس میں محبت،ایک دوسرے پر رحم اور مہربانی میں سب ایمان دار ایک جسم کے مانند ہیں،اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو اس کی وجہ سے سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔‘‘ [3] ایک اور فرمان ہے:’اَلْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا‘ ’’ایک مومن دوسرے مومن کے لیے اس عمارت کی طرح ہے جس کا ہر حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘[4] 7: اگر کسی جگہ اس کی مدد اور تائید کی ضرورت ہو تو اس کی مدد کرنے میں دریغ نہ کرے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’اُنْصُرْ أَخَاکَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا‘ ’’اپنے بھائی کی مدد کر،خواہ وہ ظالم ہے یا مظلوم۔‘‘ [5] آپ سے سوال ہوا کہ ظالم کی مدد کیسے؟ فرمایا:’تَأْخُذُ فَوْقَ یَدَیْہِ‘ ’’اس کے ہاتھوں کو پکڑ(اور ظلم کرنے سے باز رکھ،یہی تیری اس کے لیے مدد ہے۔)‘‘ [6] نیز فرمایا:’اَلْمُسْلِمُ أَخُوالْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہٗ وَ لَا یَخْذُلُہٗ وَلَا یَحْقِرُہٗ‘ ’’مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرتا ہے،نہ اسے رسوا کرتا ہے اور نہ ہی اس کی تحقیر کرتا ہے۔‘‘[7] مزید فرمایا:’مَا مِنِ امْرِیئٍ یَّخْذُلُ امْرَئً ا مُسْلِمًا فِيمَوْضِعٍ یُّنْتَہَکُ فِیہِ حُرْمَتُہٗ وَ یُنْتَقَصُ فِیہِ مِنْ عِرْضِہٖ إِلَّا خَذَلَہُ اللّٰہُ فِي مَوْطِنٍ یُّحِبُّ فِیِہِ نُصْرَتَہٗ،وَ مَا مِنِ امْرِیئٍ یَّنْصُرُ مُسْلِمًا فِي مَوْضِعٍ یُّنْتَقَصُ فِیہِ مِنْ عِرْضِہٖ وَ یُنْتَہَکُ فِیہِ مِنْ حُرْمَتِہٖ إِلَّا نَصَرَہُ اللّٰہُ فِي مَوْطِنٍ یُّحِبُّ نُصْرَتَہٗ‘ ’’جس نے کسی مسلمان کو کہیں بے یارو مددگار چھوڑ دیا جہاں وہ بے عزت کیا جارہا تھا تو اللہ اسے ایسی جگہ بے یارو مددگار چھوڑے گا جہاں وہ چاہے گا کہ(کاش)اس کی مدد کی جائے۔اور جس نے کسی مسلمان کی مدد کی(اور اس کا دفاع کیا)جہاں اسے بے عزت اور ذلیل کیا جارہا تھا تو اللہ اس کی ایسی جگہ سے مدد فرمائے گا جہاں وہ چاہے گا کہ اس کی مدد کی جائے۔‘‘[1] فرمانِ نبوی ہے:’مَنْ رَّدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِیہِ رَدَّ اللّٰہُ عَنْ وَّجْہِہِ النَّارَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ’’جس شخص نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے جہنم کی آگ ہٹا دیں گے۔‘‘ [2] 8: کوئی مسلمان اپنے بھائی کو برائی اور تکلیف نہ پہنچائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَ مَالُہٗ وَعِرْضُہٗ)) ’’ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون(بہانا)،مال(کا نقصان کرنا)اور عزت(پامال کرنا)حرام ہے۔‘‘ [3] نیز فرمایا:’لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یُّرَوِّعَ مُسْلِمًا‘ ’’کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان کو خوف زدہ کرے۔‘‘ [4] مزید فرمایا:’لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یُّشِیرَ إِلٰی أَخِیہِ بِنَظْرَۃٍ تُؤْذِیہِ‘ ’’کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی طرف تکلیف دہ نظر سے دیکھے۔‘‘ [5] اور ارشادِ نبوی ہے:’إنَّ اللّٰہَ یَکْرَہُ أَذَی الْمُؤْمِنِینَ‘ ’’بے شک اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ایذا دینا ناپسند کرتا ہے۔‘‘ [6] ایک جگہ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَ یَدِہٖ‘ ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔‘‘ [1] فرمانِ نبوی ہے:’اَلْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی دِمَائِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ‘ ’’مومن وہ ہے جس پر لوگ اپنے خون اور مالوں کے سلسلے میں اعتماد اور بھروسا کریں۔‘‘ [2] 9: اس کے لیے نرمی اور تواضع سے کام لے،تکبر و غرور سے احتراز کرے اور اسے اس کی جائز جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔ارشادِ باری ہے: ﴿وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾’’اور(ازراہِ تکبر)لوگوں سے اپنی گال نہ پھلا اور زمین پر اترا کر نہ چل،یقینا اللہ تعالیٰ اترانے والے خود پسند سے محبت نہیں کرتا۔‘‘ [3]فرمانِ نبوی ہے:’إِنَّ اللّٰہَ أَوْحٰی إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتّٰی لَا یَفْخَرَ أَحَدٌ عَلٰی أَحَدٍ‘ ’’اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے کہ ایسی تواضع کرو کہ کوئی کسی پر فخر نہ کرے۔‘‘ [4] آپ نے فرمایا:’مَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰہِ إِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ‘ ’’جو اللہ تعالیٰ(کی رضا)کے لیے تواضع اور عاجزی اختیار کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اسے رفعت اور بلندی عطا کرتا ہے۔‘‘ [5] آپ سیدالمرسلین ہونے کے باوجود بھی تواضع پسندتھے،بیوگان اور مساکین کے ساتھ چلنے اور ان کے کام کرنے کے معاملہ میں تکبر اور غرور نہیں کرتے تھے۔ آپ کا فرمان ہے:’اَللّٰہُمَّ!أَحْیِنِي مِسْکِینًا،وَ أَمِتْنِي مِسْکِینًا،وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَۃِ الْمَسَاکِینِ‘ ’’اے اللہ!مجھے مسکین ہی زندہ رکھ،مسکین بنا کر ہی موت دینا اور مساکین کے زمرہ میں مجھے اٹھانا۔‘‘ [6] اور فرمایا:’لَا یُقِیمَنَّ أَحَدُکُمُ الرَّجُلَ مِنْ مَّجْلِسِہٖ ثُمَّ یَجْلِسُ فِیہِ۔وَ لٰکِنْ تَفَسَّحُوا وَ تَوَسَّعُوا‘ ’’تم میں سے کوئی دوسرے کو اس کی جگہ سے مت اٹھائے کہ پھر خود اس جگہ بیٹھے،البتہ کشادگی اختیار کرو اور مجالس میں وسعت پیدا کرو۔‘‘[1] 10: کسی مسلمان بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ گفتگو منقطع نہ رکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا یَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ یَّہْجُرَ أَخَاہُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَیَالٍ،یَلْتَقِیَانِ فَیُعْرِضُ ہٰذَا وَ یُعْرِضُ ہٰذَا،وَ خَیْرُہُمَا الَّذِي یَبْدَأُ بِالسَّلَامِ‘ ’’کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین رات(اوردن)سے زیادہ چھوڑے رہے کہ جب وہ ملیں تو ایک دوسرے سے منہ پھیر لیں اور ان میں سے بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کہے۔‘‘ [2] فرمانِ نبوی ہے:’لَا تَدَابَرُوا،وَ کُونُوا عِبَادَ اللّٰہِ إِخْوَانًا‘ ’’ایک دوسرے سے اعراض نہ کرو اور اللہ کے بندو!بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘ [3] 11: اس کی غیبت کرے نہ ہی اسے حقیر جانے،عیب جوئی کرے نہ ہی مذاق اڑائے،برے القاب سے پکارے اور نہ ہی فساد کرانے کے لیے چغل خوری کرے۔ارشادِ باری ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ﴾’’اے ایمان والو!بہت سی بدگمانیوں سے اجتناب کرو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو،کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے(یقینا)برا سمجھو گے۔‘‘ [4] ارشادِ عالی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾ ’’اے ایمان والو!کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے،ہو سکتا کہ وہ اس سے بہتر ہو اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں،ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو،ایمان کے بعد برا نام(رکھنا)گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔‘‘[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’أَتَدْرُونَ مَا الْغِیبَۃُ؟‘ ’’کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ علم ہے۔تو آپ نے فرمایا: ’ذِکْرُکَ أخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ‘ ’’تیرا،اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرنا جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔‘‘ ایک سائل نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!اگر میرے بھائی میں وہ بات ہو جو میں کہتا ہوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنْ کَانَ فِیہِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَہٗ،وَ إِنْ لَّمْ یَکُنْ فِیہِ مَا تَقُولُ فَقَدْ بَہَتَّہٗ‘ ’’اگر اس میں وہ بات ہے جو تو کہتا ہے تو تُو نے اس کی غیبت کی ہے اور اگر اس میں وہ بات نہیں(جو تو کہتا ہے)تو تُو نے اس پر بہتان باندھا ہے۔‘‘ [2] حجتہ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَ أَمْوَالَکُمْ وَ أَعْرَاضَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ‘ ’’بے شک تمھارے خون،تمھارے مال اور تمھاری عزتیں تم پر(ایک دوسرے پر)حرام ہیں۔‘‘ [3] اور فرمایا:’کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَ مَالُہٗ وَ عِرْضُہٗ‘ ’’ہرمسلمان کاخون،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔‘‘ [4] نیز فرمایا:’بِحَسْبِ امْرِیئٍ مِّنَ الشَّرِّ أَنْ یَّحْقِرَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ‘ ’’ایک انسان کے لیے اتنی ہی برائی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔‘‘ [5] مزید فرمایا:’لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ‘ ’’چغل خوربہشت میں داخل نہیں ہو گا۔‘‘ [6] 12: ناحق کسی مسلمان کو گالی نہ دے،چاہے وہ زندہ ہو یا مردہ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ،وَ قِتَالُہُ کُفْرٌ‘ ’’مسلمان کو گالی دینا گناہ اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔‘‘ [7] فرمانِ نبوی ہے:’لَا یَرْمِي رَجُلٌ رَّجُلًا بِالْفُسُوقِ،وَلَا یَرْمِیہِ بِالْکُفْرِ إِلَّا ارْتَدَّتْ عَلیْہِ إِنْ لَّمْ یَکُنْ صَاحِبُہٗ‘ ’’جو شخص کسی کو گناہ یا کفر کا الزام دیتا ہے اگر وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ(الزام)اسی پر لوٹ آتا ہے۔‘‘ [1] ارشادِ نبوی ہے:’اَلْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا،فَعَلَی الْبَادِیئِ مَالَمْ یَعْتَدِ الْمَظْلُومُ‘ ’’آپس میں دو گالیاں دینے والے جو کچھ کہیں(ان کا گناہ)ابتدا کرنے والے کے سر پر ہے،جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔‘‘ [2] حدیثِ نبوی ہے:’لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ،فَإِنَّہُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلٰی مَا قَدَّمُوا‘ ’’مُردوں کو گالی نہ دو کیونکہ وہ ان اعمال تک پہنچ چکے ہیں جو انھوں نے آگے بھیجے ہیں۔‘‘ [3] آپ نے فرمایا: ((مِنَ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ،قَالُوا:یَا رَسُولَ اللّٰہِ!وَہَلْ یَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَیْہِ؟ قَالَ:نَعَمْ،یَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَیَسُبُّ أَبَاہُ،وَ یَسُبُّ أُمَّہٗ فَیَسُبُّ أُمَّہٗ)) ’’ایک انسان کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:’’اے اللہ کے رسول!کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟‘‘ فرمایا:’’ہاں،ایک شخص دوسرے کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دے گا اور اسی طرح اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دے گا۔‘‘[4] 13: کوئی مسلمان دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرے،اس کے بارے میں برا گمان اور بغض نہ رکھے اور اس کی جاسوسی بھی نہ کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا﴾ ’’اے ایمان والو!زیادہ بدگمانیوں سے بچو کہ بعض بدگمانیاں گناہ ہیں اور ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو اور نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی غیبت کرے۔‘‘[5] ارشادِ باری ہے:﴿لَّوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا﴾ ’’جب تم نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور عورتوں نے اپنے حق میں حسنِ ظن کیوں نہ رکھا؟‘‘ [6] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ عالی ہے:’لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ وَ کُونُوا عِبَادَ اللّٰہِ إِخْوَانًا‘ ’’ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو اور(خریدار کو)دھوکا دینے کے لیے قیمت زیادہ نہ لگاؤ اور ایک دوسرے کے ساتھ بغض نہ رکھو اور ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اورنہ ایک دوسرے کی بیع پر بیع کرواور اللہ کے بندو!ایک دوسرے کے بھائی بن جاؤ۔‘‘ [1] ارشادِ عالی ہے:’إِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ،فَإِنَّ الظَّنَّ أَکْذَبُ الْحَدِیثِ‘ ’’اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاؤ،بے شک بدگمانی سب سے بڑی جھوٹی بات ہے۔‘‘ [2] 14: دوسرے مسلمان کو دھوکا دے نہ اس کی خیانت کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا﴾’’اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو،ان کے جرم کیے بغیر ایذا دیتے ہیں،وہ جھوٹ اور صریح گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔‘‘ [3] ارشاد ربانی ہے:﴿وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا﴾اور جو شخص غلطی یا گناہ تو خود کرے،پھر کسی بے گناہ کو اس کا الزام دے،اس نے بہتان اور واضح گناہ کو(اپنے سر پر)اٹھا لیا ہے۔‘‘ [4] ارشادِ نبوی ہے:’مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا،وَ مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا‘ ’’جو ہمارے اوپر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں اور جو ہمیں دھوکا دے،وہ بھی ہم سے نہیں۔‘‘ [5] ایک شخص لین دین کے معاملات میں اکثر دھوکا کھا جایا کرتا تھا،آپ نے اس سے فرمایا: ’مَنْ بَایَعْتَ فَقُلْ:لَا خِلَابَۃَ‘ ’’جس سے تو بیع کرے،اسے کہہ کہ(بیع میں)کوئی دھوکا نہیں ہو گا۔‘‘ [6] فرمانِ نبوی ہے:’مَا مِنْ عَبْدٍ یَّسْتَرْعِیہِ اللّٰہُ رَعِیَّۃً یَّمُوتُ یَوْمَ یَمُوتُ وَ ہُوَ غَاشٌّ لِّرَعِیَّتِہٖ إِلَّا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ‘ ’’جس بندے کو اللہ رعیت دے اور وہ مرتے دن تک ان سے دھوکا کرتا رہے تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا۔‘‘[1] فرمانِ عالی ہے:’مَنْ خَبَّبَ زَوْجَۃَ امْرِیئٍ أَوْ مَمْلُوکَہٗ فَلَیْسَ مِنَّا‘ ’’جو کسی مرد کی بیوی یا اس کے غلام کو خراب کر ے(اس کے خلاف بھڑکائے)تووہ ہم سے نہیں۔‘‘ [2] 15: وعدہ خلافی کرے نہ خیانت ہی کرے،کسی سے جھوٹ بولے نہ قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرے۔ حکم ربانی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾’’اے ایمان والو!(اپنے وعدوں،معاہدوں اور)اقراروں کو پورا کرو۔‘‘ [3] ارشادِ حق تعالیٰ ہے:﴿وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَاهَدُوا﴾’’اور جب عہد کریں تو اسے پورا کرنے والے ہیں۔‘‘ [4] ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ ۖ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا﴾’’اور عہد پورا کرو،یقینا عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔‘‘ [5] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’أَرْبَعٌ مَّنْ کُنَّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا،وَ مَنْ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِّنْہُنَّ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی یَدَعَہَا:إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ،وَ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ،وَ إِذَا عَاہَدَ غَدَرَ،وَ إِذَا خَاصَمَ فَجَرَ‘ ’’چار خامیاں اگر کسی میں پائی جائیں تو وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے ایک خامی ہے تو اس میں نفاق کی ایک نشانی ہے،یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے،(وہ یہ ہیں کہ)جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے،بات کرے تو جھوٹ بولے،عہد کرے تو دھوکا کرے اور جب لڑے تو گالی دے۔‘‘ [6] ایک حدیثِ قدسی میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’ثَلَاثَۃٌ أَنَا خَصْمُہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ:رَجُلٌ أَعْطٰی بِي ثُمَّ غَدَرَ،وَ رَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَکَلَ ثَمَنَہٗ،وَ رَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِیرًا فَاسْتَوْفٰی مِنْہُ وَ لَمْ یُعْطِہٖ أَجْرَہٗ‘ ’’قیامت کے دن میں تین اشخاص کا دشمن ہوں گا:ایک وہ شخص جس نے میرے نام کے واسطے سے عہد کیا،پھر دھوکا دیا اور دوسرا وہ جس نے آزاد انسان کو فروخت کیا اور اس کی قیمت کھا گیا اور تیسرا وہ شخص جس نے مزدور رکھا،پھر اس سے پورا کام لیا مگر اس کی مزدوری ادا نہ کی۔‘‘ [1] حدیثِ نبوی ہے:’مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ،وَ إِذَا أُتْبِعَ أَحَدُکُمْ عَلٰی مَلِيٍّ فَلْیَتْبَعْ‘ ’’غنی آدمی کا(قرض کی ادائیگی میں)ٹال مٹول سے کام لینا ظلم ہے اگر کسی کو دولت والے کے حوالے کیا جائے تو وہ مان لے۔‘‘ [2] یعنی اگر مقروض،قرض خواہ سے کہے:آج کل میرا ہاتھ ذرا تنگ ہے،اس لیے تم فلاں مالدار آدمی سے اپنی رقم وصول کرلو کیونکہ میں نے اس سے یہ رقم لینی ہے تو قرض خواہ کو یہ بات مان لینی چاہیے۔واللہ اعلم۔ 16: اس سے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے،اس کے حق میں مفید چیز یں مہیا کرے۔ایذا رسانی سے رک جائے،خوش ہو کر ملے،اس کا احسان قبول کرے اور اس کی کوتاہی معاف کرے اور اسے ایسے کام کی تکلیف نہ دے جو وہ نہ کر سکے،نیز جاہل سے علم کا طلب گار نہ بنے اور عاجز سے خوش گفتاری کا تقاضا نہ کرے۔ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ﴾’’معافی کا طریقہ اپنا اور اچھائی کا حکم دے اور جاہلوں سے اعراض کر۔‘‘ [3] اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((اِتَّقِ اللّٰہَ حَیْْثُمَا کُنْتَ،وَ أَتْبِعِ السَّیِّئَۃَ الْحَسَنَۃَ تَمْحُہَا،وَ خَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ)) ’’تو جہاں بھی ہے،اللہ تعالیٰ سے ڈر،برائی ہو جائے تو اس کے پیچھے نیکی بھی کر،وہ برائی کو مٹا دے گی اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ برتاؤ کر۔‘‘ [4] 17: اگر بڑا ہے تو اس کی عزت و توقیر کرے اگر چھوٹا ہے تو اس پر رحم کرے۔ فرمانِ نبوی ہے:’مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیرَنَا وَ یَعْرِفْ حَقَّ کَبِیرِنَا فَلَیْسَ مِنَّا‘’’جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ [5] نیز فرمایا:’إِنَّ مِنْ إِجْلَالِ اللّٰہِ إِکْرَامَ ذِي الشَّیْبَۃِ الْمُسْلِمِ‘ ’’یہ بات اللہ جل جلالہ کی تعظیم میں سے ہے کہ سفید بالوں والے مسلمان کی عزت کی جائے۔‘‘ [6] مزید فرمایا:’کَبِّرْ کَبِّرْ‘ ’’بڑے کو پہلے بات کرنے دے،بڑے کو پہلے بات کرنے دے۔‘‘ [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ معروف ہے کہ آپ کے پاس برکت کی دعا کے لیے بچے لائے جاتے تھے۔آپ ان کے نام تجویز فرماتے،انھیں اپنی گود میں بٹھا لیتے۔[2] اور کبھی کبھی بچہ پیشاب بھی کر دیتا۔چنانچہ مروی ہے کہ آپ سفر سے آتے تو بچے آپ کی ملاقات کے لیے پہلے پہنچ جاتے۔آپ رک جاتے اور انھیں اپنے آگے پیچھے سواری پر بٹھا لیتے۔[3] اور بعض بچوں کو اپنے ساتھیوں کی سواریوں پر سوار کرا دیتے،یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں پر خصوصی مہربانی اور کرم نوازی تھی۔ 18: اپنی طرف سے اس کے لیے انصاف مہیا کرے اور جس انداز میں اپنے ساتھ معاملہ چاہتا ہے،اس کے ساتھ بھی اسی انداز میں رہے۔ارشادِ نبوی ہے: ’لَا یَسْتَکْمِلُ عَبْدٌ الإِْیمَانَ حَتّٰی یَکُونَ فِیہِ ثَلَاثُ خِصَالٍ:اَلإِْنْفَاقُ مِنَ الإِْقْتَارِ،وَالإِْنْصَافُ مِنْ نَّفْسِہِ،وَ بَذْلُ السَّلَامِ‘ ’’کوئی بندہ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس میں تین باتیں نہ پائی جائیں:تنگ دستی میں خرچ کرنا،اپنی ذات سے انصاف کرنا اور سلام پھیلانا۔‘‘ [4] حدیث نبوی ہے:’فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُّزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ،وَ یُدْخَلَ الْجَنَّۃَ فَلْتَأْتِہِ مَنِیَّتُہُ وَ ہُوَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ،وَلْیَأْتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِي یُحِبُّ أَنْ یُّؤْتٰی إِلَیْہِ‘ ’’جو شخص جہنم کی آگ سے دور ہونے اور جنت میں داخل ہونے کو پسند کرتا ہے تو اس کی موت اس حالت میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ وہی برتاؤ کرے جو اپنے ساتھ چاہتا ہے۔‘‘ [5] 19: اپنے مسلمان بھائی کی لغزش معاف کرے،اس کے عیب پر پردہ ڈالے اور کوئی ایسی بات سننے کی کوشش نہ کرے،جسے وہ اس سے چھپا رہا ہو۔ارشادِ سبحانی ہے:﴿فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾’’ان کو معاف کر اور درگزر کر۔بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘ [1] ارشادِ ربانی ہے:﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾’’جسے اس کے(مقتول)بھائی(کے قصاص میں)سے کوئی چیز معاف کر دی جائے تو دستور کے مطابق(مقتول کا وارث اس کے خون بہا کے مطالبے کی)پیروی کرے اور(قاتل بھی)اچھے طر یق سے ادائیگی کر دے۔‘‘ [2] فرمانِ الٰہی ہے:﴿فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللّٰهِ﴾’’پس جس شخص نے معاف کیا اور اصلاح کی،اس کا ثواب اللہ پر ہے۔‘‘ [3] ارشادِ عالی ہے:﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن يَغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ﴾’’اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں،کیا تمھیں پسند نہیں کہ اللہ تمھیں بخش دے۔‘‘[4] فرمانِ عالی ہے:﴿إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ﴾ ’’بے شک جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیل جائے،ان کے لیے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔‘‘ [5] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’مَا زَادَ اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا‘ ’’اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی عزت بڑھاتا ہے،جو دوسروں سے درگزر کرتا ہے۔‘‘ [6] نیز فرمایا:’وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَکَ‘’’اور(یہ کہ)تو اسے معاف کر دے جس نے تجھ پر ظلم کیا ہے۔‘‘ [7] مزید فرمایا:’لَا یَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْیَا إِلَّا سَتَرَہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ’’جو بندہ دنیا میں کسی دوسرے بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس(کے عیوب)کو ڈھانپ دے گا۔‘‘ [8] اور فرمایا:’یَا مَعْشَرَ مَنْ آمَنَ بِلِسَانِہِ وَلَمْ یَدْخُلِ الإِْیمَانُ قَلْبَہُ!لَا تَغْتَابُوا الْمُسْلِمِینَ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِھِمْ،فَإِنَّہُ مَنِ اتَّبَعَ عَوْرَاتِھِمْ یَتَّبِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ وَمَنْ یَّتَّبِعِ اللّٰہُ عَوْرَتَہُ یَفْضَحْہُ فِي بَیْتِہِ‘ ’’اے وہ جماعت!جو زبان سے اسلام قبول کر چکی ہے اور ایمان ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا!تم مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور نہ ان کی پوشیدہ باتوں کے پیچھے پڑو کیونکہ جو شخص ان کی پوشیدہ باتوں کا پیچھا کرے گا،اللہ تعالیٰ اس کی پوشیدہ باتوں کا پیچھا کرے گا اورجس کی پوشیدہ باتوں کا پیچھا اللہ کرے تو اسے اس کے گھر میں ہی رسوا کر دے گا۔‘‘[1] فرمانِ نبوی ہے:’مَنِ اسْتَمَعَ إِلٰی حَدِیثِ قَوْمٍ وَّھُمْ لَہُ کَارِھُونَ أَوْ یَفِرُّونَ مِنْہُ،صُبَّ فِي أُذُنِہِ الْآنُکُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ ’’جو شخص دوسروں کی باتیں سننے کی کوشش کرے جسے وہ ناپسند سمجھتے ہوں یا اس سے(دور)بھاگتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ ڈال دیا جائے گا۔‘‘[2] 20: اگر کسی مسلمان کو اس کی مدد اور تعاون کی ضرورت ہو تو مہیا کر ے اور حسبِ استطاعت،ضروریاتِ زندگی پوری کرنے میں اس کی سفارش کرے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾’’اور نیکی و تقویٰ پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔‘‘ [3] ارشادِ الٰہی ہے:﴿مَّن يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُن لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا﴾’’جو اچھے کام میں سفارش کرے،اسے اس(کے ثواب)سے حصہ ملے گا۔‘‘ [4] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’مَنْ نَّفَّسَ عَنْ مُّؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْیَا،نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ،وَمَنْ یَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ یَّسَّرَ اللّٰہُ عَلَیْہِ فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ،وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِي الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ،وَاللّٰہُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَاکَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِیہِ‘ ’’جو شخص کسی مومن سے دنیا کا کوئی غم و مصیبت دور کرتا ہے،اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے غم و مصائب سے ایک مصیبت دور کرے گا اور جو کسی تنگ دست کو آسانی مہیا کرتا ہے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لیے آسانی فرمائیں گے اور جو کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے،اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرنے میں لگا رہتا ہے،اللہ تعالیٰ اس کی مدد میں لگا رہتا ہے۔‘‘ [5] اور فرمایا:’اِشْفَعُوا تُؤْجَرُوا،وَیَقْضِي اللّٰہُ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم مَا شَائَ‘ ’’سفارش کرو،اجر دیے جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے ذریعے سے جو چاہے فیصلہ کرتا ہے۔(مگر تم مجھ سے ضرورت مندوں کی سفارش کر کے اس کا اجر تولے لو۔)‘‘ [1] 21: جب کوئی اللہ کے نام پر پناہ طلب کرے تو ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اسے پناہ دے اور اگر اللہ کے نام پر سوال کرے تو اسے دے،احسان کرنے پر اسے بدلہ دے یا اس کے لیے دعا کرے۔آپ کا فرمان ہے: ((مَنِ اسْتَعَاذَ کُمْ بِاللّٰہِ فَأَعِیذُوہُ،وَمَنْ سَأَلَکُمْ بِاللّٰہِ فَأَعْطُوہُ،وَمَنْ دَعَاکُمْ فَأَجِیبُوہُ،وَمَنْ صَنَعَ إِلَیْکُمْ مَّعْرُوفًا فَکَافِؤہُ،فَإِنْ لَّمْ تَجِدُوا مَا تُکَافِؤنَہُ فَادْعُوا لَہُ حَتّٰی تَرَوْا أَنَّکُمْ قَدْ کَافَئْتُمُوہُ)) ’’جو شخص تم سے اللہ کے نام پر پناہ طلب کرے،اسے تحفظ دو اور جو اللہ کے نام پر سوال کرے،اسے دو اور جو تمھیں بلائے،اس کی دعوت قبول کرو اور جو تمھارے ساتھ اچھائی کرے،اسے بھرپور بدلہ دو اگر بدلہ دینے کے لیے کوئی چیز نہ ملے تو اس کے لیے اتنی دعا کرو کہ تم سمجھنے لگو کہ اب تم نے اس کے احسان کا بدلہ چکا دیا ہے۔‘‘ [2]