حقوق العباد

پڑوسیوں کے حقوق

ہمسایہ کے حقوق و آداب میں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان کی ادائیگی میں پوری کوشش کرے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ﴾ ’’اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور رشتہ داروں،یتیموں،مساکین اور قرابت دار ہمسایہ اور غیر قرابت دار ہمسایہ(سب کے حقوق و آداب کی ادائیگی کرو۔)‘‘ [6] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی ہے:’مَا زَالَ جِبْرِیلُ یُوصِینِي بِالْجَارِ حَتّٰی ظَنَنْتُ أَنَّہٗ سَیُوَرِّثُہٗ‘ ’’جبریل(علیہ السلام)ہمسایہ کے بارے میں مجھے برابر وصیت کرتے رہے،یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ اسے وارث ہی بنا دیں گے۔‘‘ [1] اور فرمایا:’مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُکْرِمْ جَارَہٗ‘ ’’جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے،اسے چاہیے کہ ہمسایہ کی عزت و تکریم کرے۔‘‘ [2] ہمسایوں کے حقوق کا کچھ خاکہ مندرجہ ذیل ہے: 1. زبان اور فعل سے ہمسایہ کو ایذا نہ دے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلَا یُؤْذِ جَارَہٗ)) ’’جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے،وہ اپنے ہمسایہ کو ایذا نہ دے۔‘‘ [3] اور فرمایا:’وَاللّٰہِ!لَا یُؤْمِنُ،وَاللّٰہِ!لَا یُؤْمِنُ،وَاللّٰہِ!لَا یُؤْمِنُ‘ قِیلَ:وَمَنْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ:’الَّذِي لَا یَأْمَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ‘ ’’اللہ کی قسم!وہ مومن نہیں ہے،اللہ کی قسم!وہ مومن نہیں ہے،اللہ کی قسم!وہ مومن نہیں ہے۔‘‘ پوچھاگیا:کون اے اللہ کے رسول؟ فرمایا:’’جس کا ہمسایہ اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں۔‘‘ [4] ایک عورت کے بارے میں آپ کو بتایا گیا کہ وہ(نفلی)روزے رکھتی ہے اور رات کا قیام کرتی ہے مگر ہمسایوں کو ایذا دیتی ہے تو آپ نے فرمایا:’ہِيَ فِي النَّارِ‘ ’’یہ عورت جہنم میں جائے گی۔‘‘ [5] 2. ہمسایہ کے ساتھ اس طرح احسان کرو کہ وہ مدد مانگے تو اس کی امداد کرو،بیمار ہو جائے تو بیمار پرسی کرو،خوشی میں ہو تومبارکباد دو،مصیبت زدہ ہو جائے تو تسلی دلاؤ،ضرورت مند ہے تو اس کی مالی امداد کرو،اسے سلام میں پہل کرو،بات نرمی سے کرو،اس کی اولاد کے ساتھ گفتگو میں نرمی اختیار کرو،اس کے دین و دنیا کی درستی میں اس کی رہنمائی کرو،ہر انداز میں اس کا خیال اور لحاظ رکھو،اس کے مال کی حفاظت کرو اور اس کی لغزشوں سے درگزر کرو،اس کے عیوب کی تلاش میں نہ رہو،کسی تعمیر یا گزر گاہ میں اس کی تنگی کا باعث نہ بنو،پرنالہ اس کی طرف ڈال کر اسے تنگ نہ کرو،اسی طرح کوڑا کرکٹ پھینک کر اسے ایذا نہ دو۔یہ سب باتیں ہمسایہ کے ساتھ احسان اور حسنِ سلوک کے ذیل میں آتی ہیں،جس کا اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے:﴿وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ﴾’’قرابت دار ہمسایہ اور اجنبی ہمسایہ کے ساتھ(احسان کرو۔)‘‘[1] اور نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَلْیُحْسِنْ إِلٰی جَارِہٖ)) ’’جو اللہ اورروزِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے،وہ اپنے ہمسایہ کے ساتھ احسان کرے۔‘‘ [2] 3. ہمسایہ کے پاس اچھے تحفے بھیج کر اس کی عزت و تکریم کرے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ((یَا نِسَائَ الْمُسْلِمَاتِ!لَا تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِّجَارَتِہَا وَ لَوْ فِرْسِنَ شَاۃٍ)) ’’اے مسلمان عورتو!تم اپنی ہمسائی(کودینے)کے لیے کوئی چیز معمولی نہ سمجھو،چاہے بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ [3] اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا:’یَا أَبَا ذَرٍّ!إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَۃً فَأَکْثِرْ مَائَ ہَا وَ تَعَاہَدْ جِیرَانَکَ‘ ’’اے ابوذر!جب شوربہ پکاؤ تو پانی زیادہ ڈال لو اور ہمسایوں کا خیال رکھو۔‘‘ [4] سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ میرے دو ہمسائے ہیں کس کو تحفہ میں چیز بھیجوں ؟ فرمایا: ’إِلٰی أَقْرَبِہِمَا مِنْکِ بَابًا‘ ’’جس کا دروازہ تیرے زیادہ قریب ہے۔‘‘ [5] 4. ہمسایہ کا احترام و اکرام اس طرح کرے کہ اپنی دیوار پر شہتیر رکھنے سے اسے نہ روکے،اور اس کے قریب والی جگہ کو فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے میں اسے ترجیح دے یا پہلے اسے بتائے اور اس سے مشورہ طلب کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’لَا یَمْنَعْ أَحَدُکُمْ جَارَہٗ أَنْ یَّغْرِزَ خَشَبَۃً فِي جِدَارِہٖ‘ ’’تم میں سے کوئی اپنے ہمسایہ کو اپنی دیوار پر شہتیر رکھنے سے نہ روکے۔‘‘ [6] نیز فرمایا:’مَنْ کَانَ لَہٗ جَارٌ فِي حَائِطٍ أَوْ شَرِیکٌ فَلا یَبِعْہُ حَتّٰی یَعْرِضَہٗ عَلَیْہِ‘ ’’جس کے باغ میں اس کا پڑوسی یا(کوئی اور)شریک ہو تو وہ اسے فروخت کرنے سے پہلے اس(پڑوسی یا شریک)پر پیش کرے۔‘‘[7] فائدہ کی دو باتیں:اول: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((إِذَا سَمِعْتَ جِیرَانَکَ یَقُولُونَ:قَدْ أَحْسَنْتَ فَقَدْ أَحْسَنْتَ،وَ إِذَا سَمِعْتَہُمْ یَقُولُونَ:قَدْ أَسَأْتَ فَقَدْ أَسَأْتَ)) ’’جب تو اپنے ہمسایوں سے یہ سنے کہ تو نے اچھا کیا ہے تو یقینا تو نے اچھا کیا ہے اور جب تو انھیں یہ کہتے ہوئے سنے کہ تو نے برا کیا ہے تو واقعی تو نے برا کیا ہے۔‘‘ [1] اس حدیث کی روشنی میں ہر مسلمان اپنے بارے میں فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ اچھائی کر رہا ہے یا برائی۔ دوم:اگر کسی شخص کو برے ہمسائے کے ساتھ پالا پڑ جائے تو وہ صبر کرے،اس کا صبر کرنا اس سے خلاصی کا باعث بنے گا۔ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اپنے ہمسائے کی شکایت کی تو آپ نے اسے حکم دیا: ’اِذْہَبْ فَاصْبِرْ‘،فَأَتَاہُ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا،فَقَالَ:’اِذْہَبْ فَاطْرَحْ مَتَاعَکَ فِي الطَّرِیقِ‘،فَطَرَحَ مَتَاعَہٗ فِي الطَّرِیقِ،فَجَعَل النَّاسُ یَسْأَلُونَہٗ فَیُخْبِرُہُمْ خَبَرَہٗ،فَجَعَلَ النَّاسُ یَلْعَنُونَہٗ،فَعَلَ اللّٰہُ بِہِ وَ فَعَلَ وَ فَعَلَ،فَجَائَ إِلَیْہِ جَارُہٗ فَقَالَ لَہٗ:اِرْجِعْ لَا تَرَی مِنِّي شَیْئًا تَکْرَہُہٗ‘ ’’جاؤ اور صبر کرو۔‘‘ وہ پھر آپ کے پاس دو یا تین بار آیا تو آپ نے فرمایا:’’جا اپنا سامان راستے پر ڈال دے۔‘‘ چنانچہ اس نے اپنا مال متاع راستے پر ڈال دیا۔لوگ اس سے پوچھنے لگے(کہ کیا ہوا؟)تو اس نے انھیں اپنے ہمسائے کا سلوک بتایا۔تو لوگ اسے لعنت ملامت کرنے لگے۔اللہ اس کے ساتھ ایسے کرے اور ایسے کرے۔تو وہ ہمسایہ اس کے پاس آیا اور اس سے بولا:اپنے گھر میں واپس چلے جاؤ۔(آئندہ)میری طرف سے کوئی ناپسندیدہ سلوک نہیں دیکھو گے۔‘‘ [2]