حقوق العباد

خاوند اور بیوی کے باہمی حقوق

ہر مسلمان اس بات کا معترف ہے کہ خاوند کے بیوی پر اور بیوی کے خاوند پر کچھ حقوق ہیں۔قرآنِ پاک میں ہے: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾ ’’اور عورتوں کا حق(مردوں پر)ویسا ہی ہے کہ جیسے دستور کے مطابق(مردوں کا حق)عورتوں پر ہے،البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔‘‘ [5] اس آیتِ کریمہ نے خاوند،بیوی میں سے ہر ایک کے دوسرے پر کچھ حقوق و آداب ثابت کیے ہیں جبکہ بعض خصوصی اعتبارات کی بنیاد پر مردوں کو(عورتوں پر)ایک درجہ کی خصوصیت حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر فرمایا: ((أَلَا!إِنَّ لَکُمْ عَلٰی نِسَائِ کُمْ حَقًّا،وَ لِنِسَائِ کُمْ عَلَیْکُمْ حَقًّا)) ’’سنو!تمھارے لیے تمھاری بیویوں پر حقوق ہیں اور تمھاری عورتوں کے تم پر حقوق ہیں۔‘‘ [1] ان میں بعض حقوق تو دونوں کے درمیان مشترک اور برابر ہیں جبکہ بعض حقوق ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں۔مشترک حقوق درج ذیل ہیں: 1. امانت: دونوں ایک دوسرے کے امین ہوتے ہیں۔زندگی کے ہر موڑ پر کوئی بھی دوسرے سے خیانت نہ کرے۔خاوند،بیوی دو شریک کاروبارساتھیوں کی طرح ہوتے ہیں،ان میں معمولی چیز ہویا زیادہ۔امانت،خیرخواہی،سچائی اور اخلاص کا پایا جانا ضروری ہے۔ 2.محبت اور رحم کا جذبہ: یہ جذبہ دونوں میں اتنا ہونا چاہیے کہ دکھ سکھ میں ساری زندگی ایک دوسرے کے کام آئیں اور خالص محبت و شفقت کا اظہار کرتے رہیں تاکہ اس ارشادِ حق تعالیٰ کا مصداق بنیں:﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً﴾ ’’اور اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری جانوں سے(تمھاری)بیویاں پیدا کر دیں تاکہ تم ان کی طرف(مائل ہو کر)سکون حاصل کرو،اور اس نے تمھارے درمیان محبت و شفقت پیدا کر دی۔‘‘ [2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی بھی تعمیل ہو جائے: ’مَنْ لَّا یَرْحَمُ لَا یُرْحَمُ‘ ’’جو رحم نہیں کرتا،اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔‘‘ [3] 3.باہمی اعتماد: دونوں میں اس انداز کا باہمی اعتماد ہونا ضروری ہے کہ ایک دوسرے پر کلی بھروسا کریں۔خیرخواہی،سچائی اور اخلاص میں ایک دوسرے پر شک نہ کریں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾’’ایمان والے ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔‘‘ [4] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:’لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ‘ ’’تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہ کچھ پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘ [5] زوجیت کے تعلق نے اخوتِ ایمانی کے تعلق کو مزید بڑھایا ہے اور اس میں پختگی اور اعتماد پیدا کیا ہے۔ اسی وجہ سے خاوند اور بیوی دونوں خود کودو قالب یک جان سمجھتے ہیں۔پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی ذات پر اعتماد نہ کرے اور اس کے لیے خیرخواہی کے جذبات نہ رکھے۔اپنے آپ سے خیانت کون کرتا ہے اور خود سے دھوکا کون کر سکتا ہے؟ 4. حقوقِ عامہ: باہمی معاملات میں توجہ اور نرمی سے کام لینا،چہرے کی شگفتگی،بات میں ادب و احترام،یہی وہ اچھی معاشرت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے:﴿وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾’’اور عورتوں سے معروف طریقے کے ساتھ نباہ کرو۔‘‘ [1] اور یہی وہ اچھی وصیت ہے،جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے بارے میں ارشاد فرمائی: ’وَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَائِ خَیْرًا‘’’اور عورتوں کے لیے اچھی وصیت قبول کرو۔‘‘ [2] یہ مذکورہ بالا حقوق و آداب،خاوند اور بیوی میں مشترک ہیں،علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کے فرمان میں مذکور ’’پختہ عہد‘‘ کی تعمیل میں بھی ان آداب و حقوق کا التزام کرنا دونوں کے لیے ضروری ہے،جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:﴿وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنكُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا﴾’’اور(طلاق کی صورت میں)تم کس طرح ’’مہر‘‘ واپس لو گے،جبکہ ایک دوسرے تک تم پہنچ چکے ہو اور انھوں نے تم سے ’’پختہ عہد‘‘ لے لیا ہے۔‘‘ [3] نیز ارشادِ عالی ہے:﴿وَلَا تَنسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ ۚ إِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾’’اور آپس میں بھلائی کرنے کو فراموش نہ کرنا،اللہ تمھارے سب کاموں کو دیکھ رہاہے۔‘‘[4] کچھ حقوق و آداب ان کے ایک دوسرے پر انفرادی ہیں۔جن کی تفصیل یہ ہے: