اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر ایمان

قرآن وسنت سے دلائل

ایک مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی سچا الٰہ(معبودِ برحق)نہیں۔[1] قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل کا تقاضا بھی یہی ہے اور ان دلائل سے قطع نظر یہ عقیدہ محض اللہ کی توفیق سے نصیب ہوتا ہے۔اس لیے کہ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے،وہ ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہ کر دے،اُسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ قرآن وسنت سے دلائل: 1: اللہ تعالیٰ کا بذاتِ خود،فرشتوں اور اہلِ علم کا گواہی دینا کہ اصل معبود اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہے۔ارشادِ ربانی ہے:﴿شَهِدَ اللّٰهُ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴿١٨﴾ ’’اللہ تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں،فرشتے بھی یہی کہتے ہیں اور علم والوں کا یقین بھی یہی ہے کہ وہ(اللہ)انصاف پر قائم ہے۔اس غالب،حکمت والے کے سوا کوئی(سچا)معبود نہیں۔‘‘[2] 2: متعدد آیاتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کا اس حقیقت کی خبر دینا کہ اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے۔چنانچہ فرمایا:﴿اللّٰهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ﴾ ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔وہ زندہ اور کائنات کا نظام تھامنے والا ہے۔اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔‘‘[3] نیز ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ﴾ ’’اور تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے،اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔وہ بہت رحم کرنے والا،نہایت مہربان ہے۔‘‘[4] اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا:﴿إِنَّنِي أَنَا اللّٰهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِ﴾’’ بے شک میں ہی تو اللہ ہوں۔میرے سوا کوئی معبود نہیں۔لہٰذا میری ہی عبادت کر۔‘‘[5] ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد ہوا:﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللّٰهُ﴾ ’’پس جان لے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔‘‘[1] اپنے بارے میں مزید حقائق کے اظہار میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:﴿هُوَ اللّٰهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ﴿٢٢﴾هُوَ اللّٰهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ﴾ ’’وہی اللہ ہے،جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں،وہ غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے۔وہ بہت رحم کرنے والا،نہایت مہربان ہے۔وہی اللہ ہے،جس کے سوا کوئی معبود(برحق)نہیں،وہ بادشاہ(حقیقی اور تمام عیبوں سے)پاک ہے۔‘‘[2] 3: اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے بھی یہی اطلاع بہم پہنچائی اور اقوامِ عالم کو یہی عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دی کہ لوگو!ایک اللہ کی عبادت کرو،اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔چنانچہ نوح علیہ السلام نے فرمایا:﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ﴾ ’’اے میری قوم!اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘[3] اسی طرح ہود،صالح اور شعیب علیہم السلام کا اپنی اپنی قوم کو یہی پیغام تھا:﴿يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُ﴾ ’’اے میری قوم(کے لوگو)!اللہ کی بندگی کرو۔تمھارے لیے اس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے۔‘‘[4] موسیٰ علیہ السلام کی قوم،بنی اسرائیل نے عبادت وبندگی کے لیے جب ان سے ایک بت بنانے کی درخواست کی تو فرمایا: ﴿أَغَيْرَ اللّٰهِ أَبْغِيكُمْ إِلَـٰهًا وَهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ ’’کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی اور معبود تلاش کروں ؟ حالانکہ اسی نے تم کو جہان والوں پر فضیلت دی ہے۔‘‘[5] یونس علیہ السلام نے اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے عرض کی:﴿لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾ ’’تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔تو پاک ہے،یقینا میں ہی قصور واروں میں سے ہوں۔‘‘[6] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے ’’تشہد‘‘ میں ان لفظوں میں اقرار کیاکرتے تھے:((أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ)) ’’میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود(برحق)نہیں۔وہ اکیلا ہے،اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔‘‘[7]