اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پر ایمان

عقلی دلائل

چند واضح عقلی اور منطقی دلائل،جو اللہ عزوجل کی ربوبیت پر دلالت کرتے ہیں،حسبِ ذیل ہیں: 1: ہر چیز کی تخلیق وپیدائش،اللہ تعالیٰ نے بلا شرکت غیرے کی ہے،اس لیے کہ تمام انسانوں کے نزدیک یہ بات مسلّم ہے کہ تخلیق وابداع کا کوئی اور مدعی ہے نہ ہی اللہ کے سوا کسی کو یہ طاقت حاصل ہے۔مکمل اجسام و اجرام تو کجا،معمولی اشیاء،مثلاً:انسانی یا حیوانی جسم پر بال،پرندے کے بازو کا چھوٹا سا پر،تروتازہ ٹہنی پر پتا،یہ سب اسی کی کرشمہ سازی اور صناعی کے شاہکار ہیں۔اس کے خالقِ مطلق ہونے کا بایں الفاظ اظہار کیا گیا ہے:﴿أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴿٥٤﴾ ’’سنو!اسی کے لیے ہے پیدا کرنا اور حکم دینا۔اللہ رب العالمین نہایت برکت والا ہے۔‘‘[1] نیز ارشاد ہوا:﴿وَاللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ﴿٩٦﴾’’اور اللہ نے تمھیں اور تمھارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔‘‘[2] اپنی خالقیت کی تعریف میں فرمایا:﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ﴾ ’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے،جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور روشنی کو بنایا۔‘‘[3] نیز ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴿٢٧﴾ ’’اور وہی تو ہے جو مخلوق کو پہلی بار پیدا کرتا ہے،پھر اسے دوبارہ پیدا کرے گا اور یہ اس کے لیے بہت آسان ہے،آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے اعلیٰ مثال ہے اور وہ غالب،حکمت والا ہے۔‘‘[4] دیکھیے!اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ہر چیز کو پیدا کرنا،کیا اس کے موجود ہونے اور ہر چیز کے رب ہونے کی دلیل نہیں ہے؟کیوں نہیں،اے ہمارے رب!ہم اس کا اقرار کرتے ہیں۔ 2: روزی رساں صرف اللہ تعالیٰ ہے۔زمین کے اطراف میں پھرنے والے جانور،پانی میں تیرنے والی مخلوق یا چھپی جگہوں میں پوشیدہ زندہ حقیقتیں،ان سب کی روزی کا خالق اللہ ہے اور اسی کی رہنمائی سے حصولِ رزق کی معرفت،اسے لینے کی کیفیت اور اس سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ معلوم ہوتا ہے۔ چیونٹی جیسے معمولی کیڑے سے لے کر انسان جیسی کامل نوع تک،سب اپنے وجود و تکوین،اپنی غذا و روزی میں ایک اللہ کے محتاج ہیں اور وہی اللہ تعالیٰ ان کا موجد،بنانے والا،غذا مہیا کرنے والا اور روزی رساں ہے۔قرآن پاک کی مندرجہ ذیل آیات مبارکہ اس حقیقت کو کتنے اچھے انداز سے ثابت کر رہی ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ إِلَىٰ طَعَامِهِ﴿٢٤﴾أَنَّا صَبَبْنَا الْمَاءَ صَبًّا﴿٢٥﴾ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا﴿٢٦﴾فَأَنبَتْنَا فِيهَا حَبًّا﴿٢٧﴾وَعِنَبًا وَقَضْبًا﴿٢٨﴾وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا﴿٢٩﴾وَحَدَائِقَ غُلْبًا﴿٣٠﴾وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴿٣١﴾ ’’انسان اپنے کھانے(کی چیزوں)پر غور کرے کہ ہم نے(اوپر سے)خوب پانی برسایا،پھر زمین کو پھاڑا۔پھر ہم نے اس میں اناج،،انگور،سبزی،زیتون،کھجور،گھنے باغ،میوہ جات اور(جانوروں کا)چارہ اگایا۔‘‘[1] نیز فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّن نَّبَاتٍ شَتَّىٰ﴿٥٣﴾كُلُوا وَارْعَوْا أَنْعَامَكُمْ﴾ ’’اور آسمان سے پانی اتارا،پھر اس سے ہم نے مختلف قسم کی کھیتیاں نکالیں کہ(تم خود بھی)کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چراؤ۔‘‘[2] اس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں اور نہ اس کے سوا کوئی رب ہے۔ارشادِ ربانی ہے:﴿فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاكُمُوهُ وَمَا أَنتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ﴿٢٢﴾ ’’پھرہم آسمان سے پانی برسا کر تمھیں پلاتے ہیں،اور تم اس کا ذخیرہ کرنے والے نہیں ہو۔‘‘[3] روزی رساں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں۔ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا﴾ ’’اور زمین پر رینگنے والی ہر مخلوق کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے(دنیاوی)ٹھکانے اور سونپے جانے(مرنے)کی جگہ کو بھی جانتا ہے۔‘‘[4] جب بغیر کسی نزاع واختلاف کے یہ ثابت ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ سب کو روزی مہیا کر رہا ہے تو پھر ساری مخلوق کا پالنے والا بھی وہی ٹھہرا۔ 3: انسانی فطرتِ سلیمہ بھی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی شہادت دیتی ہے۔ہر صاحب ذوق انسان،جس کے مزاج میں فتور پیدا نہیں ہوا،اپنے آپ کو ایک بے نیاز اور طاقتور بادشاہ کے سامنے عاجز محض سمجھتا ہے اور اس کی تدبیر وتصرفات میں مجبور ولاچار بھی۔اور وہ پکار پکار کر یہ اقرار کر رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا اور ہر چیز کا مالک اور پالنے والا ہے۔یہ حقیقت اگرچہ مسلمہ ہے،کوئی فطرتِ سلیمہ کا حامل انسان اس کا انکار نہیں کرتا،تاہم قرآن کریم نے بت پرستوں کے رؤساء و اکابر کے عقائد سے بھی اس حقیقت کا مزید اثبات کیا ہے کہ وہی خالق اور وہی مر بی ہے۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:﴿وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيزُ الْعَلِيمُ﴿٩﴾ ’’اور اگر تو ان سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا؟ تو کہیں گے کہ انھیں غالب،علم والے(اللہ تعالیٰ)نے پیدا کیا ہے۔‘‘[1] نیز فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللّٰهُ﴾ ’’اور اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا؟(تمھارے فائدے میں لگایا۔)تو یقینا کہیں گے کہ اللہ نے۔‘‘[2] نیز ارشادِ عالی ہے:﴿قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ﴿٨٦﴾سَيَقُولُونَ لِلّٰهِ﴾ ’’کہہ دیجیے کہ سات آسمانوں اور عرشِ عظیم کا رب کون ہے؟ تو ضرور کہیں گے کہ اللہ ہی ہے۔‘‘[3] 4: ہر چیز کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس میں اسی کا تصرف چلتا ہے اور اسی کی تدبیر کار فرما ہے،یہ بھی اس کی ربوبیت کی نشانی ہے۔دیکھیے تمام انسان اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کائنات اور انسان درحقیقت کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔جب انسان اس دنیا میں آتا ہے،ننگا ہوتا ہے،تن پر کپڑاہوتا ہے نہ پاؤں میں جوتا اور جب اس دنیا سے جاتا ہے تب بھی خالی ہاتھ،چند گز کپڑا اس کے جسم کو ڈھانپے ہوتا ہے تو کیسے کہا جائے کہ انسان کسی چیز کا مالک ہے ؟ جب اشرف المخلوقات انسان کی حالت یہ ہے تو باقی مخلوق کس طرح اشیاء کی مالک گردانی جاسکتی ہے۔چنانچہ ثابت ہوا کہ حقیقی مالک صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اس میں کوئی جھگڑا یا شک وشبہ نہیں۔تصرف وتدبیر کا حال بھی اسی انداز کا ہے۔ربِ کائنات کی ربوبیت میں اس کی صفاتِ خلق،رزق،مِلک،تصرف اور تدبیر وغیرہ سب ہی داخل ہیں اور بت پرستوں کے اکابر نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔قرآنِ پاک نے ان کا یہ عقیدہ کئی سورتوں میں بیان کیا ہے۔ ارشادِ عالی ہے:﴿قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَمَّن يَمْلِكُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَمَن يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَن يُدَبِّرُ الْأَمْرَ ۚ فَسَيَقُولُونَ اللّٰهُ ۚ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ﴿٣١﴾فَذَٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ ۖ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ ۖ فَأَنَّىٰ تُصْرَفُونَ﴿٣٢﴾ ’’کہہ دیجیے کہ تم کو آسمان اور زمین سے روزی کون دیتا ہے؟ یا کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے؟ اور مردے سے زندہ اور زندہ سے مردہ کون نکالتا ہے؟ اور معاملات کی تدبیر کون کرتا ہے؟ یقینا کہہ دیں گے کہ اللہ۔تو کہو کہ پھر تم(اللہ سے)ڈرتے کیوں نہیں ؟ پس یہی اللہ تمھارابرحق پالنے والا ہے اور حق کے علاوہ تو صرف گمراہی ہے،پھر کہاں تم پھیرے جاتے ہو؟‘‘[4]