سلف صالحین سے محبت اور مسلمان حکام کی اطاعت
قراء،محدثین اور فقہائے امت کے متعلق عقیدہ
٭ ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ ان سے محبت کرے،ان کے لیے رحم کی دعا کرے،مغفرت طلب کرے اور ان کی شان و فضیلت کا اعتراف کرے کیونکہ قرآنِ پاک کی اس آیتِ مبارکہ میں ان کا تذکرہ ہوا ہے:﴿وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ﴾
’’اور جن لوگوں نے احسان کے ساتھ(عقیدہ و عمل میں)ان(صحابہ)کی پیروی کی،اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں۔‘‘[2]
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِي،ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ،ثُمَّ الَّذِینَ یَلُونَہُمْ‘
’’سب سے بہتر میرا دور ہے،پھر ان لوگوں کا جو اس دور کے بعد ہوں گے،پھر ان کا جو اس کے بعد ہوں گے۔‘‘[3]
عام قراء،فقہاء،محدثین اور مفسرین رحمۃ اللہ علیہم انھی قرونِ ثلاثہ(تین زمانوں)میں سے تھے،جن کا تذکرئہ خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں کیا ہے اور اللہ نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو اپنے سے پہلے جانے والے مومنوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔ارشادِ ربانی ہے:﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾’’(بعد والے کہتے ہیں)اے ہمارے رب!ہماری اور جو ایمان لانے میں ہم سے پہلے سبقت لے گئے ان کی مغفرت فرما۔‘‘[4]
اس حکم کی تعمیل میں مسلمان،تمام سابقہ اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہتے ہیں۔
٭ اہل ایمان ان کا تذکرہ اچھائی کے ساتھ کرتے ہیں اور آداب ملحوظ رکھتے ہیں کہ وہ مجتہد اور دین میں مخلص تھے،بعد میں آنے والوں کی آراء کے مقابلے میں ان کی رائے کو برتری حاصل ہے،جس پرعمل کرنا چاہیے،اِلاَّ یہ کہ ان کی بات اللہ کے فرمان یا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ رضی اللہ عنہم کے قول کے مخالف ہو،ایسی صورت میں اسے ترک کر دینا لازم ہے۔
٭ ائمہ اربعہ مالک،شافعی،احمد اور ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہم کے مدون کردہ مسائل اور ان کے بیان کردہ احکامِ دین و مسائلِ شرع،اللہ کی کتاب اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے حاصل کردہ اور مستنبط ہیں اور وہ قیاس و استنباط اس وقت کرتے تھے،جب انھیں صریح نص یا اشارہ و ایماء نہیں ملتا تھا۔[5]
٭ بنابریں مذکورہ بالا اکابرامت کے بیان کردہ فقہی مسائل کو اپنانا اور ان پر عمل کرنا اللہ کی شریعت ہی پر عمل کرنا ہے۔جب تک اس کی مخالفت میں کتاب اللہ یا سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واضح طورپرموجود نہ ہو،اس صورت میں اللہ کی وحی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو کسی بھی مخلوق کے قول کی بنیاد پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ارشاد باری ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُولِهِ﴾’’اے ایمان والو!اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو۔‘‘[1]
ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا﴾’’اور جو کچھ تمھیں رسول دے،اسے لے لو اور جس سے منع کرے،اس سے رک جاؤ۔‘‘[2]
ارشادِ عالی ہے:﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ﴾
’’اور جب اللہ اور اس کا رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں،تو کسی مومن مرد اور عورت کے لیے(اس معاملے میں کوئی)اختیار باقی نہیں رہتا۔‘‘[3]
جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَّیْسَ عَلَیْہِ أَمْرُنَا فَہُوَ رَدٌّ‘
’’جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس کے بارے میں ہمارا حکم نہیں ہے،تو وہ مردود ہے۔‘‘[4]
ارشادِ نبوی ہے:’لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُونَ ہَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِئْتُ بِہِ‘
’’کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہش میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ ہو جائے۔‘‘[5]
٭ چونکہ یہ امام بھی انسان تھے،لہٰذا ان کی بات درست بھی ہو سکتی ہے اور غلط بھی،غفلت،بھول چوک یا اس بنیاد پر کہ دین کا سارا علم کسی ایک امتی کے سینے میں کبھی جمع نہیں ہوا،مزیدبرآں ان ائمہ سے بلا ارادہ کسی مسئلے کے بیان میں غلطی بھی ہو سکتی ہے،لہٰذا کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ ان میں سے کسی ایک کی رائے پر جمود اختیار کرے بلکہ ان میں سے جس کی بات صائب اوردرست ہو،اسے قبول کر لیا جائے۔ان کے اقوال اسی صورت میں رد کیے جا سکتے ہیں جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف ثابت ہو جائیں۔
٭ فروعی دینی مسائل میں ان کے اختلاف کو ہر مسلمان قابلِ عذر سمجھتا ہے کہ انھوں نے یہ اختلاف جہالت،ضد اور تعصب کی بنا پر نہیں کیا بلکہ یا تو کسی ایک کو حدیث نہیں ملی،یا اس نے حدیث کو منسوخ سمجھا یا اسے سمجھ نہیں سکا کیونکہ لفظ کے مطالب و معانی سمجھنے میں فہم کا اختلاف ہو سکتا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ﴾(النسآء 43:4)سے یہ سمجھا کہ عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جائے گا۔مگر دوسرے ائمہ اس آیت کا یہ مفہوم نہیں لیتے بلکہ وہ اس سے مجامعت(ہم بستری)مراد لیتے ہیں اور عورت کو صرف ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹنے کے قائل نہیں ہیں بلکہ اس کے لیے ایک قدر زائد،مثلاً:ارادے اور وجودِ لذت کو وضو کے ٹوٹنے کا باعث قرار دیتے ہیں۔
یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ اگر اپنے فہم میں تھوڑا سا تنزل اختیار کر لیں تو باقی ائمہ کے ساتھ موافقت بھی ہو جائے گی اور امت میں اختلاف کی خلیج بھی کم ہو جائے گی،یہ کیوں ممکن نہیں ؟
اس کا جواب یہ ہے کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے لیے یقینا یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد عالی سے کوئی ایسی بات سمجھ جائیں جس میں انھیں معمولی سا شک بھی نہ ہو،پھر وہ محض کسی ذاتی رائے یا کسی دوسرے امام کے فہم کی وجہ سے چھوڑ دیں،اس طرح تو وہ اللہ کی بات کو انسان کے قول کی بنیاد پر چھوڑنے والے ہوجاتے جو ایک کبیرہ گناہ ہے۔ہاں:اگر ان کا فہم کتاب و سنت کی نص(عبارت)کے صریحاً مخالف ہو تو ’’نص ظاہری‘‘ کو تسلیم کرنا لازم ہوگا اور اپنا ذاتی فہم جو ’’نص صریح‘‘ کے درجے میں نہیں،اسے چھوڑنا پڑے گا۔اس لیے کہ اگر ’’نص‘‘ کی دلالت قطعی ہوتی تو اس میں کوئی بھی امتی اختلاف نہ کرتا،چہ جائیکہ ائمۂ کرام،لہٰذا ان کا ’’فہم‘‘ ایسے قطعی درجے میں نہیں ہے کہ جسے ترک نہ کیا جا سکے۔