سلف صالحین سے محبت اور مسلمان حکام کی اطاعت

صحابۂ کرام اور اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کے متعلق عقیدہ

٭ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا ہے کہ ہر مسلمان صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم سے محبت کرے۔ارشادِ باری ہے:﴿فَسَوْفَ يَأْتِي اللّٰهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ﴾ ’’پس عنقریب اللہ(اپنے دین کی حفاظت کے لیے)ایسے لوگ لائے گا جن سے وہ محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہوں گے۔اللہ کے راستہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔‘‘[1] صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تعریف میں فرمایا:﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ﴾ ’’محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اللہ کے رسول ہیں اور آپ کے ساتھی کفار پر سخت اور آپس میں نرم ہیں۔‘‘[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((اَللّٰہَ اَللّٰہَ فِي أَصْحَابِي،لَا تَتَّخِذُوہُمْ غَرَضًا بَعْدِي،فَمَنْ أَحَبَّہُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّہُمْ،وَ مَنْ أَبْغَضَہُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَہُمْ،وَ مَنْ آذَاہُمْ فَقَدْ آذَانِي،وَ مَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَی اللّٰہَ،وَ مَنْ آذَی اللّٰہَ یُوشِکُ أَنْ یَّأْخُذَہُ)) ’’میرے صحابہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو،میرے بعد انھیں(استہزا،توہین یا تکفیر کا)نشانہ نہ بنانا۔پس جو ان سے محبت کرے گا،وہ میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا،جس نے انھیں ایذا پہنچائی اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی،اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی قریب ہے کہ وہ اسے پکڑ لے۔‘‘[3] ٭ مسلمان کا ایمان ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم دوسرے تمام ایمان داروں اور مسلمانوں سے افضل ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی شان بیان کی ہے۔ارشادِ الٰہی ہے: ﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾ ’’اور مہاجرین و انصار میں سے سبقت لے جانے والے(اور سب سے)پہلے(ایمان لانے والے)اور جنھوں نے احسان کے ساتھ(عقیدہ و عمل میں)ان کی اتباع کی،اللہ ان(سب)سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہیں اور اس نے ان کے لیے بہشت کے باغات تیار کیے ہیں۔جن کے نیچے نہریں چلتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے،یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘[4] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي،فَلَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَہَبًا مَّا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِہِمْ وَ لَا نَصِیفَہُ)) ’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔تم میں کوئی ایک اگر احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو وہ ان کے ایک مد اور نصف مد کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔‘‘[1] ٭ مسلمان کا عقیدہ ہے کہ جملہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور ان کے بعد قیامت تک کے تمام لوگوں سے علی الاطلاق ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ افضل ہیں اور ان کے بعد بالترتیب حضرت عمر،پھر عثمان اور پھر علی رضی اللہ عنہم افضل ہیں۔اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: ((لَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلًا لَّاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ،وَ لٰکِنْ أَخِي وَ صَاحِبِي)) ’’اگر میں کسی کو رازداں دوست(خلیل)بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور ساتھی ہیں۔‘‘[2] عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بارے میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:((کُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَا نَعْدِلُ بِأَبِي بَکْرٍ أَحَدًا،ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ،ثُمَّ نَتْرُکُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم لَا نُفَاضِلُ بَیْنَہُمْ)) ’’ہم نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ابوبکر کے برابر کسی(صحابی)کو نہیں سمجھتے تھے،پھر عمر،پھر عثمان رضی اللہ عنہم کا درجہ سمجھتے تھے،پھر نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو(ان کے حال پر)چھوڑ دیتے(یعنی)کسی کو کسی پر فضیلت نہ دیتے تھے۔‘‘ [3] سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((خَیْرُ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ بَعْدَ نَبِیِّہَا أَبُوبَکْرٍ ثُمَّ عُمَرُ)) ’’اس امت میں نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ افضل ہیں،پھر عمر رضی اللہ عنہ۔‘‘[4] ٭ ایک مسلمان،صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ان تمام فضائل و خصائل اور مناقب کا اقرار و اعتراف کرتا ہے جو کتاب و سنت میں وارد ہیں،مثلاً:ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کی شان و فضیلت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو اُس وقت جب وہ ہلنے لگا تھا،مخاطب کر کے فرمایا: ((اُثْبُتْ أُحُدُ!فَإِنَّمَا عَلَیْکَ نَبِيٌّ وَّ صِدِّیقٌ وَّ شَہِیدَانِ))’’احد!ٹھہر جا،تیرے اوپر نبی،صدیق اور دو شہید ہیں۔‘‘[5] سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا:((أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُّوسٰی؟)) ’’کیا تم راضی نہیں کہ تم میرے لیے اُسی طرح ہو جس طرح موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔(علیہما السلام)‘‘ [6] [1]نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((فَاطِمَۃُ سَیِّدَۃُ نِسَائِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ))’’فاطمہ رضی اللہ عنہا جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔‘‘[2] اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا:((إِنَّ لِکُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِیًّا وَّ حَوَارِيَّ الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ)) ’’یقینا ہر نبی کے کچھ خصوصی معاون اور دوست(حواری)ہوتے ہیں۔میرا حواری زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہے۔‘‘[3] حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا:((اَللّٰہُمَّ إِنِّي أُحِبُّہُمَا فَأَحِبَّہُمَا)) ’’اے اللہ!میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں،تو بھی ان دونوں سے محبت کر۔‘‘[4] عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے لیے ارشاد ہوا:((إِنَّ عَبْدَاللّٰہِ رَجُلٌصَالِحٌ))’’عبداللہ نیک آدمی ہے۔‘‘[5] زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے حق میں فرمایا:((أَنْتَ أَخُونَا وَ مَوْلَانَا))’’تم ہمارے بھائی اور دوست ہو۔‘‘[6] جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:’أَشْبَہْتَ خَلْقِي وَ خُلُقِي‘ ’’تم صورت اور اخلاق میں میرے مشابہ ہو۔‘‘[7] بلال بن رباح حبشی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:((سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَیْکَ بَیْنَ یَدَيَّ فِي الْجَنَّۃِ)) ’’میں نے تیرے جوتوں کی آہٹ بہشت میں اپنے آگے سنی ہے۔‘‘[8] سالم مولیٰ ابی حذیفہ،عبداللہ بن مسعود،ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم کے بارے میں لوگوں کو حکم دیا:’اِسْتَقْرِئُ وا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَۃٍ:مِنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ،وَ سَالِمٍ مَوْلٰی أَبِي حُذَیْفَۃَ،وَ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ،وَ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ‘ ’’چار آدمیوں سے قرآن سیکھو(یعنی)عبداللہ بن مسعود،سالم مولیٰ ابی حذیفہ،ابی بن کعب اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہم سے۔‘‘[9] ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے حق میں فرمایا:((فَضْلُ عَائِشَۃَ عَلَی النِّسَائِ کَفَضْلِ الثَّرِیدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ)) ’’عائشہ رضی اللہ عنہا کی برتری عورتوں پر ایسے ہے،جیسے ثرید(کھانے)کی برتری تمام کھانوں پر ہے۔‘‘[1] انصار کی شان میں فرمایا:((لَوْ أَنَّ الْأَنْصَارَ سَلَکُوا وَادِیًا أَوْ شِعْبًا لَّسَلَکْتُ فِي وَادِي الْأَنْصَارِ،وَ لَوْ لَا الْہِجْرَۃُ لَکُنْتُ امْرَئً ا مِّنَ الْأَنْصَارِ)) ’’اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انھی کی وادی میں چلوں گا اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک فرد ہوتا۔‘‘[2] نیز فرمایا:’اَلْأَنْصَارُ لَا یُحِبُّہُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ،وَلَا یُبْغِضُہُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ،فَمَنْ أَحَبَّہُمْ أَحَبَّہُ اللّٰہُ،وَ مَنْ أَبْغَضَہُمْ أَبْغَضَہُ اللّٰہُ‘ ’’انصار سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی ان سے بغض رکھتا ہے۔جو ان سے محبت کرے گا،اللہ اسے اپنا محبوب بنا لے گا اور جو ان سے بغض و عداوت رکھے گا،اللہ اس سے بغض و عداوت رکھے گا۔‘‘[3] سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا:’اِہْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ‘ ’’سعد بن معاذ(رضی اللہ عنہ)کی موت پر عرش بھی جنبش میں آ گیا۔‘‘[4] سیدنا اسید بن حضیراورعَبَّاد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے تاریک رات میں باہر نکلے تو ان کے آگے آگے روشنی ہو گئی جس میں یہ دونوں چلتے رہے۔جب الگ الگ راستہ پر چلنے لگے تو روشنی بھی دو حصوں میں بٹ گئی۔اس میں ان دونوں کی منقبت اور فضیلت ہے۔[5] سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ((إِنَّ اللّٰہَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَیْکَ قَالَ:لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَسَمَّانِي؟ قَالَ:نَعَمْ:فَبَکٰی)) ’’اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ سورئہ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ تجھے پڑھ کر سناؤں۔‘‘ ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی:اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ہاں!‘‘ تو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔‘‘[6] سیدنا خالد بن ولید صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ نے درج ذیل اعزاز سے نوازا:((سَیْفٌ مِّنْ سُیُوفِ اللّٰہِ))’’یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے۔‘‘[7] حسن رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا:’اِبْنِي ہٰذَا سَیِّدٌ،وَلَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُّصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ‘ ’’ میرا یہ بیٹا سردار ہے۔امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا۔‘‘[1] سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اعلان ہوا:’إِنَّ لِکُلِّ أُمَّۃٍ أَمِینًا،وَ إِنَّ أَمِینَنَا أَیَّتُہَا الْأُمَّۃُ!أَبُو عُبَیْدَۃَ بْنُ الْجَرَّاحِ‘ ’’ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اے امت کے لوگو!ہمارے امین ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘[2] ٭ ایک سچا مسلمان ان کی برائیوں کے تذکرے سے احتراز کرتا اور ان کے باہمی منازعات و مشاجرات(جنگوں)کے بارے میں گفتگو کرنے سے گریز کرتا اور خاموشی اختیار کرنے کو ضروری سمجھتا ہے۔[3] اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے:’لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي‘ ’’میرے صحابہ کو گالی نہ دو۔‘‘[4] نیز فرمایا:’لَا تَتَّخِذُوہُمْ غَرَضًا بَعْدِي‘ ’’ میرے بعدانھیں(عیب و برائی کا)نشانہ مت بنانا۔‘‘[5] نیز ارشاد ہوا:’مَنْ آذَاہُمْ فَقَدْ آذَانِي،وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَی اللّٰہَ،وَ مَنْ آذَی اللّٰہَ یُوشِکُ أَنْ یَّأْخُذَہُ‘ ’’جس نے ان(صحابہ رضی اللہ عنہم)کو ایذا دی،اس نے مجھے ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی،اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی قریب ہے کہ وہ اسے پکڑ لے۔‘‘[6] ٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی عزت و احترام ایک مومن کے ایمان کا حصہ ہے۔علاوہ ازیں ان کی بابت یہ عقیدہ رکھنا بھی ضروری ہے کہ وہ پاک اور ہر طرح کے الزامات سے مبرا ہیں۔اور یہ کہ ان میں افضل خدیجہ بنت خویلد اور عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہم ہیں۔نیز قرآنِ پاک میں ارشادِ عالی ہے:﴿النَّبِيُّ أَوْلَىٰ بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ ۖ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ ’’ایمان والوں پر نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)کا استحقاق ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ ہے اور آپ(صلی اللہ علیہ وسلم)کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔‘‘[1]