حدود کا بیان
ساحر(جادوگر)کا بیان
٭ ساحر کی تعریف:
جو سحر اور جادو سکھاتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے وہ ساحر اور جادو گر ہے۔
٭ جادوگر کا حکم:
اس کے عمل کو دیکھا جائے کہ اگر اس کے اعمال و اقوال میں کفریہ باتیں ہیں تو اسے قتل کر دیا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَۃٌ بِالسَّیْفِ))’’جادوگر کی حد،اسے تلوار کے ساتھ قتل کرنا ہے۔‘‘[2]
اگر اس کے اقوال و اعمال میں(بظاہر)کفریہ امور نہیں ہیں تو اس کو تعزیری سزا دی جائے اور توبہ کے لیے کہا جائے۔توبہ کر لے تو بہتر،ورنہ وہ قتل کر دیا جائے تاکہ دوسرے لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں اور اس لیے بھی کہ یہ کسی نہ کسی فعل اور قول میں کفر کا مرتکب ضرور ہوتا ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ﴾’’اور وہ کسی کو جادو سکھاتے ہیں تو پہلے یہ کہتے ہیں کہ ہم تو آزمائش ہیں تو کفر نہ کر۔‘‘[3]
٭ منافق اور زندیق میں فرق یہ ہے کہ منافق اسلام کے صحیح عقائد و اعمال کا اظہار کرتا ہے مگر اس کے دل میں تصدیق و ایمان کی دولت نہیں ہوتی جبکہ زندیق بعض خلاف اسلام عقائد و اعمال کو دل و جان سے قبول کرتا اور ان کی دعوت دیتا ہے اور اپنے مسلمان ہونے پر اصرار بھی کرتا ہے،حالانکہ ان عقائد و اعمال کی وجہ سے اس کا اسلام سے رشتہ کٹ چکا ہوتا ہے۔واللہ اعلم(ع،ر)
اور ارشاد عالی ہے:﴿وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴾
’’اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ جو اس جادو کو خریدتا(اپناتا)ہے،اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔‘‘[1]