حدود کا بیان

بطور حد کن لوگوں کو قتل کیا جائے گا؟

٭ مرتد کی تعریف: دین اسلام ترک کر کے کسی دوسرے دین،مثلاً:نصرانیت،یہودیت یا لادینیت،مثلاً:الحاد اور اشتراکیت کو اپنانے والا مرتد ہے،جبکہ وہ عاقل ہے اور اس نے یہ تبدیلی کسی جبر کے بغیر اپنے ارادہ و اختیار سے کی ہے۔ ٭ مرتد کا حکم: مرتد کو اسلام میں واپس آنے کی تین دن تک دعوت دی جائے اور اس بارے میں سختی کی جائے،اگر وہ اسلام میں واپس آ جائے تو بہتر،ورنہ اسے بطور حد تلوار کے ساتھ قتل کر دیا جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَنْ بَدَّلَ دِینَہُ فَاقْتُلُوہُ‘ ’’جو اپنا دین تبدیل کرے،اسے قتل کر دو۔‘‘[1] اور آپ کا ارشاد ہے:((لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیئٍ مُّسْلِمٍ یَّشَھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنِّي رَسُولُ اللّٰہِ إِلَّا بِإِحْدٰی ثَلَاثٍ:الثَّیِّبُ الزَّانِي،وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ،وَالتَّارِکُ لِدِینِہِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَۃِ)) ’’تین چیزوں کے بدلے ہی میں کسی مسلمان کا خون حلال ہوجاتا ہے:شادی شدہ زانی،جان کے بدلے جان اور اپنا دین ترک کرکے جماعت٭ سے جدا ہونے والا۔‘‘[2] ٭ قتل کے بعد مرتد کا حکم: قتل کے بعد اسے غسل نہ دیا جائے،اس پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے،مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے اور مسلمان ورثاء اس کا مال تقسیم نہ کریں بلکہ اس کا سارا ترکہ مسلمانوں کے لیے ہے جسے امت کے مصالح میں خرچ کیا جائے گا۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ ۖ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ﴾ ’’اور ان میں سے اگر کوئی مر جائے تو آپ(اس کا)جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں،انھوں نے اللہ اور اس کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کا انکار کیا ہے اور اس حال میں مرے ہیں کہ اللہ کے حکم سے نکل چکے ہیں۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((لَا یَرِثُ الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ،وَلَا الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ)) ’’کافر مسلمان کا اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہے۔‘‘[4] ٭ موجب کفر اقوال و عقائد کا بیان: جو اللہ سبحانہ و تعالیٰ یا اس کے رسولوں میں سے کسی رسول یا فرشتوں میں سے کسی فرشتے کو گالی دیتا ہے،وہ کافر ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت یا الوہیت کا انکار کرنے والا،اسی طرح انبیاء و رسل علیہم السلام میں کسی ایک رسول کا منکر بھی کافر ہے،جبکہ وہ شخص بھی کافر ہے جو ہمارے سردار خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ٭ یعنی جماعت صحابہ(رضی اللہ عنہم)کے عقائد و اعمال سے انحراف کرنے والا کیونکہ صحیح اسلام وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا،نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تعلیم دی اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے سمجھا،اپنایا اور پھیلایا۔(ع،ر) کسی نئے نبی کی آمد کا قائل ہو۔٭ شریعت کے اجماعی فرائض میں سے کسی فریضہ،مثلاً:نماز،زکاۃ،روزہ،حج،اطاعت والدین اور جہاد کا انکار کرنے والا کافر ہے۔شریعت میں ثابت شدہ حرام کام جس کی حرمت پر اجماع ہے،کو مباح(جائز)سمجھنے والا،مثلاً:زنا،شراب پینا،چوری،قتل نفس اور جادو وغیرہ کو جائز سمجھنے والا کافر ہے۔قرآن کی کسی سورت،آیت یا ایک حرف کا منکر بھی کافر ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی صفات میں سے کسی صفت،مثلاً:اس کے حیّ،قیوم،علیم،سمیع،بصیر اور رحیم ہونے کا جس نے انکار کیا،وہ کافر ہے۔دین کے فرائض و سنن کا استخفاف کرنے والا،انھیں حقیر اور گھٹیا سمجھنے والا،قرآن پاک کو غلاظت کی جگہ پھینکنے والا،اسے پاؤں کے نیچے روندنے والا اور اس کی توہین و حقارت کا مرتکب بھی کافر ہے۔جو کوئی موت کے بعد اٹھنے اور قیامت کے دن کے عذاب و انعام کا انکار کرے اور یہ سمجھے کہ یہ سب معنوی چیزیں ہیں،وہ کافر ہے۔اور جو یہ باور کرائے کہ اولیائے کرام رحمۃ اللہ علیہم،انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں یا بڑے بڑے اولیاء کو عبادت معاف ہے،وہ کافر ہے۔ مذکورہ احکام مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہیں اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد بھی ہے: ﴿قُلْ أَبِاللّٰهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ﴿٦٥﴾لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ﴾ ’’کہہ دو:کیا اللہ،اس کی آیات اور اس کے رسولوں کا تم مذاق اڑاتے تھے۔معذرت نہ کرو،تم نے ایمان کے بعد کفر کیا ہے۔‘‘[1] اس آیت مبارکہ سے واضح ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات،صفات،شریعت اور رسولوں کا استہزا و استخفاف کرنے والا کافر ہے۔ ٭ مذکورہ اقوال وعقائد کی وجہ سے کافر قرار پانے والے شخص کا حکم: اسے اولاً توبہ کرنے کو کہا جائے،اگر اپنے قول و عقیدہ سے توبہ کر لے تو بہتر،ورنہ اسے قتل کر دیا جائے اور موت کے بعد اس کا حکم مرتد والا ہے۔علماء فرماتے ہیں:اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور سب و شتم کا مرتکب فورًا قتل کر دیا جائے،اسے توبہ کے لیے بھی نہ کہا جائے۔جبکہ چند دیگر علماء کے نزدیک اسے توبہ کے لیے کہا جائے توبہ کرلے تو قبول کی جائے،نیز وہ دوبارہ((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰہِ))کا اقرار کرے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے معافی کا طلبگار بنے اور سچی توبہ کرے۔ ٭ یعنی یہ عقیدہ رکھے کہ آپ کے بعد کسی اور شخص کو بھی نبوت ملی ہے۔یاد رہے کہ قیامت کے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے،وہ نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں بلکہ بہت پہلے تاج نبوت پہنا کر بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیے گئے جب وہ نازل ہوں گے تو نبی اور رسول کی حیثیت سے نہیں بلکہ عادل حکمران کے طور پر اور نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کر نازل ہوں گے اور خالصتاً دین محمدی کی اطاعت کریں گے اور اسی کو نافذ کریں گے۔(ع،ر) تنبیہ:کسی کی دھمکی یا ڈر سے ’’کلمۂ کفر‘‘ کہنے والا،جس کا دل ایمان پر مطمئن ہو،مسلمان ہے،اس کے ذمے کچھ بھی نہیں ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَـٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا﴾ ’’مگر جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو(اس پر مؤاخذہ نہیں ہے)اور لیکن جو کفر کے لیے سینہ کھول دیتا ہے(اس پر مؤاخذہ ہے)۔‘‘ [1]