نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
ذوی الارحام کی وراثت کے احکام و مسائل
٭ ذوی الارحام کون ہیں ؟
ذوی الارحام ان قرابت داروں کو کہا جاتا ہے جو نہ اصحاب الفروض سے ہوں اور نہ ہی عصبہ سے،جیسا کہ ماموں،خالہ،پھوپھی،چچا کی بیٹی،بھانجا،بھانجی اور بیٹی کی اولاد اور اسی طرح کے دیگر قرابت دار جو وارث نہیں ہوتے،اس لیے کہ یہ رشتے دار نہ تو اصحاب الفروض میں سے ہیں اور نہ عصبات میں سے۔
٭ ذوی الارحام کی وراثت کا حکم:
ان کے وارث ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم،تابعین اور ائمہ رحمۃ اللہ علیہم ان کی وراثت کے قائل نہیں،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان کو وارث نہیں بنایا بلکہ وراثت اصحاب الفروض اور عصبات میں منحصر کی ہے۔امام مالک رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی ان آئمہ میں شامل ہیں جو انھیں وارث نہیں گردانتے،البتہ بعض علماء ان کی وراثت ثابت کرتے ہیں جن میں امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ شامل ہیں۔ان کا استدلال ان آثار سے ہے جن سے ذوی الفروض و عصبات کی عدم موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض ذوی الارحام کو وارث بنانا ثابت ہے۔جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’اَلْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَّا وَارِثَ لَہُ‘’’ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں۔‘‘[1]
٭ راجح مذہب:
ان فقہاء کا مذہب راجح ہے جو ذوی الارحام کو وارث قرار دیتے ہیں۔یہی و جہ ہے کہ بعد کے بہت سے مالکی اور شافعی فقہاء بھی اس کے قائل ہو گئے ہیں،اس لیے کہ ذوی الارحام سے ہونا بھی ایک قرابت ہے اور ان سے دوسرا تعلق اسلام کا بھی ہے،جبکہ بیت المال کے ساتھ،مرنے والے کا صرف ایک تعلق’’اسلامی‘‘ ہے۔مزید برآں بیت المال کے بارے میں کچھ شرائط ہیں:اوّل بیت المال کا انتظام درست ہو۔دوم بیت المال کا محافظ عادل اور دیانت دار ہو۔سوم ان کے اخراجات مسلمانوں کے مفاد عامہ کے لیے ہوں۔لیکن ان شرائط کے فقدان کی و جہ سے بیت المال کی بجائے ذوی الاحارم کو وارث بنایا جانا متعین ہے۔
٭ ذوی الارحام کی وراثت کا ضابطہ:
جس رشتہ دار(اصحاب الفروض یا عصبہ)کی وساطت سے ان کا رشتہ بنا ہے،اس کی عدم موجودگی میں ذوی الارحام کو اسی کا حصہ دیا جاتا ہے،مثلاً:ایک شخص فوت ہو گیا اور بیٹی کی بیٹی(نواسی)اور بہن کا بیٹا(بھانجا)چھوڑ گیاتو ترکہ ان کے مابین نصف نصف تقسیم ہو گا،اس لیے کہ یہی ان کی ماؤں،یعنی میت کی بیٹی اور بہن کا حصہ تھا کیونکہ بیٹی کا حصہ نصف مقرر ہے اور بہن کا حصہ بھی نصف مقرر ہے جو کہ ان کی عدم موجودگی میں ان کی بیٹیاں لے لیں گی۔
اگر ہم فرض کرتے ہیں کہ مذکورہ صورت میں نواسی کے ساتھ حقیقی بہن کی بیٹی ہے اور پدری بھائی کی بیٹی ہے تو پدری بھائی کی بیٹی کو کچھ نہیں ملے گا،اس لیے کہ اس کا اصل،یعنی پدری بھائی حقیقی بہن کی موجودگی میں محجوب ہے اور ترکہ نواسی اور بھانجی میں برابر تقسیم ہو گا۔صورت مسئلہ یوں ہے۔
2
نواسی 1
بھانجی 1
پدری بھائی کی بیٹی محروم
ایک عورت فوت ہو گئی اور حقیقی بہن کی بیٹی،پدری بہن کی بیٹی،مادری بہن کا بیٹا اور حقیقی چچا کی بیٹی چھوڑ گئی۔اس صورت میں سدس کی وجہ سے مسئلہ چھ سے بنے گا۔حقیقی بہن کی بیٹی اپنی ماں کا حصہ،یعنی نصف لے گی،اور پدری بہن کی بیٹی تکملۃ للثلثین کے قاعدہ کے مطابق چھٹا حصہ لے گی،جو کہ اس کی ماں کا حصہ تھا،جس کی جگہ یہ شمار ہوتی ہے اور مادری بہن کے بیٹے کو چھٹا حصہ دیا جائے گا،جو کہ اس کی ماں کا مقررہ حصہ تھا اور باقی چچا کی بیٹی کو ملے گا،جو کہ عصبہ ہونے کی حیثیت سے اس کے باپ کا حصہ ہے۔صورت مسئلہ یہ ہے۔
6
حقیقی بہن کی بیٹی 3
پدری بہن کی بیٹی 1
مادری بہن کا بیٹا 1
حقیقی چچا کی بیٹی 1
ایک اور مسئلہ:
ایک شخص فوت ہوگیا اور نواسی،حقیقی بھانجا،مادری بھانجا اور پدری بھتیجی چھوڑ گیا۔
اس صورت میں نواسی اپنی ماں کی وراثت نصف ترکہ لے گی اور حقیقی بھانجا اپنی ماں کا حصہ باقی نصف لے گا اور مادری بہن کے بیٹے کو کچھ نہیں ملے گا۔اس لیے کہ اس کی ماں(اخت لام)صلبی بیٹی کی موجودگی میں محروم ہوتی ہے۔اسی طرح پدری بھائی کی بیٹی بھی محروم ہے،اس لیے کہ حقیقی بہن پدری بھائی کے لیے حاجب ہے،ان کی فروع(شاخوں)میں بھی یہی ضابطہ جاری ہو گا۔
2
نواسی 1
حقیقی بھانجا 1
مادری بھانجا ۔
پدری بھتیجی ۔
ایک اور مسئلہ:
ایک شخص فوت ہو گیا اور ایک خالہ اور ایک پھوپھی چھوڑ گیا۔اس مسئلہ میں خالہ کے لیے ایک تہائی ہے،اس لیے کہ میت کی ماں جس کی وجہ سے خالہ حصہ لے رہی ہے،کے لیے بھی تہائی تھا اور باقی دو تہائی پھوپھی کا حق ہے،اس لیے کہ یہ میت کے باپ کی نسبت سے وارث ہے جو کہ عصبہ کی حیثیت سے باقی کا مستحق تھا۔[1]
3
خالہ 1
پھوپھی 2
تنبیہات:
1: ذوی الفروض اور عصبہ کی موجودگی میں ذوی الارحام وارث نہیں ہوتے،اس لیے کہ اصحاب الفروض کے حصص سے جو بچ جاتا ہے،وہ بھی ان کے فروض کے مطابق ان پر رد کر دیا جاتا ہے،اِ لَّا یہ کہ ذوی الفروض میں فقط خاوند یا بیوی ہو تو باقی ان پر رد نہیں ہوتا بلکہ ذوی الارحام کو دے دیا جاتا ہے۔مثلاً:ایک شخص فوت ہو گیا اور مادری یا پدری بھائی اور پھوپھی چھوڑ گیا۔اس صورت میں کل ترکہ اس کا مادری یا پدری بھائی لے گا،پھوپھی چونکہ ذوی الارحام سے ہے،لہٰذا اسے کچھ نہیں ملے گا۔اسی طرح ایک شخص ماں اور خالہ چھوڑ گیا تو کل ترکہ بطور فرض و رد ماں کو ملے گا،خالہ محروم رہے گی۔ہاں اگر کوئی شخص بیوی اور بھائی کی بیٹی چھوڑ گیا تو بیوی کو چوتھا حصہ ملے گا اور باقی بھائی کی بیٹی کا ہے،اس لیے کہ اسے اس کے باپ،یعنی میت کے بھائی کے قائم مقام قرار دیا گیا جو کہ عصبہ ہے اور اصحاب الفروض سے بچا ہوا سب سمیٹ لیتا ہے۔
2: متفرق ذوی الارحام کے اجتماع کی صورت میں اصحاب الفروض اور عصبات کی طرح اقرب(قریب ترین رشتہ دار)ابعد(دور کے رشتہ دار)کے لیے حاجب ہو گا،جیسے سگا بھائی،باپ کی وجہ سے محروم ہو جاتا ہے۔البتہ درجہ و قرب میں برابری کی صورت میں ایک دوسرے پر برتری نہیں ہو گی بلکہ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾کے قاعدے کے مطابق ان پر جائیداد تقسیم ہو گی،مثلاً:ایک شخص فوت ہو گیا اور نواسی،نواسی کی بیٹی اور نواسی کا بیٹا چھوڑ گیا تو کل مال نواسی کا ہے،اس لیے کہ وہ اقرب ہے اور باقی محروم ہیں کیونکہ وہ میت سے نواسی کی نسبت ابعد ہیں۔
ایک اور مثال:کوئی شخص حقیقی اور پدری بھتیجی چھوڑ کر مر گیا تو کل مال حقیقی بھتیجی لے گی،اس لیے کہ اس کا باپ دوسری کے باپ(پدری بھائی)کے لیے حاجب ہے۔معلوم ہوا کہ وہ جس کے قائم مقام ہوتا ہے،وہ اسی کا حکم لیتا ہے۔چنانچہ وارث بننے یا محروم ہونے میں وارث کے واسطے والا وارث ہے اور غیر وارث کے واسطے والا وارث نہیں ہے،مثلاً:ایک شخص فوت ہو گیا اور پوتی کی بیٹی اور نواسے کا بیٹا چھوڑ گیا۔توکل مال پوتی کی بیٹی لے گی۔نواسے کا بیٹا محروم ہے،اس لیے کہ یہ دونوں اگرچہ درجہ میں برابر ہیں کہ ہر ایک میت تک دو واسطوں سے مل جاتا ہے مگر پوتی کی بیٹی وارث کی اولاد ہے،لہٰذا وہ وارث ہے اور نواسے کا بیٹا چونکہ غیر وارث کی اولاد ہے،لہٰذا وہ محروم ہے،اس لیے کہ پوتی وارث ہے اور نواسہ وارث نہیں ہے۔