نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

حمل،مفقود(گم شدہ)غرق شدہ،اور دیگر حادثات میں ہلاک شدگان کی وراثت کا بیان

٭ حمل کی وراثت کا بیان: ورثاء اگر تقسیم مؤخر کر دیں اور وضع حمل کے بعد تقسیم جائیداد کریں تو انھیں اس کا اختیار حاصل ہے اور اگر جلدی تقسیم کرنا چاہیں تو ورثاء کو(جو حمل کے لڑکا یا لڑکی ہونے کی صورت میں متاثر ہو سکتے ہیں)ان کا کم تر یقینی حصہ دیا جائے گا۔باقی حصہ موقوف ہو گا اور اس بارے میں خنثیٰ کے مسئلہ کا طریق عمل اپنایا جائے گا اور باقی کو موقوف قرار دیا جائے گا۔وضع حمل کے بعد حسب استحقاق ادائیگی ہو جائے گی۔اس کی مثال حسب ذیل ہے: ایک شخص فوت ہو گیا اور ایک حاملہ بیوی چھوڑ گیا(اور کوئی اولاد نہیں)۔حمل کے زندہ پیدا ہونے کی صورت میں وہ آٹھویں حصہ کی مالک ہے،اور مردہ پیدا ہونے کی صورت میں چوتھائی کی حق دار ہے۔اب اسے آٹھواں حصہ جو یقینی ہے،دیا جائے گا اور صورت حال کے واضح ہونے پر باقی موقوف کا فیصلہ ہو گا۔اگر اس عورت نے زندہ بچے کو جنم دیا تو اس صورت میں اسے مزید کچھ نہیں دیا جائے گا اور اگر مردہ بچے کو جنم دیا تو اسے کل میراث کا چوتھائی حصہ مکمل دیا جائے گا جو اولاد نہ ہونے کی صورت میں اس کا حق بنتا تھا۔ ٭ گم شدہ وارث: اگر کوئی شخص مر جائے اور ورثاء میں سے کوئی ایک وارث گم ہے اور ورثاء گم شدہ کی موت یا زندگی کے یقین ہونے سے پہلے جائیداد تقسیم کرنا چاہیں تو انھیں کم تر یقینی حصہ دیا جائے گا،جیسا کہ حمل میں ہوا تھا اور باقی مفقود کی موت یا زندگی کے فیصلہ کے بعد مستحقین کو حسب استحقاق دیا جائے گا۔اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص فوت ہو گیا اور دو بیٹے چھوڑ گیا،ان میں سے ایک غائب ہے۔موجود بیٹا فی الحال اپنا حصہ نصف ترکہ لے گا اور باقی موقوف ہو گا۔مفقود کی موت یا زندگی کے تحقق کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک اور مثال:ایک شخص فوت ہو گیا اور بیوی،ماں اور دو بھائی چھوڑ گیا اور بھائیوں میں سے ایک مفقود ہے۔بیوی کو چوتھا حصہ دیا جائے گا کہ گم شدہ کے وجود و عدم سے اس کا حصہ متاثر نہیں ہوتا اور ماں کو چھٹا یقینی حصہ دیا جائے گا اور بھائی کو باقی کا نصف(سات)دیا جائے گا،اس لیے کہ یہی اس کا یقینی حصہ ہے اور باقی موقوف ہو گا اور اگر گم شدہ وارث زندہ ثابت ہوا تو موقوف حصہ لے گا اور اگر اس کی موت کا پتہ چل گیا تو باقی سے ماں کو تہائی مکمل کر کے بقیہ(تین)کا مالک بھائی ہو گا۔ مسئلہ بارہ اور تصحیح چوبیس سے ہو گی،صورت تقسیم نقشہ میں واضح ہے(ٹیبل:24) 1 2 12 24 12 24 بیوی 3 6 3 6 ماں 2 4 4 4 بھائی 7 7 5 7 بھائی 7 . . ملاحظات: 1: صورت مسئلہ کے حل میں دو تصحیح کی گئی ہیں۔ایک میں مفقود زندہ تصور کیا گیا تو تصحیح چوبیس سے ہوئی کیونکہ دونوں بھائیوں پر سہام میں کسر واقع ہوئی ہے اور دوسری تصحیح مفقود کو میت قرار دے کر بارہ سے کی گئی۔ 2: جب ہم نے دونوں تصحیح کے مابین نسبت پر غور کیا تو توافق بنصف السدس(بارہ)ہوئی۔تصحیح اول(24)کا وفق(2)تصحیح ثانی پر درج کیا اور تصحیح ثانی(12)کا وفق(1)تصحیح اول پر لکھا۔جب مقام تصحیح کو ضرب دی تو چوبیس حاصل ہوئے جسے جامعہ اخیرہ میں درج کیا،اور یہی جامعہ تصحیح ہے۔ 3: مفقود کی حیات جن ورثاء کے حق میں نقصان دہ تھی،ان کو کم تر دینے کی خاطر ہم نے یہ عمل اختیار کیا کہ زوجہ کو تصحیح سے جو(چھ)ملے تھے،اسے ایک سے ضرب دی تو چھ ہی رہے،جنھیں اس کے سامنے جامعہ تصحیح کے خانہ میں درج کر دیا۔اس طرح ماں کو تصحیح سے جو(چار)ملے تھے،اسے بھی ایک سے ضرب دی تو چار اس کے خانہ میں درج کر دیے اور بھائی کے سات کو حسب سابق ایک سے ضرب دی تو سات ہی ہوئے،جو جامعہ تصحیح کے تحت بھائی کے خانہ میں لکھ دیے۔ 4: چوبیس میں سے سترہ سہام مجموعی طور پر جامعہ تصحیح میں درج ہو گئے،باقی سات سہام مفقود کی موت و حیات کے فیصلہ تک موقوف رہے۔اگر زندہ ہوا تو اسے یہ سات سہام مل جائیں گے،وگرنہ چار ماں کو ملیں گے،جس سے اس کے آٹھ ہو جائیں گے،جو کل مال کی تہائی اور اس کا استحقاق ہے اور باقی موجود بھائی کو مل جائیں گے،جس سے اس کے کل سہام دس ہو جائیں گے اور یہی مقصود ہے۔ ٭ پانی میں ڈوبنے والے: جب ایک سے زائد افراد پانی میں بیک وقت غرق ہوں یا کسی اور حادثہ کا شکار ہوں،مثلاً:عمارت کے نیچے آ کر ہلاک ہوں یا آگ میں جل جائیں یا ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہوں اور کسی کی موت کی تقدیم و تاخیر کا علم نہ ہو سکے تو حکم یہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے بلکہ زندہ افراد ہی اپنے مرنے والوں کے وارث ہوں گے۔اس کی مثال یہ ہے کہ کسی حادثہ میں دو بھائی فوت ہو گئے اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ پہلے کون فوت ہوا ہے۔ان میں سے ایک اپنے پیچھے بیوی،بیٹی اور چچا چھوڑ گیا،جبکہ دوسرا دو بیٹیاں اور مذکور چچا چھوڑ گیا تو دونوں کی جائیداد کے وارث مذکور ورثاء ہیں۔یہ بھائی ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔پہلی صورت میں بیوی آٹھواں حصہ لے گی،بیٹی نصف اور باقی چچا لے گا اور دوسری صورت میں دو تہائی اس کی دونوں بیٹیاں لیں گی اور باقی تہائی اس کا چچا لے گا۔