نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

حجب کا بیان

٭ حجب کی تعریف: کسی وارث کو کل یا بعض حصے سے محروم کر دینا حجب کہلاتا ہے۔ ٭ حجب کی اقسام: حجب کی دو اقسام ہیں: ٭ حجب نقصان: کسی وارث صاحب فرض کو بڑے معین حصے سے چھوٹے معین حصے کی طرف منتقل کرنا یا اصحاب الفروض کی فہرست سے نکال کر عصبہ کی فہرست میں داخل کر دینا یا عصبہ کی صف سے نکال کر اصحاب فروض کی صف میں شامل کر دینا،حجب نقصان کہلاتا ہے۔ حجب نقصان کا باعث مندرجہ ذیل پانچ افراد ہیں: 1: بیٹا اور پوتا نیچے تک:بیٹا اور پوتا نیچے تک،خاوند کو نصف ترکے سے محروم کر کے ربع،یعنی چوتھائی کی طرف اور بیوی کو ربع،یعنی چوتھائی سے محروم کر کے ثمن،یعنی آٹھویں حصے کی طرف،جبکہ باپ اور دادا کو عصبہ کی حیثیت سے محروم کر کے انھیں سدس،یعنی چھٹے حصے کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔ 2: بیٹی:بیٹی ایک پوتی کو نصف سے محروم کر کے سدس،یعنی چھٹے حصے کی طرف،ایک سے زیادہ پوتیوں کو دو تہائی(2/3)سے محروم کر کے چھٹے حصے کی طرف،حقیقی یا پدری بہن کو نصف سے محروم کر کے چھٹے حصے کی طرف،ایک سے زیادہ حقیقی یا پدری بہنوں کو دو تہائی(2/3)سے محروم کر کے عصبہ کی طرف،خاوند کو نصف سے چوتھائی کی طرف،بیوی کو چوتھائی سے آٹھویں حصے کی طرف اور ماں کو تہائی سے چھٹے حصے کی طرف منتقل کر دیتی ہے۔یاد رہے کہ مذکورہ بالا صورتوں میں اصحاب الفروض پر وراثت تقسیم کرنے کے بعد اگر کچھ مال بچ گیا تو بطور عصبہ باپ یا دادا کو دے دیا جائے گا۔ 3: پوتی:پوتی پڑپوتیوں کو،بشرطیکہ ان کے ساتھ مساوی درجے میں ان کا کوئی بھائی یا چچا زاد،یعنی میت کا پڑپوتا نہ ہو،اگر ایک پڑپوتی ہو تو اسے نصف سے محروم کر کے چھٹے حصے کی طرف،اگر ایک سے زیادہ پڑپوتیاں ہوں تو انھیں دو تہائی سے محروم کر کے چھٹے حصے کی طرف،حقیقی یا پدری بہن کو نصف سے عصبہ کی طرف،ایک سے زیادہ حقیقی اور پدری بہنوں کو دو تہائی(2/3)سے عصبہ کی طرف،خاوند کو نصف سے چوتھائی کی طرف،بیوی کو چوتھائی سے آٹھویں حصے کی طرف،ماں کو ایک تہائی سے چھٹے حصے کی طرف اور باپ اور دادا کو عصبہ سے چھٹے حصے کی طرف منتقل کر دیتی ہے۔تاہم اصحاب الفروض سے جو مال بچ جائے گا وہ بطور عصبہ باپ اور اس کی وفات کی صورت میں دادا کو دے دیا جائے گا۔ 4: دو یا زیادہ بھائی:حقیقی،مادری یا پدری ہوں۔ماں کو تہائی(1/3)حصے سے محروم کر کے چھٹے حصے(1/6)کی طرف منتقل کر دیتے ہیں۔ 5: حقیقی بہن:حقیقی بہن،پدری بہن کو،بشرطیکہ پدری بہن کے ساتھ اس کا پدری بھائی،جو اس کے لیے باعث عصبہ ہو،موجود نہ ہو،نصف سے محروم کر کے چھٹے حصے کی طرف اور ایک سے زیادہ پدری بہنوں کو،بشرطیکہ ان کو عصبہ بنانے والا پدری بھائی ان کے ساتھ موجود نہ ہو،دو تہائی(2/3)سے محروم کر کے چھٹے حصے کی طرف منتقل کر دیتی ہے۔ ٭ حجب حرمان: کوئی وارث کسی دوسرے وارث کو اس کے تمام تر حصے سے محروم کر دے جس کا وہ اس کی عدم موجودگی میں وارث تھا،حجب اسقاط یا حجب حرمان کہلاتا ہے۔٭ کلی طور پر محروم کر دینے والے درج ذیل انیس افراد ہیں: 1: بیٹا:بیٹے کی موجودگی میں پوتا،پوتی،بھائی اور چچا مطلقًا محروم ہوتے ہیں۔ 2: پوتا:پوتے کی موجودگی میں اس سے نیچے درجے کے پوتے اور پوتیاں،یعنی پڑپوتے اور پڑپوتیاں محروم ہوتے ہیں،اور بیٹا جن کے لیے حاجب اور مانع(باعث محرومی)ہوتا ہے،بعینہ پوتا بھی ان کے لیے حاجب ہوتا ہے۔ 3: بیٹی:بیٹی کی موجودگی میں بھائی مطلقًا محروم ہوتا ہے۔ 4: پوتی:پوتی کی موجودگی میں بھی مادری بھائی مطلقًا محروم ہوتا ہے۔ ٭ حجب حرمان کا پہلا اصول یہ ہے کہ جب اصل وارث موجود ہو تو اس کے واسطے سے وارث بننے والا محروم ہو گا۔دوسرا اصول یہ ہے کہ جب اقرب(میت سے قریب کا رشتہ رکھنے والا)وارث موجود ہو تو ابعد(دور کا رشتہ رکھنے والا)وارث محروم ہو گا(تفہیمات سراجی از مولانا فضل الرحمن کلیم کاشمیری) 5: ایک سے زیادہ بیٹیاں:ایک سے زیادہ بیٹیوں کی موجودگی میں مادری بھائی مطلقًا محروم ہوتے ہیں،نیز ایک سے زیادہ پوتیاں بھی محروم ہوتی ہیں،بشرطیکہ ان کے ساتھ مساوی درجے میں ان کا کوئی بھائی یا چچا زاد موجود نہ ہو جو انھیں عصبہ بنا دے۔ 6: ایک سے زیادہ پوتیاں:ایک سے زیادہ پوتیوں کی موجودگی میں مادری بھائی اور پڑپوتی یا پڑپوتیاں وارث نہیں ہوتیں،ہاں اگر مساوی درجے میں ان کا کوئی بھائی یا چچا زاد موجود ہو تو وہ عصبہ کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے اور بچے ہوئے مال کے وارث ہوں گے۔ 7: حقیقی بھائی:حقیقی بھائی کی موجودگی میں پدری بھائی اور چچا زاد مطلقًا وارث نہیں ہوتے۔ 8: حقیقی بھائی کا بیٹا:حقیقی بھائی کے بیٹے کی موجودگی میں چچا مطلقًا محروم ہوتا ہے اور اسی طرح پدری بھائی کا بیٹا اور اس سے نیچے بھتیجوں کے بیٹے بھی مطلقًا وارث نہیں ہوتے۔ 9: پدری بھائی:پدری بھائی کی موجودگی میں چچا مطلقًا اور حقیقی اور پدری بھائی کے بیٹے محروم ہوتے ہیں۔ 10: پدری بھائی کا بیٹا:پدری بھائی کے بیٹے کی موجودگی میں چچا مطلقًا اور بھتیجوں کے بیٹے وارث نہیں ہوتے۔ 11: حقیقی چچا:حقیقی چچے کی موجودگی میں پدری چچا،یعنی باپ کا پدری بھائی اور اس سے نیچے کے چچا زاد مطلقًا محروم ہوں گے۔ 12: حقیقی چچا کا بیٹا:حقیقی چچا کا بیٹا پدری چچے کے بیٹے اور پوتوں کو محروم کر دیتا ہے۔ 13: پدری چچا:پدری چچا کی موجودگی میں چچا کے بیٹے مطلقًا محروم ہوتے ہیں۔ 14: حقیقی بہن بیٹی کے ساتھ:حقیقی بہن کے ساتھ اگر بیٹی موجود ہو تو پدری بھائی محروم ہے،اس لیے کہ بیٹی کے ساتھ حقیقی بہن،حقیقی بھائی کے مرتبے میں ہوتی ہے جبکہ حقیقی بھائی کی موجودگی میں پدری بھائی محروم ہوتا ہے۔ 15: حقیقی بھائی پوتی کے ساتھ:حقیقی بھائی کے ساتھ اگر پوتی موجود ہو تو پدری بھائی محروم ہوتا ہے۔ 16: دو حقیقی بہنیں:دو حقیقی بہنوں کے ساتھ پدری بہن وارث نہیں ہوتی،الّا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا بھائی موجود ہو تو وہ عصبہ شمار ہو گی۔خیال رہے کہ مذکورہ بالا صورت میں دو حقیقی بہنوں کے ساتھ پدری بہن اسی مرتبے میں ہو گی جس مرتبے میں،دو بیٹیوں کے ساتھ پوتی ہوتی ہے،لہٰذا جس طرح دو بیٹیوں کی موجودگی میں پوتی محروم ہوتی ہے اسی طرح دو حقیقی بہنوں کی موجودگی میں پدری بہن محروم ہو گی۔ہاں اگر پدری بہن کے ساتھ اس کا ہم مرتبہ بھائی یا چچا زاد ہو تو وہ عصبہ شمار ہو گی۔جس طرح پوتی کے ساتھ اس کا ہم مرتبہ بھائی یا چچا زاد ہو تو وہ عصبہ شمار ہوتی ہے۔ 17: باپ:باپ زندہ ہو تو دادا،دادی،چچا اور بھائی مطلقًا محروم ہو جائیں گے۔ 18: دادا:دادا زندہ ہو تو دادا کا باپ،میت کے مادری بھائی اور چچا مطلقًا محروم ہوتے ہیں،اور اسی طرح بھتیجے بھی وارث نہیں ہوں گے۔ 19: ماں:ماں کی موجودگی میں دادی اور نانی محروم ہیں۔ دادا کے احوال: دادا،بیٹے کی اولاد،چچا اور اس کے بیٹے اور بھتیجوں کی وراثت کی تصریح اگرچہ کتاب اللہ میں وارد نہیں،تاہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرمان میں ان کا وارث ہونا ثابت فرما دیا ہے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِھَا،فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ)) ’’مقررہ حصہ ان کے وارثوں کو دے دو اور جو بچ جائے وہ(بلحاظ رشتہ میت کے)قریب ترین مرد کا ہے۔‘‘[1] علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان﴿يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ﴾’’اللہ تمھیں تمھاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے۔‘‘[2]میں لفظ ’’اولاد‘‘ پوتے،پوتیوں کو بھی شامل ہے۔ بنابریں مندرجہ بالا افراد کی وراثت پر فقہائے امت کا اجماع ہے۔لیکن جب آیت﴿وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ﴾اور فرمان الٰہی﴿وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ﴾میں لفظ ’’اب‘‘ دادا کو بھی شامل ہے،لہٰذا وہ سدس(چھٹا حصہ)لینے میں باپ کی طرح ہے جب میت کا بیٹا یا پوتا موجود ہو یا بیٹے،پوتے کے ساتھ ساتھ بیٹی،پوتی بھی ہو۔اور اگر اکیلا دادا ہو تو وہ کل مال سمیٹ لے گا اور اگر اصحاب الفروض بھی موجود ہوں تو باقی کا بطریق عصبہ مستحق ہو گا،البتہ بھائیوں کے مسئلے میں وہ باپ کے حکم سے مختلف ہے،اس لیے کہ باپ کی موجودگی میں بھائی ساقط ہو جاتے ہیں،جبکہ دادا ان کو محروم نہیں کرتا بلکہ ان کے ساتھ وارث ہوتا ہے کیونکہ دادا اور بھائی میت کے ساتھ درجہء قرابت داری میں برابر ہیں،اس لیے کہ دونوں فریق باپ کے واسطے سے میت سے تعلق رکھتے اور اس کے وارث بنتے ہیں۔ ٭ دادا کے پانچ احوال ہیں: 1: دادا کے ساتھ اگر کوئی اور وارث نہ ہو تو وہ بطور عصبہ کل مال سمیٹ لے گا۔ 2: اس کے ساتھ صرف اصحاب الفروض ہوں تو اس کو بطور فرض چھٹا حصہ الگ ملے گا اور اگر کچھ باقی بچ گیا تو وہ بھی بطور عصبہ اسے دے دیا جائے گا۔ 3: اگر اس کے ساتھ میت کا بیٹا یا پوتا ہو تو اس کو صرف چھٹا حصہ ملے گا بچا ہوا مال بیٹا یا پوتا لے گا کیونکہ وہ عصبہ کی ترتیب میں دادا کی نسبت میت سے زیادہ قریب ہیں۔ 4: اس کے ساتھ اگر صرف میت کے حقیقی یا پدری بھائی ہوں تو کل مال کے تہائی(1/3)یا مقاسمہ میں سے جو حصہ زیادہ ہو،وہ دادا کو دیا جائے گا،تاہم اگر بھائی دو سے یا بہنیں چار سے زیادہ نہ ہوں تو دادا کے لیے(تہائی 1/3 کے بجائے)مقاسمہ بہتر رہے گا۔ 5: اگر اس کے ساتھ بھائی اور اصحاب الفروض ہوں تو درج ذیل میں سے جو بھی اس کے لیے زیادہ اور بہتر ہو گا،اسے دے دیا جائے گا۔ کل ترکے کا سدس(چھٹا حصہ)یا اصحاب الفروض کو دینے کے بعد باقی مال کا ثلث(تہائی)یابھائیوں کے ساتھ(مقاسمہ)باہمی تقسیم۔البتہ اگر پورا ترکہ اصحاب الفروض کے حصے میں تقسیم ہو گیا تو بھائی محروم ہوں گے اور دادا کو صاحب فرض کی حیثیت سے چھٹا حصہ ملے گا،اس صورت میں اگر ورثے میں حصہ داروں کے حصے پورے نہ ہوسکیں تو مسئلے میں عول٭ ہوگا۔ تنبیہ: ٭ مسئلہ معادہ: یہ مسئلہ دراصل ’’مقاسمہ‘‘٭ کی ایک شکل ہے،اگر دادا کے ساتھ حقیقی اور پدری بھائی ہیں تو دادا کو حقیقی بھائی فرض کر لیں گے پدری بھائی حقیقی بھائیوں کے ساتھ مقاسمہ(باہمی تقسیم)٭میں شمار ہوں گے،پھر دادا کو حصہ دے کر پدری بھائی محروم ہو جائیں گے اور پدری بھائی کا حصہ حقیقی بھائی کو مل جائے گا،مثلاً:ایک شخص فوت ہوگیا اور اپنے پیچھے دادا،ایک حقیقی بھائی اور ایک پدری بھائی چھوڑ گیا۔تو افراد کے مطابق ترکہ کے تین حصے ہوں گے۔ایک حصہ دادا لے گا،ایک حقیقی بھائی کا اور ایک پدری کا۔دادا کا حصہ نکالنے کے بعد باقی دونوں حصے حقیقی بھائی کو ملیں گے اور پدری بھائی محروم ہو جائے گا کیونکہ حقیقی بھائی پدری بھائی کو محروم کر دیتا ہے۔ ٭ مسئلہ اکدریہ: ایک عورت،خاوند،ماں،حقیقی یا پدری بہن اور دادا چھوڑ کر فوت ہو گئی،اصل مسئلہ چھ سے بنے ٭ مخرج،یعنی اصل مسئلہ جب اس میں جمع شدہ مقررہ حصوں کے لیے پورا نہ ہو سکے تو سہام میں اضافہ کر دیا جاتا ہے نتیجتاً ہر ذوی الفروض کے مقررہ حصے میں ایک ہی نسبت سے کمی آجاتی ہے۔(عبدالولی) ٭ مقاسمہ:’’تقسیم وراثت میں حقیقی اور پدری بھائیوں کے ساتھ دادا کو حقیقی بھائی فرض کر لینے کا نام ’’مقاسمہ‘‘ ہے۔ ٭ اب یہ کل تین بھائی ہو گئے فرضی حقیقی بھائی(دادا)،اصلی حقیقی بھائی اور پدری بھائی،اصول یہ ہے کہ حقیقی بھائی کی موجودگی میں پدری بھائی محروم ہوتا ہے،لہٰذا کل جائیداد کے دو حصے کیے جائیں نصف حقیقی بھائی لے اور نصف فرضی حقیقی بھائی(دادا)۔لیکن دادا کا حصہ جو کہ نصف بن رہا ہے کم کرنے کے لیے تقسیم وراثت میں حقیقی کے ساتھ ساتھ پدری بھائی کو بھی وارث شمار کیا جائے گا اور مال کے دو کے بجائے تین حصے کیے جائیں گے لیکن جب فرضی حقیقی بھائی(دادا)اپنا حصہ(تہائی)وصول کر لے گا تو پدری بھائی کچھ لیے بغیر درمیان سے نکل جائے گا اور باقی مال(دونوں حصے)حقیقی بھائی وصول کر لے گا،یعنی پدری بھائی صرف دادا کا حصہ کم کرنے کے لیے وارث شمار کیا جائے گا،اسے حصہ دینا مقصود نہیں۔(محمد عبدالجبار) گاکیونکہ اس مسئلے میں سدس(چھٹا حصہ)ہے۔نصف(تین)خاوند کے لیے،تہائی(دو)ماں کا اور نصف(تین)بہن کا اور چھٹا حصہ(ایک)دادا کا ہے۔عول کے بعد کل ترکہ کے چھ کی بجائے نو حصے ہوں گے؟ پھر دادا بہن سے مقاسمے کا تقاضا کرے گا،لہٰذا دادا کا ایک حصہ اور بہن کے تین حصے ملا کر چار حصوں کو بہن اور دادا کے درمیان﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾’’مذکر کو مؤنث سے دوگنا‘‘ کے قاعدے کے مطابق تقسیم کر دیا جائے گا۔٭ اس مسئلے کو الگ طور پر اس لیے ذکر کیا جاتا ہے کہ اصولاً دادا کے ساتھ بہن صا حبۂ فرض نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے بھائی کی طرح عصبہ ہوتی ہے۔مگر اس مسئلہ میں اسے صاحبۂ فرض قرار دے کر نصف ترکہ دیا گیا ہے،اور پھر دونوں(بہن اور دادا)کے حصے ملا کر مقاسمہ کر لیا گیا ہے۔اس صورت میں بہن نصف کی بجائے چھٹے حصے کی اور دادا تہائی کا وارث ہوا برعکس اس کے جو(مقاسمہ سے پہلے)فرض کیا گیا تھا۔اس طرح بہن کا حصہ مکدر ہو کر رہ گیا ہے،یعنی مقرر زیادہ ہوا اور مِلا کم۔٭ فرائض کی تصحیح: ٭ اصول فرائض: اصول فرائض سات ہیں،٭جو درج ذیل ہیں:دو،تین،چار،چھ،آٹھ،بارہ اور چوبیس۔نصف کا اصل دو ہے،ثلث کا تین،ربع کا چار،سدس کا چھ اور ثمن کا اصل آٹھ ہے۔اگر ربع اور سدس(لینے والے اصحاب الفروض)اکٹھے ہوں تو اصل مسئلہ بارہ سے ہو گا اور اگر ثمن،سدس یا ثلث کے ساتھ جمع ہو تو اصل مسئلہ چوبیس سے ہوگا۔ ٭ مثالیں: 1: خاوند اور بھائی:مسئلہ دو سے بنا۔نصف(ایک)خاوند کو ذوی الفرض ہونے کی وجہ سے اور نصف(ایک)بھائی کو بطور عصبہ ملا۔ ٭ علمائے میراث کے ہاں اس مسئلہ کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس مسئلہ کے حل مذکور نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا مسلک مکدر کر دیا ہے کہ ان کا قاعدہ و ضابطہ ٹوٹ گیا ہے یا یہ کہ صحابی مذکور سے اس مسئلہ کو دریافت کرنے والی عورت قبیلہ اکدر سے تعلق رکھتی تھی۔(فاروق صارم) ٭ صورت مسئلہ یوں ہوں گی کہ اصل مسئلہ چھ ہے جو نو کی طرف عول ہوا۔بہن اور دادا پر کے مطابق مقاسمہ کریں تو کسر واقع ہے،نسبت تخالف کی وجہ سے تین کو نو سے ضرب دی تو ستائیس حاصل ہوئے۔ہر وارث کو جو اولاً ملا اسے عدد عول کے اوپر درج شدہ تین سے ضرب دی تو حاصل ضرب اس وارث کا حصہ نکلا،مثلاً:خاوند کو تین حصے ملے تین کو 3 میں ضرب دینے سے حاصل 9 ہے یہ اس کا حصہ ہے ماں کا حصہ 2کو 3 میں ضرب دینے سے حاصل 6 .یہ ماں کا حصہ ہے اس طرح بہن اور دادا دونوں کو کل چار ملے،جب تین سے ضرب دی تو بارہ ہو گئے،اب بارہ دونوں پر کے مطابق تقسیم کیے تو بہن کو چار اور دادا کو آٹھ سہام(حصے)مل گئے۔(فاروق صارم) ٭ تقسیم وراثت کے مسائل میں انھی سات اعداد میں سے کوئی ایک عدد اصل مسئلہ ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس تعداد میں ترکے کے حصے کر لیے جائیں تو تقسیم مکمل ہو جائے گی الا یہ کہ عول،رد یا کسر کی نوبت آئے۔(ع،ر) 2: ماں اور باپ:مسئلہ تین سے بنا۔ماں کو ثلث(ایک)اور باقی(دو)عصبہ کی حیثیت سے باپ کو مل گئے۔ 3: بیوی اور بھائی:مسئلہ چار سے بنا۔چوتھائی(ایک)بیوی کو دیا،جبکہ باقی بھائی بوجۂ عصبہ ہونے کے لے گیا۔ 4: ماں،باپ اور بیٹا:مسئلہ چھ سے بنا،ماں کو سدس(ایک)اور باپ کو سدس(ایک)اور باقی(چار)بحیثیت عصبہ بیٹے کو دیے۔ 5: بیوی اور بیٹا:مسئلہ آٹھ سے بنا،بیوی کو آٹھواں(ایک)اور باقی بیٹے کو عصبہ ہونے کی وجہ سے دے دیے۔ 6: بیوی،ماں اور چچا:مسئلہ بارہ سے ہوا کیونکہ ربع اور ثلث جمع ہوئے ہیں،لہٰذا چوتھا حصہ(تین)بیوی کو ملا اور تہائی(چار)ماں کے اور باقی عصبہ کی حیثیت سے چچا کو مل گئے۔ 7: بیوی،ماں اور بیٹا:ثمن اور سدس کے اجتماع سے اصل مسئلہ چوبیس ہوا تو آٹھواں حصہ(تین)بیوی کو اور چھٹا حصہ(چار)ماں کو،جبکہ باقی ترکہ بیٹے کو عصبہ ہونے کی وجہ سے دے دیا۔