نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان

عصبہ کا بیان

٭ عصبہ کی تعریف: اکیلا وارث ہونے کی صورت میں کل مال سمیٹنے اور اصحاب الفروض کے ہوتے ہوئے ان سے بچ جانے والا مال لینے والے شخص کو عصبہ کہتے ہیں،تاہم اصحاب فرائض کو ان کے حصے ادا کر دینے کے بعد اگر ترکے سے کچھ نہ بچے تو وہ محروم ہو گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِھَا،فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلٰی رَجُلٍ ذَکَرٍ)) ٭ محجوب:وہ وارث جسے کسی دوسرے وارث کی وجہ سے میراث میں سے کچھ بھی نہ ملے یا کم حصہ ملے۔ ’’مقررہ حصہ ان کے وارثوں کو دے دو اور جو بچ جائے وہ(بلحاظ رشتہ میت کے)قریب ترین مرد کا ہے۔‘‘[1] ٭ عصبہ کی اقسام: عصبہ کی تین اقسام ہیں جن کی تفصیل یہ ہے: 1: عصبہ بنفسہٖ:اور وہ حسب ذیل ہیں:باپ،دادا اور اوپر تک(پڑدادا وغیرہ۔)بیٹا،پوتا اور نیچے تک(پڑ پوتا وغیرہ۔)حقیقی بھائی،پدری بھائی،حقیقی یا پدری بھائی کا بیٹا نیچے تک۔باپ کا حقیقی یا پدری بھائی،یعنی میت کا چچاحقیقی یا پدری چچا کا بیٹا نیچے تک۔اسی طرح آزاد کرنے والا،چاہے مرد ہو یا عورت،آزاد کرنے والے کے عصبہ بنفسہٖ اور بیت المال۔٭ 2: عصبہ بغیرہ:وہ عورت ہے جو کسی مرد کی معیت سے عصبہ بنے اور تقسیم میں ’’ایک مرد دو عورتوں کے برابر‘‘ کے قاعدے کے مطابق حصہ دار بنے،مثلاً:حقیقی بہن جبکہ اس کے ساتھ حقیقی بھائی موجود ہو،پدری بہن جب اس کے ساتھ پدری بھائی موجود ہو اور بیٹی،بیٹے،یعنی اپنے بھائی کے ساتھ اور پوتی جبکہ اس کے ساتھ اس کا بھائی،یعنی پوتابھی ہو یا پوتی کسی اور پوتے،یعنی اپنے چچا زاد یا تایا زاد بھائی کے ساتھ،بشرطیکہ پوتی صا حبۂ فرض نہ بن رہی ہو اور اگر وہ حصۂ مقرر کی مستحق بنتی ہو تو اس سے نیچے کا پوتا،یعنی پڑ پوتااسے عصبہ نہیں بنا سکتا۔جیسا کہ اگر کوئی شخص بیٹی،پوتی اور پڑپوتا چھوڑ کر فوت ہو جائے تو اس صورت میں بیٹی کو نصف(1/2)اور پوتی کو سدس(1/6)ملے گا جس کا مجموعہ دو تہائی ہو گا،اور باقی عصبہ ہونے کی وجہ سے پڑپوتے کو ملے گا(پوتی کو مقررہ حصہ(چھٹا)ہی ملا ہے پڑ پوتے کے ساتھ مل کر وہ عصبہ نہیں بنی۔)یا اگر کوئی شخص پوتی اور پڑپوتا چھوڑ کر فوت ہو جائے تو اس صورت میں پوتی کو نصف(1/2)ملے گا،اس لیے کہ یہ اصحاب فروض سے ہے اور باقی نصف عصبہ ہونے کی وجہ سے پڑپوتے کو ملے گا یا اگر کوئی شخص دو پوتیاں اور ایک پڑپوتا چھوڑ کر فوت ہو جائے تو اس صورت میں بطور فرض دو تہائی دونوں پوتیوں کو ملے گا اور باقی عصبہ ہونے کی بنا پر پڑپوتے کا حق ہے۔تاہم پوتی صرف اسی صورت میں حصہ لے گی جب وہ درجے میں پوتے کے برابر ہو،پوتی اور پوتے کا درجہ اسی طرح پڑ پوتی اور پڑپوتے کا درجہ یکساں ہوں چاہے یہ آپس میں چچا زاد ہی ہوں یا اوپر ہو،یعنی میت سے زیادہ قریب ہو،مثلاً:پوتی پڑپوتے کی نسبت میت سے زیادہ قریب ہے،اور درجے میں اس سے نیچے ہونے کی صورت میں وہ محجوب ہو جائے گی اور قطعًا وارث نہیں ہو گی،یعنی بیٹے کی موجودگی میں پوتی اور پوتے کی موجودگی میں پڑپوتی محروم رہے گی۔ 3: عصبہ مع غیرہ:اس سے مراد وہ عورت ہے جو کسی دوسری عورت کی معیت میں عصبہ بنے جیسا کہ ایک یا زیادہ حقیقی بہنیں،ایک یا زیادہ بیٹیوں یا ایک یا زیادہ پوتیوں کے ساتھ مل کر عصبہ مع الغیربن جاتی ہیں۔واضح ہو کہ ان صورتوں میں ٭ بیت المال کا نمبر ذوی الفروض،عصبہ اورذوی الارحام کے بعد آتا ہے۔دیکھیے اسی کتاب کا صفحہ عنوان:ذوی الارحام کی وراثت کا حکم۔ پدری بہن بھی حقیقی بہن کی طرح ہے،نیز ان صورتوں میں بیٹی اور بیٹیوں،پوتی اور پوتیوں کے حصص نکالنے کے بعد جو بچے گا وہ حقیقی یا پدری بہن کو ملے گا،بشرطیکہ وہ اکیلی ہو۔لیکن اگر اس کی دیگر بہنیں بھی ہوں تو وہ سب برابر حصہ دار ہوں گی۔البتہ یہ ملحوظ رہے کہ حقیقی بہن،حقیقی بھائی کی مانند ہے،لہٰذا اس کی موجودگی میں پدری بہن بھائی محروم رہیں گے اور پدری بہن پدری بھائی کی طرح ہے،لہٰذا وہ بھتیجے کے لیے مطلقًا حاجب ہو گی،چنانچہ وہ میراث سے محجوب ہو جائے گا۔ تنبیہ:مشرَّکہ مسئلہ::ایک عورت خاوند،ماں یا جدہ(دادی،نانی)،)مادری بھائیوں اور ایک یا زیادہ حقیقی بھائیوں کو چھوڑ کر فوت ہو جائے تو اس صورت میں اصل مسئلہ چھ سے ہو گا جس میں سے نصف،یعنی تین حصے خاوند کو،چھٹا،یعنی ایک حصہ ماں(یا جدہ)کو اور ایک تہائی،یعنی دو حصے مادری بھائیوں کو ملے گا اور حقیقی بھائی یا بھائیوں کے لیے کچھ نہیں بچتا کیونکہ وہ عصبہ ہیں اور ترکہ کے اصحاب الفروض میں مکمل ہو جانے کی صورت میں عصبہ محروم ہوتے ہیں۔مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجتہاد کر کے حقیقی بھائی یا بھائیوں کو مادری بھائیوں کے حصہ تہائی میں شریک قرار دیا ہے،لہٰذا سب یہی برابر تقسیم کریں گے چونکہ یہ ایک مخصوص صورت ہے جس میں حقیقی بھائی مادری بھائی کی مانند ہے اور عورت کو بھی مرد کے برابر حصہ ملتا ہے،اسی لیے یہ مسئلہ ’’مسئلہ مشترکہ‘‘ ’’مشرَّکہ،حجریہ‘‘ کے مختلف ناموں سے معروف ہے۔اس لیے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب حقیقی بھائیوں کو وراثت سے محروم کیا تو انھوں نے عرض کی کہ آپ فرض کریں کہ ہمارا باپ پتھر یعنی کوئی نہیں ہے،کیا ہماری ماں ایک نہیں ہے۔پھر ہم محروم اور ہمارے(مادری)بھائی وارث کیسے ہو سکتے ہیں۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مطمئن ہو گئے اور ایک تہائی میں حقیقی بھائیوں کو مادری بھائیوں کا شریک قرار دے دیا۔