وسیلے کا بیان
قرآن وسنت سے دلائل
ہر مسلمان یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک اعمال سے راضی ہوتا ہے اور اپنے بندوں میں سے نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس کا تقرب حاصل کریں،اور اسے اپنا محبوب گردانیں،اچھے انسان اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے اپنے اچھے عمل اور پاکیزہ قول کو وسیلہ بناتے ہیں اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ،صفاتِ عالیہ،اس پر ایمان،اور اس سے محبت،اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت،نیکو کار اور عام مومنین سے محبت بھی اللہ کا قرب حاصل کرنے کے ذرائع ہیں۔ایسے ہی فرائض،مثلاً:نماز،زکاۃ،روزہ،حج اور نوافل کے ذریعے سے بھی اس کا تقرب حاصل ہوتا ہے۔اسی طرح ترکِ محرمات اور اجتنابِ منہیات بھی قربِ الٰہی کا باعث ہیں۔
کسی کے جاہ و مرتبے یا دوسرے بندوں کے نیک عمل کو اپنے سوال کا واسطہ نہیں بنانا چاہیے کیونکہ یہ انسان کی اپنی کمائی نہیں ہے کہ اللہ سے اس کا واسطہ دے کر سوال کرے یا اسے وسیلے کے طور پر پیش کر سکے۔بندوں کے لیے اللہ کی شریعت یہ ہے کہ بندے اپنے ایمان اور اعمال کا واسطہ دیں۔کسی دوسرے کے اعمال کو اس میں ذریعہ نہ بنائیں اس عقیدہ و نظریہ کی بنیاد نقلی و عقلی دلائل پر ہے۔
کتاب و سنت سے دلائل:
1: اللہ جل جلالہ نے ہمیں شرعی وسیلے کی خبر دی ہے۔ارشادِ باری ہے:﴿إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ﴾
’’پاک کلمات اسی کی طرف جاتے ہیں اور نیک عمل بھی جسے وہ بلند کر دیتا ہے۔‘‘[1]
ارشادِ الٰہی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا﴾
’’اے(انبیاء و)رسل!پاک و حلال چیزیں کھاؤ اور اچھے عمل کرو۔‘‘[2]
ارشادِ عالی ہے:﴿وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا ۖ إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ﴾
’’اور ہم نے اسے(لوط)اپنی رحمت میں داخل کر لیا ہے،یقینا وہ صالحین میں سے ہے۔‘‘[3]
ارشادِ ربانی ہے:﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ﴾
’’اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف(جائز)وسیلہ تلاش کرو۔‘‘[4]
ارشادِ گرامی ہے:﴿أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ﴾
’’جنھیں یہ پکارتے ہیں،وہ(خود)اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون سااللہ تعالیٰ کا قریب ترین ہے۔‘‘[1]
ایک جگہ فرمایا:﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ﴾
’’کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو،اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھارے گناہ معاف کردے گا۔‘‘[2]
اور فرمایا:﴿رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ﴾
’’اے ہمارے رب!تو نے جو اتارا ہے،ہم اس پر ایمان لائے اورہم نے(تیرے)رسول کی اطاعت کی،لہٰذا ہمیں گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے۔‘‘[3]
مزید فرمایا:﴿رَّبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ﴾
’’اے ہمارے رب!بے شک ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو ایمان کی منادی کر رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ،چنانچہ ہم ایمان لائے۔اے ہمارے رب!ہمارے گناہ بخش دے اور ہماری برائیاں مٹا دے اور ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ موت عطا فرما۔‘‘[4]
نیز فرمایا:﴿وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا ۖ وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ ۚ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
’’اور اللہ ہی کے لیے سب سے اچھے نام ہیں۔پس ان کے ساتھ اُسے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اللہ کے ناموں کے بارے میں کج روی اختیار کرتے ہیں،یہ لوگ اپنے کیے کی عنقریب سزا پائیں گے۔‘‘[5]
فرمانِ عالی شان ہے:﴿وَاسْجُدْ وَاقْتَرِب﴾’’سجدہ کر(اور اللہ تعالیٰ کا)قرب حاصل کر۔‘‘[6]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ارشاداتِ عالیہ میں ہمیں اس کی خبر دی ہے۔آپ نے فرمایا:
’إِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ لَّا یَقْبَلُ إِلَّا طَیِّبًا‘’’بے شک اللہ پاک ہے اور پاک چیز ہی کو قبول کرتا ہے۔‘‘[7]
اور فرمایا:’تَعَرَّفْ إِلَیْہِ فِي الرَّخَائِ یَعْرِفْکَ فِي الشِّدَّۃِ‘ ’’آسانی میں اللہ کی معرفت حاصل کر،شدت میں وہ تجھے جانے گا۔‘‘[8]
حدیث قدسی ہے:’وَ مَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْئٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُہُ عَلَیْہِ،وَ مَا زَالَ عَبْدِي یَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی أَحْبَبْتُہُ‘
’’اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے،ان میں کوئی عبادت مجھے اس عبادت سے زیادہ عزیز نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے اور میرا بندہ نفلی عبادت کر کے مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔‘‘[1]
نیزایک حدیث قدسی میں یوں فرمایا:’وَ إِنَ تَقَرَّبَ شِبْرًا إِلَيَّ تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ ذِرَاعًا،وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَیْہِ بَاعًا،وَ إِنْ أَتَانِي یَمْشِي أَتَیْتُہُ ہَرْوَلَۃً‘
’’اور اگر بندہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں،اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہو تو میں دوبازوؤں کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس جاتا ہوں۔‘‘[2]
غار والوں کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان،جس کا خلاصہ یہ ہے:’’تین ساتھی غار میں تھے،غار کا منہ چٹان سے بند ہو گیا۔ایک نے اپنے والدین کی فرماں برداری کو وسیلہ بنایا۔دوسرے نے حرام چیز ترک کرنے کو واسطہ بنایا اور تیسرے نے حقدار کو اضافے سمیت اس کے حق کی ادائیگی کو ذریعہ بنایا،اس سے قبل انھوں نے ایک دوسرے سے کہا تھا،اپنے اپنے اعمال دیکھو جو تم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے ہوں اور ان کے واسطے سے دعا کرو،اللہ رب العزت اس مشکل سے نجات دے گا،چنانچہ انھوں نے دعا کی اور مذکورہ اعمال کو وسیلہ بنایا،چٹان بتدریج غار کے منہ سے ہٹ گئی اور وہ صحیح سلامت باہر آ گئے۔[3]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’أَقْرَبُ مَا یَکُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہِ وَ ہُوَ سَاجِدٌ‘’’بندہ سجدے کی حالت میں اپنے رب کے قریب ترین ہوتا ہے۔‘‘[4]
آپ نے دعا فرمائی:’أَسْاَلُکَ اللّٰہُمَّ!بِکُلِّ اسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ،أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِي کِتَابِکَ،أَوْ عَلَّمْتَہُ أَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ،أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِي عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ الْعَظِیمَ رَبِیعَ قَلْبِي،وَ نُورَ صَدْرِي،وَ جَلَائَ حُزْنِي وَ ذَہَابَ ہَمِّي وَغَمِّي‘ ’’اے اللہ!میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطے سے سوال کرتا ہوں،جس سے تو نے اپنے آپ کو موسوم فرمایایااسے اپنی کتاب میں اتار ایا مخلوق میں سے کسی کو سکھایا یاتو نے اسے اپنے پاس علمِ غیب میں محفوظ کر رکھا ہے کہ قرآنِ عظیم کو میرے دل کی بہار،میرے سینے کی روشنی،میرے غم کو دور کرنے والا اور میرے کرب و اضطراب کو ہٹانے والا بنا دے۔‘‘[1]
نیز فرمایا:’لَقَدْ سَأَلَ اللّٰہَ بِاسْمِہِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بِہِ أَعْطٰی،وَ إِذَا دُعِيَ بِہِ أَجَابَ‘
’’اس شخص نے اللہ تعالیٰ سے اس کے ایسے ’’اسم اعظم‘‘ کے واسطے سے سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سے سوال کیا جائے تو وہ ضرور دیتا ہے اور جب اسے پکارا جائے تو وہ ضرور قبول فرماتا ہے۔‘‘[2]
3: قرآن پاک میں انبیاء علیہم السلام کے توسل کاذکر موجود ہے۔غور فرمایئے ان کا توسل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے اسماء و صفات اور اپنے ایمان و اعمال صالح کے ساتھ تھا،اس کے علاوہ انھوں نے کسی(کی ذات یا اس کے جاہ و مرتبہ یااس کے نیک عمل)کو کبھی واسطہ نہیں بنایا۔یوسف علیہ السلام اپنے توسل میں فرماتے ہیں:﴿رَبِّ قَدْ آتَيْتَنِي مِنَ الْمُلْكِ وَعَلَّمْتَنِي مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ۚ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ﴾
’’اے میرے رب!تو نے مجھے حکومت دی ہے اور خوابوں کی تعبیر کا علم سکھایا۔اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے!دنیا و آخرت میں تو ہی میرا کار ساز ہے،اسلام کی حالت میں مجھے فوت کرنا اور صالحین کے ساتھ شامل فرمانا۔‘‘[3]
یونس علیہ السلام(مچھلی والے نبی)نے یوں دعا کی:﴿لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ﴾
’’تیرے سوا کوئی معبود(حقیقی)نہیں،تو پاک ہے،یقینا میں ہی قصور واروں میں سے ہوں۔‘‘[4]
موسیٰ علیہ السلام نے یہ دعا کی:﴿رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ﴾
’’اے میرے رب!بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا،تو مجھے بخش دے تو اللہ نے اسے بخش دیا۔‘‘[5]
اور یہ دعا بھی کی:﴿إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُم﴾’’بے شک میں اپنے اور تمھارے رب کی پناہ لیتا ہوں۔‘‘[6]
ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے یوں عرض کی:﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾
’’اے ہمارے پالنے والے!ہمارا(یہ عمل)قبول فرما۔بے شک تو ہی سننے والا(اور)جاننے والا ہے۔‘‘[1]
اور آدم و حوا علیہما السلام نے عرض کی:﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
’’اے ہمارے رب!ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘[2]