نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
نکاح،طلاق اور اس کے متعلقہ مسائل کا بیان
نکاح کا بیان:
٭ نکاح کی تعریف:
نکاح ایک ایسا عقد و معاہدہ ہے جس کے نتیجے میں مرد اور عورت ایک دوسرے پر حلال ہو جاتے ہیں۔
٭ نکاح کا حکم:
اللہ تعالیٰ کے فرمان کی رو سے نکاح ایک مشروع کام ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾
’’پس جو عورتیں تمھیں پسند آئیں،ان سے نکاح کرو،دو دو،تین تین اور چار چار اور اگر اندیشہ ہے کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ایک ہی یا جو تمھاری مملوکہ لونڈیاں ہیں۔‘‘[1]
نیز فرمایا:﴿وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ﴾
’’اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں،نیک غلام اور لونڈیوں کے(باہم)نکاح کر دیا کرو۔‘‘[2]
البتہ جو شخص گھریلو اخراجات برداشت کر سکتا ہے اور اسے حرام(زنا)میں واقع ہونے کا بھی اندیشہ ہے تو اس کے لیے نکاح کرنا فرض ہے اور اگر زنا کا خطرہ محسوس نہیں کرتا تو اس کے لیے مسنون ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((یَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ!مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمُ الْبَائَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ،فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ))
’’اے نوجوانوں کی جماعت!تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھتا ہے،وہ نکاح کر لے،یہ نگاہ کو بہت نیچی رکھے گا اور شرم گاہ کی نہایت حفاظت کا باعث ہو گا۔‘‘[3]
اور فرمایا:((تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْأُمَمَ [یَوْمَ الْقِیَامَۃِ]))
’’زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جنم دینے والی کے ساتھ نکاح کرو،قیامت کے دن میں اقوام عالم کے ساتھ تمھاری کثرت پر فخر کروں گا۔‘‘[4]
٭ نکاح کی حکمت:
1: نکاح کے نتیجے میں نسل انسانی کی بقا۔
2: اپنی عزت کی حفاظت اور فطری خواہش پوری کرنے کے لیے مرد اور عورت کا رشتۂ ازدواج۔
3: نسل انسانی کی تربیت اور زندگی کی بقا کے لیے دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون۔
4: مودت و محبت کے دائرہ میں مرد اور عورت کا باہم تعلق،جس سے دونوں کے حقوق کا تحفظ اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا حاصل ہونا۔
٭ نکاح کے ارکان:
نکاح کی صحت و درستی کے لیے چار ارکان کا ہونا ضروری ہے جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) ولی (۲) گواہ (۳) عقد نکاح کے الفاظ (۴) حق مہر
1:ولی:
لڑکی کا باپ پھر سب سے قریبی(عصبہ)عزیز اگر یہ نہ ہوں تو پھرحاکم وقت ولی ہوتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’لَا نِکَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ‘ ’’ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے۔‘‘[1]اور عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((لَا تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ إِلَّا بِإِذْنِ وَلِیِّھَا،أَوْ ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَھْلِھَا أَوِ السُّلْطَانِ))
’’ولی یا اس کے خاندان میں سے سمجھدار یا حاکم کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہ کیا جائے۔‘‘[2]
٭ ولی کے احکام:
درج احکام کو مدنظر رکھنا ولایت کے بارے میں ضروری ہے۔
٭ ’’ولی‘‘ کا ولایت کی اہلیت کا حامل ہونا ضروری ہے،یعنی وہ مرد،بالغ،عاقل،معاملہ فہم اور آزاد ہو۔
٭ اگر عورت کنواری اور’ ’ولی‘‘ باپ ہو تو باپ اس سے اجازت حاصل کرے کہ وہ اس کا فلاں کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے اور اگر وہ عورت بیوہ ہے یا ’’ولی‘‘ غیر باپ ہے تو صریح الفاظ میں اس کی رائے حاصل کرے،اس لیے کہ نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اَلْأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِھَا مِنْ وَّلِیِّھَا،وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِھَا،وَإِذْنُھَا صُمَاتُھَا‘
’’بیوہ اپنے نفس کی اپنے ’’ولی‘‘ سے زیادہ حق دار ہے اور کنواری سے اجازت حاصل کی جائے اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔‘‘[3]
٭ اقرب(زیادہ قریبی)کے ہوتے ہوئے ابعد(دور کا رشتہ دار)’’ولی‘‘ نہیں بن سکتا،لہٰذا حقیقی بھائی کی موجودگی میں پدری بھائی(جو صرف باپ کی طرف سے ہو)’’ولی‘‘ نہیں ہو گا اور نہ بھائی کی موجودگی میں بھتیجا ولی بن سکتا ہے۔
٭ اگر عورت نے اپنے قرابت داروں میں سے دو کو اپنا نکاح کر دینے کی اجازت دی ہے اور دونوں نے ایک ہی وقت میں اس سے نکاح کیا ہے تو دونوں نکاح باطل ہوں گے۔
2 گواہ:
عقد نکاح میں کم از کم دو عادل مسلمانوں کا حاضر ہونا ضروری ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾
’’اور اپنے میں سے دو عادل مردوں کو گواہ بناؤ۔‘‘[4]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا نِکَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَّشَاھِدَيْ عَدْلٍ‘
’’ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہے۔‘‘[1]
٭ گواہوں کے احکام:
٭ دو گواہ ہونے چاہئیں،زیادہ جتنے بھی ہوں اچھا ہے۔
٭ اور دونوں عادل ہوں،یعنی کبیرہ گناہوں کے مرتکب نہ ہوں اور اکثر چھوٹے گناہوں سے اجتناب کرتے ہوں۔زانی،شرابی اور سود کھانے والا شادی کا گواہ نہیں بن سکتا،اس لیے کہ قرآن پاک کی آیت بالا اور فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گواہوں کا عادل ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
٭ اس دور میں عدالت و ثقاہت کی صفات کے حاملین لوگ بہت کم ہیں،لہٰذا زیادہ سے زیادہ گواہ مجلس نکاح میں موجود ہونے چاہئیں۔
3:عقد نکاح کے الفاظ:
ہونے والا خاوند جب یہ کہتا ہے کہ اپنی بیٹی یا جس بچی کے میرے ساتھ نکاح کی آپ کو وصیت کی گئی ہے،آپ اسے میرے نکاح میں دے دیں اور ولی کہے:میں نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا یا میں نے فلاں بیٹی کا نکاح تیرے ساتھ کر دیا اور خاوند کہہ دے ’’میں نے قبول کر لیا ‘‘تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔
اسی طرح جب یہی گفتگو خاوند کی طرف سے اس کا وکیل کرے(یا ولی گفتگو کی ابتدا کرے نکاح ہو جائے گا۔)
٭ عقدِ نکاح کے احکام:
1: شوہرآزادی(حُر ہونے میں)،اخلاق و دین اور امانت میں بیوی کا کفو،یعنی ہم مرتبہ ہونا چاہیے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِذَا جَائَ کُمْ مَّنْ تَرْضَوْنَ دِینَہُ وَخُلُقَہُ فَأَنْکِحُوہُ،إِلَّا تَفْعَلُوا تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ))
’’جب تمھارے پاس ایک ایسے شخص کا پیغام آئے جس کے اخلاق اور دین کو تم پسند کرتے ہو،اس کے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح کر دو،اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد ہو گا۔‘‘[2]
2: ’’عقد نکاح‘‘ میں مرد جسے چاہے اپنا وکیل بنائے۔عورت کا وکیل اس کا ولی ہے،جو اس کی طرف سے عقد نکاح کرے گا۔
3: حق مہر::عورت کو حلال بنانے کے لیے خاوند جو مال دیتا ہے،وہ ’’مہر‘‘ ہے،یہ دینا واجب اور فرض ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً﴾’’اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے ادا کرو۔‘‘[3]
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِّنْ حَدِیدٍ‘ ’’مہر کے لیے کچھ تلاش کر،چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔‘‘[4]
٭ مہر کے احکام:
1: ’’مہر‘‘ میں تخفیف مستحب ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’أَعْظَمُ النِّسَائِ بَرَکَۃً أَیْسَرُھُنَّ مُؤْنَۃً‘
’’وہ عورت سب سے زیادہ بابرکت ہے،جس کے حصول کے اخراجات آسان ہوں۔‘‘[1]
اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دختران اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے مہر میں عموماً چار سو اسی درہم ہوتے تھے۔اصحاب سنن نے اسے روایت کیا ہے اور ترمذی نے صحیح کہا ہے۔[2]
2: عقد کے وقت مہر کا تذکرہ کرنا مسنون ہے۔
3: چوتھائی دینار٭سے زائد مالیت کی مباح چیز مہر مقرر ہو سکتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
’فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِّنْ حَدِیدٍ‘ ’’مہر کے لیے تلاش کر،چاہے لوہے کی انگوٹھی ہو۔‘‘[3]
4: مہر عقد نکاح کے ساتھ ہی ادا کر دیا جائے تو بھی صحیح ہے اور اس کے کل یا کچھ حصے کی تاخیر بھی جائز ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً﴾’’اور اگر تم انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دیتے ہو اور ان کے لیے ’’مہر‘‘مقرر کر چکے ہو۔(ابھی دیا نہیں،دینا ہے‘‘)[4]
البتہ جماع سے پہلے تحفے کے طور پر کوئی چیز دینا مستحب ہے۔سنن ابو داود اور سنن نسائی میں ہے:
((لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَۃَ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم:أَعْطِھَا شَیْئًا قَالَ:مَا عِنْدِي شَيْئٌ قَالَ:أَیْنَ دِرْعُکَ الْحُطَمِیَّۃُ؟ [قُلْتُ:ھِيَ عِنْدِي،قَالَ:فَأَعْطِھَا إِیَّاھَا]))
’’جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ سے شادی کی تو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ(مجامعت سے پہلے)فاطمہ رضی اللہ عنہا کو کچھ دے۔‘‘ انھوں نے کہا:میرے پاس کچھ نہیں ہے۔آپ نے فرمایا:’’تیری حطمی زرہ کہاں ہے؟‘‘ انھوں
٭ چوتھائی دینار کی تحدید کسی نص سے ثابت نہیں ہے۔مؤلف کی ذکر کردہ حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ اس صحابی کے پاس جس کو لوہے کی انگوٹھی لانے کا حکم دیا تھا،لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں تھی اور قرآن پاک کی چند سورتیں پڑھانے پر اس کا عقد نکاح ہوا تھا۔(الاثری)
نے کہا:وہ میرے پاس ہے۔آپ نے فرمایا:’’وہی اسے دے دو۔‘‘[1]
5: عقد نکاح سے مہر مرد کے ذمے متعلق ہو جاتا ہے اور دخول(جماع)کے بعد واجب الاداء ہو جاتا ہے اور اگر دخول سے پہلے طلاق دے دے تو نصف مہر ساقط(معاف)ہے جبکہ نصف کی ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔ارشاد حق تعالیٰ ہے:﴿وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ﴾
’’اور اگر تم نے ان کو ہاتھ لگانے(جماع کرنے)سے پہلے طلاق دے دی ہے اور ’’مہر‘‘ مقرر کر چکے ہو تو جو مقرر کیا ہے اس کا نصف دے دو۔‘‘[2]
6: اگر خاوند’’عقد’’کے بعد اور دخول(مجامعت)سے پہلے فوت ہو جائے تو عورت کو خاوند کی وراثت سے اس کا پورا حصہ اور مہر ملے گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی فیصلہ ہے۔[3]
بشرطیکہ نکاح کے وقت ’’مہر‘‘ مقرر ہو چکا ہو اور اگر ’’مہر‘‘ مقرر نہیں ہوا تھا تو وہ ’’مہر مثل‘‘ کی مستحق ہو گی اور ’’عدت وفات‘‘ بھی گزارے گی۔(چار ماہ دس دن یا وضع حمل)٭
٭ نکاح کے آداب و سنن اور خطبۂ نکاح:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکاح اور دیگر اہم مقاصد سے پہلے مقدمتاً ان کلمات سے ابتدا فرماتے:
((إنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَسْتَعِینُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ،وَنَعُوذُ بِہِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا،مَنْ یَّھْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ،وَمَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ھَادِيَ لَہُ،أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ))
’’سب تعریف اللہ کے لیے ہے،ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں،اس سے معافی مانگتے ہیں اور اپنے نفسوں کی خرابیوں اور برے اعمال سے اس کی پناہ کے طلب گار ہیں،جس کو اللہ ہدایت دے،اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کو وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی(سچا)معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)اس کے بندے اور رسول ہیں۔‘‘
پھردرج ذیل آیات تلاوت کرتے۔
٭ اتنا مہرلے گی جتنا اس کی خاندان کی اسی جیسی دیگر عورتوں نے اپنے خاوندوں سے لیا،مثلاً:بہن،چچا،تایا کی بیٹی وغیرہ(محمدعبدالجبار)
﴿أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ﴾(اٰل عمران 102:3)
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾(النسآء 1:4)
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴿٧٠﴾يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾(الأحزاب 71,70:33)
’’اے ایمان والو!اللہ سے کما حقہ ڈرو اور تمھاری موت اسلام ہی پر آئے۔اے لوگو!اپنے پروردگار سے ڈرو،جس نے تم کو ایک جان(آدم علیہ السلام)سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی(حوا علیہ السلام)بنائی اور(پھر)دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں(کا لحاظ کرو)بے شک اللہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو،وہ تمھارے اعمال درست کر دے گا اور تمھارے گناہ معاف کر دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتا ہے،اس نے بڑی کامیابی حاصل کر لی۔‘‘[1]
٭ دعوتِ ولیمہ:
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاۃٍ‘’’ولیمہ کرو،چاہے ایک بکری کے ذریعے سے ہو۔‘‘[2]
خاوند کی طرف سے دیے گئے شادی کے کھانے کو ’’ولیمہ‘‘ کہتے ہیں اور دعوت ولیمہ قبول کرنا واجب ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے:’مَنْ دُعِيَ إِلٰی عُرْسٍ أَوْ نَحْوِہِ فَلْیُجِبْ‘’’جسے شادی وغیرہ کے لیے بلایا جائے،اسے چاہیے کہ قبول کرے۔‘‘[3]
البتہ شادی کی تقریب میں لہو و لعب اور ناجائز کام ہو رہے ہوں تو شرکت نہ کرے [4] اگر دو آدمیوں کی دعوت موصول ہو گئی ہے تو جس نے پہلے پیغام دیا ہو،اس کی دعوت قبول کر لے۔نیز ’’ولیمے‘‘ میں اغنیاء کے ساتھ ساتھ فقراء کو بھی بلانا چاہیے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیمَۃِ یُمْنَعُھَا مَنْ یَّأْتِیھَا،وَیُدْعٰی إِلَیْھَا مَنْ یَّأْبَاھَا))
’’بدترین کھانا،اس ولیمے کا کھانا ہے جس کے لیے آنے والوں کو روکا جائے اور جو انکاری ہیں،ان کو بلایا جائے۔‘‘[1]
جو دعوت ولیمہ قبول نہیں کرتا،اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔اگر مدعو کا روزہ ہے تو بھی دعوت قبول کرے،اگر نفلی روزہ ہے تو چاہے افطار کر دے اور کھانا کھائے اور چاہے تو اہل ضیافت کے لیے دعا کر کے واپس آجائے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ فَلْیُجِبْ،فَإِنْ کَانَ صَائِمًا فَلْیُصَلِّ،وَإِنْ کَانَ مُفْطِرًا فَلْیَطْعَمْ))
’’اگر تم میں سے کسی ایک کو دعوت کے لیے بلایا جائے تو وہ اسے قبول کرے،اگر روزہ دار ہے تو دعا کرے اور اگر روزہ دار نہیں ہے تو کھانا کھائے۔‘‘[2]
٭ ’’دف‘‘اور’ ’غنا‘‘ کے ذریعے سے نکاح کی تشہیر:
یہ شرعاً جائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((فَصْلُ مَا بَیْنَ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ الدَّفُّ وَالصَّوْتُ))
’’حلال اور حرام(نکاحوں)کے درمیان ’’دف‘‘ بجانے اور شہرت دینے سے امتیاز ہوتا ہے۔‘‘[3]
٭ میاں بیوی کے لیے دعا:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو مبارکباد دیتے تو فرماتے:((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ،وَبَارَکَ عَلَیْکَ،وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِي خَیْرٍ))
’’اللہ تعالیٰ تیرے لیے اور تجھ پر برکت فرمائے اور تمھیں خیر میں اکٹھا رکھے۔‘‘[4]
٭ شوال میں شادی اور رخصتی مستحب ہے:
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے مہینے میں میرے ساتھ نکاح کیا اور شوال میں ہی آپ مجھے اپنے گھر لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں کون مجھ سے زیادہ نصیب والی تھی۔اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی رشتہ دار لڑکیوں کی شادی کے لیے شوال کے مہینے کو پسند فرماتی تھیں۔[5]
٭ پہلی بار بیوی کے پاس جانے کی دعا:
اپنی بیوی کے پاس جاتے ہی اس کی پیشانی کے بالوں پر ہاتھ رکھے اور یہ دعا پڑھے:
((اَللّٰھُمَّ!إِنِّي أَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِھَا وَخَیْرِ مَا جُبِلَتْ عَلَیْہِ،وَأَعُوذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّمَا جُبِلَتْ عَلَیْہِ))
’’اے اللہ میں تجھ سے اس کی اور اس چیز کی اچھائی کا سوال کرتا ہوں جس پر تو نے اس کو پیدا کیا ہے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے اور اس چیز کے شر سے جس پر تو نے اسے پیدا کیا ہے۔‘‘[1]
٭ ارادئہ جماع کے وقت کی دعا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آتے وقت یہ دعا پڑھے اگر اس(کے نتیجے)میں اولاد مقدر ہو جائے تو شیطان اسے نقصان نہیں دے سکے گا:((بِسْمِ اللّٰہِ،اَللّٰھُمَّ!جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا))
’’اللہ کے نام سے،اے اللہ!ہم سے شیطان کو دور کر اور جو(اولاد)تو ہمیں عطا فرمائے،اس سے بھی شیطان کو دور کر۔‘‘[2]
٭ مرد اور عورت ایک دوسرے کے راز افشا نہ کریں:
میاں بیوی کی باہمی جنسی گفتگو(اور دیگر رازوں)کا اظہار کرنا دونوں کے لیے ناجائز ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
((إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللّٰہِ مَنْزِلَۃً یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ الرَّجُلَ یُفْضِي إِلَی امْرَأَتِہِ وَتُفْضِي إِلَیْہِ،ثُمَّ یَنْشُرُ سِرَّھَا))
’’اللہ کے نزدیک قیامت کے دن اس آدمی کا مقام بہت ہی برا ہو گا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور وہ اس کے پاس جاتی ہے اور پھر وہ اپنے راز پھیلا دیتا ہے۔‘‘[3]
٭ نکاح کی شرائط:
عورت اگر عقد نکاح میں ایسی شرطیں تسلیم کراتی ہے جو نکاح کے اصل مقاصد میں داخل ہیں اور اس کی پختگی کا باعث ہیں،مثلاً:اپنے لیے نفقہ یا جماع یا دوسری بیوی کی موجودگی میں درست تقسیم(انصاف)کا مطالبہ کرتی ہے تو یہ شروط ’’عقد نکاح‘‘ کے ساتھ ہی نافذ ہو جائیں گی اور اگر یہ شرطیں ایسی ہیں جو ’’مقاصد نکاح‘‘ کو فوت کرتی ہیں،مثلاً:یہ کہ مرد اس کے ساتھ جماع نہیں کرے گا،وہ کھانے،پینے کی چیزیں تیار نہیں کرے گی،جبکہ یہ کام اس علاقے میں عام طور پر عورت کی ذمہ داری میں داخل ہوں تو ایسی شرطیں لغو ہیں،ان کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے،اس لیے کہ یہ’’مقصد نکاح‘‘کے منافی ہیں۔لیکن اگر شرائط مذکورہ ازدواجی دائرے سے خارج انداز کی ہیں،مثلاً:عورت یہ شرط عائد کرتی ہے کہ وہ اپنے قرابت داروں کو ملنے جایا کرے گی یا اسے اس کے شہر سے باہر نہیں لے جائے گا تو ان کا پورا کرنا ضروری ہے،اگر مرد یہ شرطیں پوری نہیں کرتا تو عورت کو نکاح فسخ کرانے کا حق حاصل ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’إِنَّ أَحَقَّ الشُّرُوطِ أَنْ یُّوَفّٰی بِہِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِہِ الْفُرُوجَ‘ ’’جن شرطوں کے ساتھ تم نے شرم گاہوں کو حلال بنایا ہے انھیں پورا کرنا دیگر شرائط کی نسبت زیادہ ضروری ہے۔‘‘[1]
البتہ عورت کا یہ شرط عائد کرنا کہ پہلی بیوی کو طلاق دے،حرام ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:((لَا یَحِلُّ أَنْ یَّنْکِحَ الْمَرْأَۃَ بِطَلَاقِ أُخْرٰی))
’’دوسری(عورت)کی طلاق کی شرط پر،کسی عورت کے ساتھ نکاح حلال نہیں ہے۔‘‘[2]
نیز فرمایا:((لَا یَحِلُّ لِاِمْرَأَۃٍ تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِھَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَھَا،فَإِنَّمَا لَھَا مَا قُدِّرَ لَھَا))
’’کسی عورت کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنی بہن(پہلی بیوی)کی طلاق کا سوال کرے تاکہ اس کا برتن خالی کرے،بے شک اس کے لیے ہے جو اس کے مقدر میں ہے۔‘‘[3]
٭ نکاح میں اختیار اور اس کو واجب کرنے والی چیزیں:
درج ذیل اسباب کی بنیاد پر مرد اور عورت دونوں کو اختیار ہے کہ زوجیت بحال رکھیں یا فسخ کر دیں۔
1: عورت کو جنون،کوڑھ،پھلبہری یا شرم گاہ کی ایسی بیماری لاحق ہو جس سے ’’جماع کی لذت‘‘ فوت ہو جائے۔اسی طرح مرد کا خصی یا مجنون یا نامرد ہونا،جب وہ جماع کرنے کے قابل نہ رہے۔
مذکورہ اسباب کے نتیجے میں اگر فسخ نکاح کی نوبت آ گئی ہے اور فسخ،وطی(جماع)سے پہلے ہوا ہے تو مرد کو اختیار حاصل ہے کہ وہ پیشگی دیا ہوا مہر واپس لے سکتا ہے لیکن اگر وطی کے بعد فسخ ہوا ہے تو پھر مہر کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔بعض علماء نے کہا ہے کہ جس نے خاوند کو دھوکا دیا ہے وہ مہر کی وصولی اس سے کرے،اگر اسے عیب کا علم تھا۔اس کی دلیل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ ہے:
((أَیُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً وَبِھَا جُنُونٌ أَوْجُذَامٌ أَوْبَرَصٌ فَمَسَّھَا فَلَھَا صَدَاقُھَا کَامِلًا وَذٰلِکَ لِزَوْجِھَا غُرْمٌ عَلٰی وَلِیِّھَا))
’’مجنون یا مجذوم یا برص والی عورت کا اگر کسی نے دھوکے سے کسی کے ساتھ نکاح کرا دیا تو ملاپ کی بنا پر عورت کو ’’مہر‘‘ملے گا اور آدمی(دھوکے میں آ کر نکاح کرنے والے خاوند)کا تاوان(مہر)دھوکا باز ادا کرے گا۔‘‘[4]
2: دھوکے کے نتیجہ میں،مثلاً:ایک شخص نے یہ کہہ کر نکاح کیا کہ یہ عورت مسلمان ہے،جبکہ وہ غیر مسلم(یہودن یا عیسائن)تھی یا یہ کہا وہ آزاد ہے،جبکہ وہ لونڈی تھی یا یہ کہا:وہ تندرست ہے،جبکہ وہ بھینگی یا لنگڑی تھی۔تو بھی خاوند کو فسخ نکاح کا اختیار ہو گا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مذکورہ بالا فیصلہ اس کی دلیل ہے۔
3: خاوند مہر معجل(جس کی فوری ادائیگی طے پائی ہو)کی ادائیگی نہ کر سکے تو عورت کو دخول(جماع)سے پہلے فسخ کا حق حاصل ہے لیکن دخول کے بعد فسخ کا اختیار نہیں ہے بلکہ عقد پختہ ہو جائے گا اورمہر معجل مرد کے ذمے ثابت ہو جائے گا،اب وہ اس مرد سے انکار نہیں کر سکتی۔
4: اگر مرد عورت کا روزمرہ کا خرچ نہیں دے سکتا تو عورت حسب طاقت انتظار کرے اور پھر شرعی قاضی کے ذریعے ’’فسخ نکاح‘‘کا اس کو اختیار حاصل ہو جائے گا۔صحابۂ کرام میں ابوہریرہ،عمر اور علی رضی اللہ عنہم اور تابعین میں حسن،عمر بن عبدالعزیز،ربیعہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہم کا مسلک یہی ہے۔
5: خاوند اگر غائب ہو جائے اور اس کا کوئی علم نہیں ہو رہا کہ کہاں ہے،نیز بیوی کے لیے خرچ بھی نہیں چھوڑ کر گیا اور نہ کوئی اس کے خرچ کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور اس کے پاس اتنا مال بھی نہیں کہ خرچ کر کے(بعد میں)خاوند سے وصول کر سکے تو اسے شرعی قاضی کے ذریعے سے ’’فسخ نکاح‘‘ کا حق حاصل ہو جاتا ہے،پہلے قاضی اسے وعظ و نصیحت کرے اور صبر کی تلقین کرے،اگر وہ پھر بھی انکار کرتی ہے تو قاضی ان گواہوں کی موجودگی میں فیصلہ لکھے جو دونوں(میاں بیوی)کو جانتے ہوں اور خاوند کے غائب ہونے کی شہادت دیتے ہوں اور پھر اس طرح نکاح فسخ کر دے اور یہ طلاق رجعی شمار ہو گی۔عدت کے اندر اگر مرد آ گیا تو یہ عورت اس کے پاس آ جائے گی۔
شوہر کے غائب ہو جانے کی صورت میں فسخ نکاح کا تحریری نمونہ:
بسم اللہ،اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد!
ہمارے پاس دو گواہ فلاں فلاں حاضر ہوئے،دونوں سمجھدار اور عادل ہیں اور اپنی خوشی سے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ہمارے پاس شہادت ادا کرنے آئے ہیں۔انھوں نے بیان کیا کہ یہ دونوں فلاں مرد اور فلاں عورت کو پہچانتے ہیں اوردونوں خاوند بیوی ہیں،ان کا نکاح شرعی طریقے سے ہو چکا ہے اور عورت اس کے گھر آباد رہی ہے،مرد اتنی مدت سے غائب ہے اور عورت کے پاس کوئی نفقہ و لباس نہیں چھوڑ کر گیا اور نہ ہی اس کے پاس اور اثاثہ ہے جس سے یہ حسب ضرورت خرچ کر سکے اور نہ وہ جانے کے بعد اس کے پاس کوئی مال بھیج رہا ہے جس سے یہ خرچ کر سکے۔اس صورت میں بھی یہ عورت نکاح فسخ کرانے میں دکھ محسوس کرتی ہے،یہ دونوں گواہ مذکورہ امور کو جانتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے جوابدہ ہوں گے۔
پھر مذکورہ فلاں عورت حاضر ہوئی،اس نے اللہ عظیم کے حلف کے ساتھ بیان کیا کہ اس کا فلاں خاوند اتنی مدت سے غائب ہے اور اس کے پاس خرچ و لباس نہیں ہے اور نہ وہ کوئی مال چھوڑ کر گیا ہے جس میں سے وہ خرچ کر سکے اور کوئی دیگر بھی نفلی طور پر خرچ کرنے والا نہیں ہے اور نہ اس نے کوئی مال بھیجا ہے جس سے وہ خرچ کرے،نیز اس کے پاس اپنا مال بھی نہیں جس میں وہ گزارہ کر سکے اور مذکورہ گواہوں کی گواہی اس بارے میں سچی ہے،یہ اب تک اس خاوند کی اطاعت میں ہے اور فسخ نکاح پر ضرور تکلیف محسوس کرتی ہے۔
مذکورہ شہادت اور حلفیہ بیان کی بنیاد پر،جبکہ عورت نے صریح لفظوں میں فلاں خاوند سے ’’فسخ نکاح‘‘ کا کہا ہے،ہم اس کے اس سوال کو قبول کرتے ہیں اور اسے ایک رجعی طلاق گردانتے ہیں۔ مؤرخہ...
6:عورت اگر لونڈی ہے اور کسی غلام کی بیوی ہے تو آزاد ہونے کی صورت میں اسے ’’خیارعتق‘‘ حاصل ہو جاتا ہے۔یعنی آزاد ہونے کے بعد خاوند کے اس تک رسائی حاصل کرنے سے پہلے عورت چاہے تو نکاح فسخ کر سکتی ہے۔لیکن اگر اس عورت نے اپنی آزادی معلوم ہونے کے باوجود خاوند کو مجامعت کا موقع دے دیا تو یہ اختیار ختم ہو جائے گا،اس لیے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
’’بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اور اس کا خاوند(مغیث)غلام تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا تھا،اگر یہ(مغیث)آزاد ہوتا تو اس کو اختیار نہ دیتے۔‘‘[1]