بیع و تجارت کا بیان

قرض،وصیت اور چند دیگر احکام

قرض کا بیان: ٭ قرض کی تعریف: ’’قرض‘‘ کا لغوی معنی کاٹنا ہے اور شرعًا کسی کو فائدہ حاصل کرنے کے لیے مال دینا،مثلاً:ایک ضرورت مند کہتا ہے:مجھے اتنا مال یا سامان یا جانور اتنی مدت کے لیے بطور ’’قرض‘‘ دے،پھر میں اس کا بدل(عوض)دے دوں گا اور وہ اسے دے دے۔ ٭ قرض کا حکم: قرض دینے والے پر قرض دینا مستحب ہے،اس لیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ﴾ ’’کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے اور اللہ اس کے لیے اسے(ثواب میں)بڑھائے اور اس کے لیے اچھا اجر ہو۔‘‘[1] اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِیہِ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْیَا،نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘ ’’جو شخص اپنے بھائی سے دنیا کا غم و تکلیف دور کرتا ہے،اللہ قیامت کے روز اس کے غم اور تکلیف کو دور کرے گا۔‘‘[2] اور ’’قرض‘‘ لینے والے کے لیے ’’قرض‘‘ لینا جائز اور مباح ہے،اس میں کوئی حرج نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ ’’قرض‘‘ کے طور پر لیا تھا اور اس سے بہتر کی ادائیگی کی تھی۔اور فرمایا:’إِنَّ خِیَارَکُمْ أَحْسَنُکُمْ قَضَائً‘’’تم میں سے سب سے اچھا انسان وہ ہے جوبہتر طریقے پر ادائیگی کرے۔‘‘[3] ٭ قرض کی شرائط: 1: ماپ یا وزن یا تعداد میں ’’قرض‘‘ کی مقدار،معلوم و معروف ہو۔ 2: اس کی صفت اور اگر جانور ہو تو اس کی عمر معلوم ہو۔ 3: ’’قرض‘‘وہ شخص دے،جو دینے کا مجاز ہو،بنا بریں جو مالک نہیں ہے وہ قرض نہ دے اور اسی طرح وہ شخص جو عقلمند نہیں،وہ بھی قرض نہیں دے سکتا۔ ٭ قرض کے احکام: 1: جب ’’مقروض‘‘ قرض وصول کر لے گا تو وہ اس کا مالک متصور ہو گا اور اس کا ذمہ دار ہو گا۔ 2: قرض کی ادائیگی کی میعاد مقرر ہو تو بھی صحیح ہے،اگر میعاد متعین نہ ہو تو بہتر ہے،اس لیے کہ اس میں مقروض کے لیے آسانی ہے۔ 3: اگر ’’ادائیگی ٔ قرض‘‘ کے وقت وہ چیز اصل صورت میں موجود ہو تو وہی واپس کی جائے اور اگر اس میں کمی بیشی ہوچکی ہو اور اس کی مثل موجود ہو تو مثل ادا کی جائے اور اگر مثل نہ ہو تو اس کی قیمت ادا کر دی جائے۔ 4: اگر ’’قرض‘‘ کے اٹھانے میں کوئی خرچ نہ آتا ہو تو ’’قرض خواہ‘‘ جہاں چاہے گا مقروض اسے قرض ادا کرے گا،ورنہ ’’مقروض‘‘ پر کسی دوسری جگہ ’’قرض ‘‘پہنچانا ضروری نہیں ہے۔ 5: قرض خواہ کا ’’مقروض‘‘سے اس قرض میں کسی بھی انداز کا نفع لینا حرام ہے،وہ قرض کی بڑھوتری کی صورت میں ہو یا قرض سے بہتر چیز کی ادائیگی کی شرط لگا کر یا قرض دے کرکوئی خارجی فائدہ اٹھایا جائے جو شرط و اتفاق کے طور پر دونوں کے مابین طے پا گیا ہو۔ اگر ’’مقروض‘‘ کسی طے شدہ شرط کے بغیرمحض جذبۂ احسان و تشکر کے طور پر زیادہ دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کی ادائیگی اچھے اور عمر میں اس سے بڑے اونٹ کی شکل میں کی تھی۔اور فرمایا:’إِنَّ خِیَارَ النَّاسِ أَحْسَنُھُمْ قَضَائً‘’’سب سے اچھا وہ انسان ہے،جو ادائیگی اچھی کرے۔‘‘[1] ودیعت و امانت کا بیان: ٭ ودیعت(امانت)کی تعریف: اس مال کو’ ’ودیعت‘‘ کہتے ہیں جو کسی کے پاس حفاظت کے لیے رکھا جائے تاکہ امانت رکھنے والا جب چاہے اسے لے سکے۔ ٭ ودیعت و امانت کا حکم: ’’امانت‘‘ کے طور پر مال رکھنا شریعت سے ثابت ہے،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:﴿فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَهُ﴾’’جسے امانت دی گئی ہے،اسے چاہیے کہ امانت ادا کرے۔‘‘[2] اور فرمایا:﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ ’’بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے مالکوں کو ادا کر دو۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’أَدِّ الْأَمَانَۃَ إِلٰی مَنِ ائْتَمَنَکَ،وَلَا تَخُنْ مَّنْ خَانَکَ‘ ’’جس نے تجھے امین جانا اس کو امانت ادا کر اور جو تیرے ساتھ خیانت کرے تو اس کے ساتھ خیانت نہ کر۔‘‘[2] ’’ودیعت‘‘امانت کے قبیل سے ہے اور ودیعت کا حکم مختلف حالتوں میں مختلف ہوتا ہے۔کبھی اسے قبول کرنا واجب اور لازم ہوتا ہے،جب ایک مسلمان کے مال کا تحفظ،کسی اور ذریعے سے ممکن نہ ہو اور کبھی مستحب،جب مالک خود بھی مال کی حفاظت کر سکتا ہو،اس لیے کہ یہ نیکی کے کام میں تعاون ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾’’اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔‘‘[3] اور کبھی امانت کا قبول کرنا ناجائز ہوتا ہے،جب وہ مال کی حفاظت کرنے سے قاصر ہو۔ ٭ ودیعت کے احکام: 1: امانت رکھنے والا مالک اور اسے قبول کرنے والا امین دونوں عقل و خرد اور سوجھ بوجھ کے مالک ہوں،بنا بریں نابالغ لڑکا اور مجنون نہ امانت رکھیں اور نہ ان کے پاس امانت رکھی جائے۔ 2: امانت کے ضائع ہونے کی صورت میں مُودَع(جس کے پاس امانت رکھی گئی ہے)’’ضامن‘‘ نہیں ہے،بشرطیکہ اس نے ظلم یا کوتاہی نہیں کی،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا ضَمَانَ عَلٰی مُؤْتَمَنٍ‘ ’’جس کوامین بنایا گیا ہے،اس پر ضمان(چٹی)نہیں ہے۔‘‘[4] 3: دونوں کو اختیار ہے،جب چاہیں ودیعت واپس کر سکتے ہیں۔ 4: ’’امین‘‘ کسی بھی انداز میں ’ ’امانت‘‘ سے منفعت حاصل نہیں کر سکتا الّا یہ کہ مالک نے اس کو اجازت دی ہو۔ 5: ’’ودیعت‘‘ کی واپسی میں اختلاف ہو جائے تو جس کے پاس امانت رکھی گئی تھی اس کی بات کا قسم کے ساتھ اعتبار ہو گا۔ا لّا یہ کہ امانت رکھنے والا ایسا ثبوت پیش کر دے جس سے ودیعت کا واپس نہ ہونا ثابت ہو جائے۔ ٭ ’’ودیعت‘‘ کا تحریری نمونہ: ’’فلاں اقرار کرتا ہے کہ اس نے فلاں سے مبلغ... امانت شرعیہ کے طور پر وصول کر لیے ہیں اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری کا التزام کرے گا اور اس جگہ اس کو محفوظ کرے گا،جہاں امانت دینے والا کہتا ہے،وہ اس تحریر کے وقت حاضر بھی ہے اور اس پر شرعی تصدیق ثبت ہے۔ واپسی کا تحریری نمونہ:’’فلاں اقرار کرتا ہے کہ اس نے فلاں سے مبلغ ... شرعی طریقہ سے واپس لے لیے ہیں اور ان پر قبضہ کر لیا ہے،یہ رقم اس کے پاس امانت کے طور پر رکھی گئی تھی۔اب اس کے پاس اس میں سے کم و بیش کچھ نہیں ہے اور رقم کی ادائیگی کرنے والا بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔مؤرخہ ....٭ عاریت(مستعار چیزوں)کا بیان: ٭ عاریت کی تعریف: وہ چیز جو کسی کو کچھ وقت کے لیے دی جائے تاکہ وہ اس سے فائدہ حاصل کرے،مثلاً:ایک مسلمان دوسرے سے قلم مانگتا ہے کہ تحریر کے لیے اسے دے یا کپڑا طلب کرتا ہے تاکہ وہ اسے استعمال کر سکے اور پھر واپس کر دے۔ ٭ عاریت کی دلیل: عاریتًا چیزیں دینا شرع میں ثابت ہیں،اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾’’اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔‘‘[1] اور منافقوں کی صفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:﴿وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ﴾’’وہ برتنے کی(عام)چیزوں کو روک رکھتے ہیں۔‘‘[2] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صفوان بن امیہ سے چند زرہیں عاریتًا طلب کیں تو اس نے کہا:اے محمد!کیا یہ غصب کے انداز میں ہے تو آپ نے فرمایا: ’بَلْ عَارِیَۃٌ مَّضْمُونَۃٌ‘’’بلکہ عاریتًا لے رہے ہیں اور(ہم)ان کی ادائیگی کے ذمہ دار ہیں۔‘‘[3] نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((مَامِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَّلَا بَقَرٍ وَّلَا غَنَمٍ لَّا یُؤَدِّي حَقَّھَا إِلَّا أُقْعِدَ لَھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَطَؤُہُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِھَا،وَتَنْطَحُہُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِھَا،لَیْسَ فِیھَا یَوْمَئِذٍ جَمَّائُ وَلَا مَکْسُورَۃُ الْقَرْنِ،قُلْنَا:یَارَسُولَ اللّٰہِ!وَمَا حَقُّھَا؟ قَالَ:إِطْرَاقُ فَحْلِھَا وَإِعَارَۃُ دَلْوِھَا وَمَنِیحَتُھَا وَخَلْبُھَا عَلَی الْمَائِ وَحَمْلٌ عَلَیْھَا فِي سَبِیلِ اللّٰہِ)) ’’اونٹ،گائے اور بکری والا اگر ان کے حقوق ادا نہیں کرتا تو قیامت کے دن ایک صاف میدان میں اسے بٹھا دیا جائے گا،کھر والا جانور اسے اپنے کھر سے اور سینگ والا اپنے سینگ سے مارے گا۔اس دن ان میں کوئی بے سینگ اور ٹوٹے سینگ والا نہیں ہو گا۔‘‘ ہم نے کہا:اے اللہ کے رسول!اور ان کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا:’’ان کا نر چڑھانا،ان کا ڈول عاریتًا دینا،ان کا فائدہ عطیہ کرنا،تالاب پر دودھ دوہنا اور اللہ کے راستہ میں ان پر سواری کرنا(یا کرنے دینا۔)‘‘[4] ٭ اس کے ساتھ ساتھ مالک،امین اور گواہوں کے دستخط بھی ہو جائیں تو اقرب الی الصواب ہے۔واللہ اعلم(ع،ر) ٭ عاریت کا حکم: عام حالات میں عاریتًا دینا مستحب ہے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔‘‘[1] اور اگر ایک انسان مجبور ہے اور اسے شدید ضرورت لاحق ہے اور مالک اس چیز سے بے نیاز ہے،اسے اس کی ضرورت نہیں،ایسے میں عاریتًا دینا لازم اور واجب ہو جاتا ہے۔ ٭ عاریت کے احکام: 1: مباح چیزیں عاریتًا دی جاسکتی ہیں۔بنا بریں لونڈی مجامعت کے لیے عاریتًا نہیں دی جا سکتی اور نہ مسلمان کو کافر کی خدمت کے لیے دیا جا سکتا ہے اور اسی طرح خوشبو اور کپڑا کسی حرام کام کے لیے نہ دیا جائے،اس لیے کہ گناہ پر تعاون کرنا حرام ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ ’’اور گناہ اور ظلم وزیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کرو۔‘‘[2] 2: اگر ’’عاریت‘‘ دینے والا عاریتاً دیتے وقت حفاظت سے رکھنے کی شرط لگاتا ہے اور چیز عاریتاً لینے والے نے اسے تلف کر دیا ہے تو وہ ’’ضامن‘‘ ہو گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَلْمُسْلِمُونَ عَلٰی شُرُوطِھِمْ‘ ’’مسلمانوں پر اپنی شرطوں کی پابندی لازم ہے۔‘‘[3] اور فرمایا:’طَعَامٌ بِطَعَامٍ،وَإِنَائٌ بِإِنَائٍ‘ ’’طعام کے بدلے طعام اور برتن کے بدلے برتن ہے۔‘‘[4] اگر عاریتاً لینے والے کی کوتاہی یا تعدی سے چیز ضائع ہوئی ہے تو اسے اس کی مثل یا قیمت دینی لازم ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’عَلَی الْیَدِمَا أَخَذَتْ حَتّٰی تُؤَدِّيَ‘ ’’انسان جو چیز لیتا ہے،اس کی ادائیگی اسی پر ہے۔‘‘[5] 3: ’’عاریت‘‘ واپس کرتے وقت بار برداری وغیرہ کا جو خرچ ہے وہ ’’عاریتًا لینے والے‘‘پر ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ’عَلَی الْیَدِ مَا أَخَذَتْ حَتّٰی تُؤَدِّيَ‘ ’’انسان جو چیز لیتا ہے،اس کی ادائیگی اسی پر ہے۔‘‘[6] 4: ’’عاریت‘‘ کے طور پر لی ہوئی چیز آگے کرایے پر نہیں دی جا سکتی ہاں،اگر’ ’عاریت‘‘ دینے والے کی طرف سے اجازت ہو تو اسے آگے عاریتًا دے سکتا ہے،ورنہ نہیں۔ 5: اگر ایک انسان نے شہتیر رکھنے کے لیے عاریتًا دیوار دے دی ہے تو جب تک دیوار گر نہیں جاتی،اس عاریت کو واپس نہیں لیا جا سکتا۔اسی طرح اگر کسی نے زمین کاشت کے لیے عاریتًا دی ہے تو کھیت کی کٹائی تک اسے واپس نہ لے،اس لیے کہ اس میں ایک مسلمان کا نقصان ہے جو کہ حرام ہے۔ 6: جو شخص ایک متعین مدت کے لیے کوئی چیز عاریتاً دیتا ہے تو مدت گزرنے کے بعد اس کا مطالبہ کرنا بہتر ہے،پہلے نہیں۔ ٭ عاریت کا تحریری نمونہ: ’’فلاں نے فلاں کو اپنی مقبوضہ اور مملوکہ چیز عاریتاً دی ہے۔یہ فلاں مکان یا باغ یا کپڑا وغیرہ ہے،فلاں مدت تک وہ اس میں رہائش رکھے گا یا اسے استعمال کرے گا۔یہ صحیح،جائز اور قابل واپسی ’’عاریت‘‘ ہے اور مندرجہ بالا طریق کے مطابق عاریتاً لینے والے نے اسے اپنے قبضہ میں لیا ہے اور دونوں نے اس کو شرعی طور پر تسلیم اور قبول کر لیا ہے۔ آج مؤرخہ... غصب کا بیان: ٭ غصب کی تعریف:دوسرے کے مال پر زبردستی اور ناحق قبضہ کر لینا،مثلاً:ایک شخص کا ایک مکان ہے،اس سے چھین کر اس میں رہائش اختیار کرنا یا کسی کا جانور ہے تو اس پر سواری کرنا۔ ٭ غصب کا حکم: غصب حرام ہے،اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ﴾’’ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’فَإِنَّ دِمَائَ کُمْ وَأَمْوَالَکُمْ حَرَامٌ عَلَیْکُمْ‘ ’’خبردار!تمھارے خون اور تمھارے اموال تم پر حرام ہیں۔‘‘[2] اور فرمایا:’مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِّنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَہُ اللّٰہُ إِیَّاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ سَبْعِ أَرْضِینَ‘ ’’جو شخص کسی زمین میں سے ایک بالشت کے برابر ناجائز قبضہ کرتا ہے،قیامت کے دن اسے زمین کی سات تہوں کا طوق پہنایا جائے گا۔‘‘[3] نیز ارشاد گرامی ہے: ’لَا یَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُّسْلِمٍ عَنْ طِیبِ نَفْسِہِ‘’’کسی مسلمان کا مال اس کی خوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔‘‘[4] ٭ غصب کے احکام: 1: یہ اللہ کا حق ہے کہ غاصب کو قید یا مار پیٹ کی سزا دی جائے تاکہ وہ آئندہ یہ کام نہ کرے اور دوسروں کے لیے عبرت بنے۔ 2: غاصب پر لازم ہے کہ غصب کردہ چیز واپس کرے اور اگر وہ چیز ضائع ہو گئی ہے تو اس کی مثل دے اور اگر اس کی مثل نہیں ہے تو قیمت ادا کرے۔ 3: اگر غاصب نے غصب شدہ چیز کو عیب دار کر دیا ہے جس سے اس کی افادیت ختم ہو گئی ہے تو وہ اس کی مثل واپس کرے اور غصب شدہ چیز اپنے پاس رکھے۔اگر مثل دینا اس کے لیے ناممکن ہو تو وہ معیوب چیز واپس کرے اور نقصان کی قیمت ادا کرے۔ 4: اگر غصب شدہ چیز سے کوئی آمدنی ہوئی ہے تو وہ بھی واپس کرے،مثلاً:جانور کا بچہ یا درختوں کی پیداوار یا جانور کا کرایہ وغیرہ۔ 5: اگر غصب شدہ زمین ہے اور غاصب نے اس پر کوئی عمارت تعمیر کر لی ہے یا باغ لگا دیا ہے تو عمارت منہدم کرے اور درخت کاٹ لے اور زمین کو اسی حال پر درست کر کے واپس کرے جیسا کہ پہلے تھی۔ اور اگر وہ عمارت یا باغ کو بحال رکھنا چاہتا ہے تو صاحب زمین کی مرضی کے مطابق اس سے ملبے کی قیمت لے سکتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَیْسَ لِعِرْقِ ظَالِمٍ حَقٌّ‘ ’’ظالم کی رگ(اس کے درخت کی جڑ،یعنی محنت اور پسینے)کا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘[1] 6: اگر غاصب نے غصب شدہ چیز میں تجارت کی ہے اور نفع بھی کمایا ہے تو نفع سمیت واپس کرے۔ 7: اگر ’’غاصب‘‘ اور(غصب شدہ چیز کے)مالک کے مابین غصب شدہ چیز کی قیمت یا صفت میں اختلاف ہو جائے اور مالک کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہے تو ’’غاصب‘‘ کی بات کا اعتبار ہو گا مگر حلف کے ساتھ۔ 8: جس نے بلااجازت دوسرے کا مال تلف اور ضائع کر دیا،وہ اس کا ضامن ہے،مثلاً:کوئی دوسرے کا مال جلا دے یا پھاڑ دے یا بند دروازہ کھول دے یا پنجرہ کھول دے اور جانور نکل جائے یا پرندے اڑ جائیں۔ 9: اگرکاٹنے والے کتے کو باندھنے میں مالک نے سستی کی اور اس نے کسی کو کاٹ کھایا تو مالک ضامن ہے۔ 10: اگر جانور رات کے وقت کھول دیا گیا اور اس نے کسی کے کھیت کا نقصان کر دیا تو جانور کے مالک پر’ ’ضمان‘‘ ہے،اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے: ((فَقَضٰی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَلٰی أَھْلِ الْأَمْوَالِ حِفْظَھَا بِالنَّھَارِ،وَعَلٰی أَھْلِ الْمَوَاشِي حِفْظَھَا بِاللَّیْلِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ دن کو مال والے(اپنے کھیت وغیرہ کی)حفاظت کریں اور رات کو جانوروں والے ان کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں(رات کو جانور نقصان کریں تو ان کے مالک ذمہ دار ہیں)۔‘‘ [1] 11: جس جانور کے ساتھ سوار یا ہانکنے والا نہیں ہے اور اس نے کسی کا نقصان کر دیا تو اس میں ضمان نہیں ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’اَلْعَجْمَائُ جُبَارٌ‘ ’’بے زبان جانور نقصان کرے تو وہ ’’ضائع‘‘ ہے۔[2] اسی طرح اگر مالک جانور پر سوار ہے مگر اپنے(پچھلے)پاؤں سے اس نے کسی کا نقصان کر دیا تو وہ بھی ’’ضائع‘‘ ہے۔اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:’اَلرِّجْلُ جُبَارٌ‘ ’’بے زبان جانور کے(پچھلے)پاؤں کا نقصان(ضائع)ہے۔[3]البتہ اپنے منہ یا اگلے پاؤں سے اگر ایسا جانور جس پر مالک سوار ہے،نقصان کر دے تو اس کی ’’ضمان‘‘ ہو گی۔‘‘ لقطہ اور لقیط کا بیان: ٭ لقطہ کی تعریف: لقطہ اس چیز کو کہتے ہیں جو ایسی جگہ سے ملے جو کسی شخصی ملکیت میں نہ ہو،مثلاً:راستے میں پیسے یا کپڑے مل جائیں اور ان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے تو اسے اٹھا لینا۔ ٭ لقطہ کا حکم: لقطہ کا اٹھالینا جائز ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((اِعْرِفْ عِفَاصَھَا وَوِکَائَ ھَا،ثُمَّ عَرِّفْھَا سَنَۃً،فَإِنْ جَائَ صَاحِبُھَا وَإِلَّا فَشَأْنَکَ بِھَا)) ’’اس(ملنے والی)چیز کی تھیلی اور باندھنے والی رسی کی پہچان رکھ،پھر ایک سال تک اعلان کرتا رہ،اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دے،ورنہ اسے اپنے کام میں لگا لے۔‘‘[4] اور گم شدہ بھیڑ بکری کے بارے میں سوال ہوا تو فرمایا:((خُذْھَا فَإِنَّمَا ھِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ)) ’’اسے پکڑ لے،وہ تو پکڑے گا یا تیرا کوئی اور بھائی یا پھر اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔‘‘[5] مگر وہی شخص گم شدہ چیز اٹھائے جسے اپنی امانت پر اعتماد ہے اور جو اپنی دیانت و امانت پر یقین نہیں رکھتا وہ اسے نہ اٹھائے،اس لیے کہ مسلمانوں کے مالوں کی تباہی کے درپے ہونا جائز نہیں ہے۔ ٭ لقطہ کے احکام: 1: اگر گری پڑی چیز معمولی ہے اور متوسط لوگ اس کی پروا نہیں کرتے،مثلاً:کھجور کا دانہ، انگور کا دانہ،بوسیدہ کپڑے کا ٹکڑا،لاٹھی اور چابک وغیرہ تو اسے اٹھا کر فوری طور پر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور اس کی تشہیر اور اس کی حفاظت ضروری نہیں ہے،اس لیے کہ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم فِي الْعَصَا وَالْحَبْلِ وَالسَّوْطِ وَأَشْبَاھِہِ،یَلْتَقِطُہُ الرَّجُلُ یَنْتَفِعُ بِہِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لاٹھی رسی اور چابک وغیرہ میں اجازت دی ہے کہ(گم شدہ ملے تو)آدمی اٹھا کر اس سے فائدہ حاصل کر لے۔‘‘[1] 2: اگر وہ چیز ایسی ہے کہ متوسط طبقے کے لوگ اس کا اہتمام کریں گے تو ایک سال تک اس کی تشہیر ضروری ہے،اٹھانے والا مساجد کے دروازوں اور لوگوں کے اکٹھے ہونے کے مقامات پر اعلان کرے یا پھر یومیہ اخبارات اور نشریاتی اداروں کے ذریعے سے اس کی تشہیر کرے،اگر مالک آ جائے اور اس کے ظرف(شاپر،بیگ،بٹوہ یا پوٹلی وغیرہ،)عدد اور صفت کی پہچان کر لے تو اس کو دے دے اور اگر پورا سال گزرنے پر بھی کوئی نہ آئے تو اسے اپنے کام میں لگائے یا خیرات کر دے مگر اس ارادے سے کہ اگر مالک کسی وقت آ گیا تو ادائیگی کر دے گا۔ 3: حرم(مکہ)میں گری ہوئی چیز اٹھانا جائز نہیں ہے،ا لّا یہ کہ اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو اور اگر کوئی اٹھاتا ہے تو جب تک وہ حرم میں ہے،اس کی تشہیر ضروری ہے اور جب باہر جائے تو حاکم کے سپرد کر دے،وہ اسے اپنی ملکیت میں نہیں لے سکتا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((فَإِنَّ ھٰذَا بَلَدٌ حَرَّمَ اللّٰہُ:لَا یُعْضَدُ شَوْکُہُ،وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُہُ،وَلَا یَلْتَقِطُ لُقَطَتَہُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَھَا وَلَا یُخْتَلٰی خَلَاھَا)) ’’یہ حرمت والا شہر ہے،جسے اللہ نے حرمت بخشی ہے:۔اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں،اس کا شکار نہ بھگایا جائے اور کوئی اس کی گم شدہ چیز نہ اٹھائے مگر جو شخص اعلان کرے۔‘‘[2] 4: گم شدہ جانور اگر بکری یا بھیڑ ہے اور ویران جگہ میں ملی ہے تو اسے پکڑ لینا چاہیے،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:((فَإِنَّمَا ھِيَ لَکَ أَوْ لِأَخِیکَ أَوْ لِلذِّئْبِ)) ’’یہ تو پکڑے گا یا تیرا کوئی اور بھائی یا اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔‘‘[3] اور اگر گم شدہ اونٹ ہے تو اسے کسی صورت بھی نہ پکڑے،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے: ((مَالَکَ وَلَھَا،مَعَھَا سِقَائُ ھَا وَحِذَائُ ھَا،تَرِدُ الْمَائَ وَتَأْکُلُ الشَّجَرَ حَتّٰی یَلْقَاھَا رَبُّھَا)) ’’تجھے اس سے کیا سروکار،پانی کے لیے اس کے پاس مشکیزہ ہے اور اس کے پاؤں مضبوط ہیں۔تالاب سے پانی حاصل کرے گا،درخت کے پتے کھائے گا،یہاں تک کہ اس کا مالک(آ کر)اسے پکڑ لے گا۔‘‘[1] ٭ لقطہ کا تحریری نمونہ: ’’فلاں اقرار کرتا ہے کہ مؤرخہ فلاں،سال و ماہ فلاں کو فلاں جگہ سے ایک گم شدہ تھیلی ملی ہے۔جس میں اتنی چیز ہے،اس نے اسی وقت اس کا اعلان کیا اور اسی جگہ،بازاروں،سڑکوں اور مساجد میں متواتر کئی دن اور پھر کئی ماہ جو پورے سال سے زائد بنتے ہیں،اس کی تشہیر کرتا رہا ہے مگر کسی نے بھی اس کا مطالبہ نہیں کیا،مجھے اپنی موت کا ڈر ہے۔میں اس تحریر پر گواہ بنا رہا ہوں کہ میں نے یہ گم شدہ چیز پائی ہے جو میرے قبضے اور کنٹرول میں ہے،اگر کوئی بعد میں اس کا مالک آ جائے اور اپنی ملکیت کا ثبوت مہیا کر دے تو یہ اس کے حوالے کر دی جائے اور اس طرح شرعی طریقے سے اس کے قبضے میں دے کر راقمِ تحریر اس کی ذمہ داری سے بری ہو جائے گا۔‘‘ مورخہ... ٭ لقیط کا بیان: وہ بچہ جو کسی جگہ پھینکا ہوا پایا گیا،اس کے نسب کا کسی کو پتہ نہ ہو اور نہ کوئی اس کا مدعی بنتا ہو کہ یہ میرا ہے۔ایسا بچہ ’’لقیط‘‘ کہلاتا ہے۔ ٭ لقیط کا حکم: مسلمانوں میں سے کوئی ایک صاحب حیثیت شخص اسے حاصل کر کے اس کی تربیت و کفالت اپنے ذمے لے لے،سب کی ذمہ داری پوری ہو جائے گی۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾’’اور نیکی و تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔‘‘[2] اور اس لیے بھی کہ یہ قابل احترام بے قصور جان ہے اور اس کی حفاظت ضروری ہے۔ ٭ لقیط کے احکام: 1: اسے حاصل کرنے والا اس کے ملنے پر گواہ بنا لے اور اگر مال و متاع اس کے ساتھ ہے تو اس پر بھی کوئی شاہد مقرر کرے۔ 2: اگر یہ بچہ اسلامی شہروں میں سے کسی شہر سے ملا ہے تو وہ مسلمان متصور ہو گا،چاہے ان میں غیر مسلم بھی رہتے ہوں۔ 3: اگر اس بچے کے ساتھ مال بھی ملا ہے تو اسے اس پر خرچ کیا جائے،مال نہیں ہے تو مسلمانوں کے بیت المال سے اخراجات پورے کیے جائیں،اگر بیت المال کا انتظام نہیں ہے تو مسلمانوں کی جماعت پر اس کا خرچ واجب ہے۔ 4: ’’لقیط‘‘ اگر مر جائے تو بیت المال اس کا وارث ہے،قتل ہو جائے تو اس کی دیت بیت المال میں جمع ہو گی اور قصاص و دیت میں امام المسلمین اس کا متولی ہے،چاہے قصاص لے اور چاہے دیت وصول کرے اور بیت المال میں جمع کرا دے۔ 5: لقیط کے بارے میں اگر کوئی مرد دعویٰ کرے کہ یہ میرا بیٹا ہے تو اگر امکان ہو کہ وہ اس کا بیٹا ہو سکتا ہے تو اسے دے دیا جائے اسی طرح اگر کوئی عورت اقرار کرے تو وہ اسے دے دیا جائے۔پھینکے ہوئے بچے کی تحریری شہادت: (روبرو من مسمیٰ بہ... بن... قاضی عدالت ... فلاں شخص ... حاضر ہوا۔اور)اس بات کی گواہی دی(اقرار کیا)کہ وہ فلاں وقت فلاں جگہ ... سے گزر رہا تھا کہ اس نے ایک بچہ زمین پر پڑا ہوا پایا کہ جس کی شکل وشباہت یوں ہے:(ہاتھ،پاؤں،رنگ،آنکھیں،کان،بال اور جنس ذکر کریں)اور یہ کہ وہ ایک ایسا پھینکا ہوا بچہ ہے کہ جس میں اس کی ملکیت یا شبہ ملکیت نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لیے اس کی ملکیت تک پہنچانے والے حقوق میں سے کوئی حق ثابت ہوا ہے اور یہ کہ تاحال(یہ بچہ)مذکورہ بالا تفصیلات کے مطابق بطور لقیط اس کے قبضے میں رہے گا اور یہ کہ اقرار کنندہ اس بارے میں صحیح حقوق کو سمجھتا ہے اور شرعاً جو ذمہ داریاں اس پر عائد ہوتی ہیں ان کی پیروی کرتا ہے۔ مؤرخہ... اقرار کنندہ ... قاضی... حجر(تصرفات مالی سے روکنے)کا بیان: ٭ حجر کی تعریف: کسی انسان کو کمسنی،جنون،کم عقلی،(قرض کے غلبے)یا افلاس کی وجہ سے تصرفات مالی سے روک دینا حجر(حاء کی زیر کے ساتھ)کہلاتا ہے۔ ٭ حجر کا حکم: مذکورہ حالات میں کسی پر پابندی لگانا شریعت مطہرہ سے ثابت ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ﴾’’کم عقلوں کو اپنے اموال نہ دو کہ جن میں اللہ نے تمھارے لیے گزارا بنایا ہے اور انھیں ان میں سے خوراک اور لباس دو۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ پر جب وہ مقروض ہو گئے تھے،مالی تصرف کی پابندی لگا دی تھی اور پھر آپ نے ان کے مال میں سے پورا قرض ادا کر دیا،یہاں تک کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی کوئی چیز باقی نہ رہی۔[2] ٭ حجر کے احکام: 1نابالغ بچہ: وہ بچہ جو ابھی بلوغت کی عمر کو نہیں پہنچا،اس کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے مال میں والدین کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کر سکتا اور والدین کی وفات کی صورت میں ’’وصی‘‘ کی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کر سکتا۔اور بالغ ہونے تک یہ پابندی برقرار رہے گی،اور اگر بلوغت کے باوجود کم عقل ہو تو جب تک عقل کی استعداد درست نہیں ہو گی،پابندی برقرار رہے گی اور اگر بچہ یتیم ہے اور باپ اس پر’ ’وصی‘‘(صاحب وصیت)مقرر کر گیا ہے تو بعد از بلوغت سمجھدار ہونے تک پابند رہے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ﴾ ’’اور بالغ ہونے تک یتیموں کا امتحان لو،پھر(بالغ ہونے پر)اگر تم ان میں سوجھ بوجھ محسوس کرو تو ان کے اموال ان کے حوالے کر دو۔‘‘[1] 2 بے وقوف: جو شخص مال کی افادی حیثیت کی عدم معرفت کی وجہ سے اپنی خواہشات نفس میں مال کو ضائع کر دے تو ورثاء کے مطالبے پر اس پر پابندی لگائی جا سکتی ہے،تب اسے ہبہ،بیع اور خریداری سے روک دیا جائے،جب تک عقل کی پختگی و رشد اس میں نہ آئے۔اگر پابندی کے دوران میں کوئی مالی تصرف کرے گا تو باطل ہو گا اور نافذ نہیں ہو گا۔ہاں،پابندی سے پہلے کے تصرفات نافذ ہوں گے۔ 3 دیوانہ: جس کی عقل میں خلل اور فتور واقع ہو جائے اس پر پابندی ہو گی اور اس کے مالی تصرفات نافذ نہیں ہوں گے،جب تک اس کی عقلی صلاحیت بحال نہیں ہوتی،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:((رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ:عَنِ النَّائِمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ،وَعَنِ الصَّغِیرِ حَتّٰی یَکْبُرَ،وَ عَنِ الْمَجْنُونِ حَتّٰی یَعْقِلَ أَوْیُفِیقَ)) ’’تین آدمی مرفوع القلم ہیں،سویا ہوا،جاگنے تک،بچہ بالغ ہونے تک اور دیوانہ درست ہونے تک۔‘‘[2] 4 بیمار: اس سے وہ مریض مراد ہے جو ایسے مرض میں مبتلا ہے جس سے عموماً انسان مر ہی جاتا ہے تو ایسے مریض پر اس کے ورثاء پابندی کا مطالبہ کر سکتے ہیں تاکہ وہ بنیادی ضروریات سے زیادہ خرچ نہ کر سکے،یعنی خوراک،لباس،رہائش اور علاج وغیرہ کے علاوہ یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے یا مرجائے۔ مفلس کا بیان: ٭ مفلس کی تعریف: کسی شخص پر اتنا قرض ہو جائے کہ اس کی ملکیت کی(بنیادی ضرورت،گھر،سواری وغیرہ کے علاوہ)تمام اشیاء بھی دے دی جائیں تو پھر بھی پورے قرض ادا نہ ہو سکیں تو وہ ’’مفلس‘‘ کہلاتا ہے۔ ٭ مفلس کے احکام: 1: قرض خواہوں کا مطالبہ ہو تو اس پر مال میں تصرف کرنے کی پابندی لگا دی جائے۔ 2: لباس اور ضروریات زندگی کے علاوہ،اس کا تمام مملوکہ مال فروخت کر دیا جائے اور قرض خواہوں کے حصوں کے مطابق قرضے ادا کر دیے جائیں۔ 3: اگر مقروض کے پاس کسی قرض خواہ کا اپنا سامان موجود ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تو وہ اپنا سامان لے سکتا ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((مَنْ أَدْرَکَ مَالَہُ بِعَیْنِہِ عِنْدَ رَجُلٍ أَوْ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ فَھُوَ أَحَقُّ بِہِ)) ’’جو کوئی کسی ’’مفلس‘‘ کے پاس اپنا سامان بعینہ پا لیتا ہے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے۔‘‘[1] البتہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ صاحب سامان اس کی قیمت میں سے کچھ بھی وصول نہ کر چکا ہو،ورنہ وہ سب قرض خواہوں کے برابر حصہ دار ہے۔ 4: جس شخص کے بارے میں حاکم وقت کے ہاں ثابت ہو جائے کہ اس کے پاس کوئی مال نہیں ہے جسے فروخت کر کے قرض ادا کیا جائے تو اس سے قرض کا مطالبہ اور اس کا پیچھا کرنا جائز نہیں ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَإِن كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ﴾’’مقروض اگر تنگ دست ہے تو آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔‘‘[2] اور اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقروض صحابی کے قرض خواہوں کو فرمایا تھا:((خُذُوا مَا وَجَدْتُّمْ،وَلَیْسَ لَکُمْ إِلَّا ذٰلِکَ)) ’’تم جو پاؤ لے لو اور اس کے علاوہ تمھارے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘[3] 5: مال تقسیم ہو جانے کے بعد ایک اور قرض خواہ ظاہر ہو گیا جس کو مقروض پر پابندی اور اس کے مال کے فروخت ہونے کا علم نہیں تھا تو وہ دوسرے قرض خواہوں سے حصۂ رسد(اپنا حصہ)وصول کرے گا۔ 6: ہاں،جسے پابندی کا علم ہے اور اس کے بعد اس نے مقروض سے کچھ لین دین کیا تو وہ ان قرض خواہوں کے حصے میں شریک نہیں ہو گا،جن کی وجہ سے اس پر پابندی لگائی گئی تھی بلکہ مذکورہ شخص کا قرض بدستور ’’مفلس‘‘ کے ذمے رہے گا جسے وہ آسانی میسر آنے پر ادا کرے گا۔ ٭ مفلس پر پابندی کا تحریری نمونہ: بسم اللہ اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد:’’فلاں عدالت کا قاضی اقرار کرتا ہے کہ اس نے فلاں شخص پر شرعی انداز سے درست پابندی لگائی ہے اور شرعی قرضہ جات اور دیگر واجبات کی وجہ سے اس کو منع کر دیا ہے کہ وہ اپنے مال میں کسی طرح کا تصرف کرے۔اس نے اتنا قرض دینا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ فلاں کا قرض مبلغ اتنا ہے،جس کا اثبات فلاں دستاویز سے ہوا ہے۔اور اس پر فلاں تاریخ ثبت ہے اور فلاں کا قرض اتنا ہے اور ان قرض خواہوں نے اپنے اپنے قرض عدالت میں معتبر دستاویزات کے ذریعے سے ثابت کر دیے ہیں اور ہر ایک نے اس پر حلفیہ بیان دیا ہے اور دلائل سے عدالت کے روبرو واضح ہو گیا ہے کہ مذکورہ مقروض تنگ دست ہے اور اس کے پاس اتنا سرمایہ نہیں ہے جس سے یہ قرض ادا کر سکے،لہٰذا اس کا موجودہ مال بقدر حِصَصْ ہر ایک کو دیا جا سکتا ہے۔اسی بنا پر عدالت اس کے مالی تصرف پر شرعی پابندی عائد کرتی ہے،البتہ یہ اپنے مال میں سے اپنا خرچ اور جن کا خرچ اس پر لازم ہے،نکال سکتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے بیوی اور اولاد وغیرہ اور یہ پابندی اس کی املاک(جائیداد)فروخت ہونے تک برقرار رہے گی تاکہ شرعی طریقے سے قرض خواہوں کے قرضے ادا کر دیے جائیں۔مؤرخہ فلاں کو یہ فیصلہ تحریر ہوا۔ ٭ بے وقوف فضول خرچ پر پابندی کا تحریری نمونہ: بسم اللہ اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد:’’قاضی عدالت‘‘ فلاں شخص پر صحیح شرعی پابندی عائد کر رہا ہے اور اس وقت موجود مال یا اس کے بعد جو سرمایہ اسے حاصل ہو گا،میں تصرف کرنے سے اس کو روک رہا ہے،جبکہ شرعی طور پر گواہوں کے ذریعے سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ شخص کم عقل ہے اور اپنا سرمایہ ضائع کر رہا ہے،خریدوفروخت اور خرچ کے معاملات میں اسراف کا مرتکب ہو رہا ہے،لہٰذا یہ اس لائق ہے کہ اس پر پابندی عائد کر دی جائے اور درستی ٔ حال تک اس کو مال میں تصرف کرنے سے روک دیا جائے اور مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس پر یہ پابندی عائد ہو اور اس کے ہر طرح کے تصرف کو باطل قرار دیا جائے۔بنا بریں عدالت کا فیصلہ ہے کہ یہ پابند ہے اور مال میں تصرف نہیں کر سکتا اور یہ کہ یہ کم عقل ہے،شرعی پابندی اس پر لاگو ہے اور معاملات سے اس کو منع کر دیا گیا ہے۔اگر یہ کوئی مالی تصرف کرے گا تو شرعی اصولوں کی رو سے وہ باطل ہو گا،البتہ اس کے مال میں سے اس کا اور اس کی بیوی اور اولاد کا یومیہ خرچ اس سے مستثنیٰ ہے۔مذکورین اس کے مال میں سے روزانہ بقدر کفایت فلاں تاریخ سے خرچ حاصل کرتے رہیں گے۔فلاں تاریخ کو یہ تحریر ہوئی۔ وصیت کا بیان: ٭ وصیت کی تعریف: ایک شخص اپنی زندگی میں وصیت کرے کہ اس کے مرنے کے بعد فلاں چیز،مال وغیرہ کی عین یا منفعت فلاں شخص یا اشخاص کو عطا کی جائے یا فلاں چیز کی نگرانی فلاں کے حوالے کی جائے۔یا میرا قرضہ فلاں ادا کرے اسے وصیت کہتے ہیں۔اس تعریف کی رو سے اس کی دو اقسام ہیں،ایک یہ کہ وہ کسی کو وصیت کرے کہ وہ اس کا قرض ادا کرے یا کسی کا حق ادا کرے یا بالغ ہونے تک اولاد کا خیال رکھے اور دوسرا یہ کہ اس کا اتنا مال موت کے بعد فلاں شخص کو دیا جائے یا فلاں کام میں خرچ کیا جائے۔ ٭ وصیت کا حکم: شرعاً وصیت کرنا جائز ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ ’’اے ایمان والو!جب تم میں سے کسی کی موت آئے تو گواہی(کا نصاب)یہ ہے کہ وصیت کے وقت تم(مسلمانوں)میں سے دو مرد عادل گواہ ہوں۔‘‘[1] اور فرمایا:﴿مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ﴾ ’’وراثت کی تقسیم ’’وصیت‘‘ کے نفاذ اور قرض کی ادائیگی کے بعد ہے۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَا حَقُّ امْرِیئٍ مُّسْلِمٍ،لَہُ شَيْئٌ یُّوصِي فِیہِ یَبِیتُ لَیْلَتَیْنِ إِلَّا وَوَصِیَّتُہُ مَکْتُوبَۃٌ عِنْدَہُ)) ’’جس مسلمان کے پاس قابل وصیت چیز ہے تو وہ دو راتیں بھی نہ گزارے،الّا یہ کہ اس کے پاس ’’وصیت‘‘ لکھی ہوئی ہو۔‘‘[2] جس نے قرض دینا ہے یا اس کے پاس کسی کی امانت ہے یا اس نے کسی کا حق دینا ہے تو اس پر ’ ’وصیت‘‘کرنا لازم ہے،اس لیے کہ خطرہ ہے کہ وہ فوت ہو جائے اور لوگوں کے اموال ضائع ہو جائیں اور قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو اور اسی طرح جس کے پاس دولت کی بہتات ہے اور اس کے وارث غنی ہیں،اسے بھی چاہیے کہ غیر وارث قرابت داروں کے لیے تہائی یا اس سے کم کی وصیت کرے یا کسی نیکی کے کام میں وصیت کرے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے: ((یَقُولُ اللّٰہُ تَعَالٰی:یَا ابْنَ آدَمَ ثِنْتَانِ لَمْ یَکُنْ لَّکَ وَاحِدَۃٌ مِّنْھُمَا،جَعَلْتُ لَکَ نَصِیبًا فِي مَالِکَ حِینَ أَخَذْتُ بِکَظَمِکَ لِأُطَھِّرَکَ بِہِ وَأُزَکِّیَکَ،وَصَلَاۃُ عِبَادِي عَلَیْکَ بَعْدَ انْقِضَائِ أَجَلِکَ)) ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اے ابن آدم!دو چیزیں تیرے پاس نہیں تھیں،میں نے تیری موت کے وقت تجھے تیرے مال میں سے ایک حصہ دیا تاکہ تجھے پاک اور صاف کروں اور موت کے بعد اپنے بندوں کی تیرے حق میں دعائیں تجھے دی ہیں۔‘‘٭[3] سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وصیت کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: ((اَلثُّلُثُ،وَالثُّلُثُ کَثِیرٌ،إِنَّکَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ أَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِّنْ أَنْ تَذَرَھُمْ عَالَۃً یَّتَکَفَّفُونَ النَّاسَ)) ’’تہائی مال تک وصیت کرو اور یہ بھی بہت ہے۔تم اپنے ورثاء کو غنی چھوڑو یہ بہتر ہے اس سے کہ وہ تنگ دست ہوں اور لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔‘‘[4] ٭ یعنی میں نے وصیت کو مشروع کیا تا کہ تو درست وصیت کر کے ثواب کمائے جو مغفرت اور بلندیٔ درجات کا سبب ہے۔(ع،ر) ٭ وصیت کی شرطیں: 1: کسی کام کے لیے جس کو وصیت کی جا رہی ہے،وہ مسلمان،عاقل اور سمجھدار ہونا چاہیے،اگر جسے وصیت کی گئی ہے ان صفات کا حامل نہیں ہے تو حقوق کے ضائع ہونے یا نابالغ بچوں کی مراعات کے فقدان کا اندیشہ رہے گا۔ 2: بیمار کے لیے بھی شرط ہے کہ وہ وصیت کے وقت عقل اور ہوش و حواس کا حامل ہونا چاہیے اور جس چیز کے بارے میں وصیت کر رہا ہے وہ اس کا مالک بھی ہو۔ 3: جو’’وصیت‘‘کر رہا ہے،وہ مباح و حلال ہو،اگر حرام کی وصیت کی ہے تو نافذ نہیں ہو گی،مثلاً:ایک شخص وصیت کرتا ہے کہ میری موت کے بعد نوحہ(بین)کیا جائے یا نصاریٰ کے معبد کے لیے اتنا مال دیا جائے یا فلاں بدعت کا کام کیا جائے یا لہو و معصیت الٰہی کے کاموں کی محفل منعقد کی جائے وغیرہ۔ 4: جس کے لیے ’’وصیت‘‘کی ہے وہ وصیت قبول کر لے اگر وہ انکار کر دیتا ہے تو وصیت باطل ہو جائے گی اور بعدازاں اس کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا۔ ٭ وصیت کے احکام: 1: وصیت کرنے والا(اپنی زندگی میں)رجوع اور اس میں تغیر و تبدل کر سکتا ہے،اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: ’لِیُغَیِّرْ مَا شَائَ مِنْ وَّصِیَّتِہِ‘ ’’انسان اپنی وصیت میں سے جو چاہے تبدیل کر دے۔‘‘[1] 2: جس کے وارث ہوں،وہ تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہیں کر سکتا،اس لیے کہ سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا:کیا میں اپنے مال میں سے دو تہائی خیرات کر سکتا ہوں۔تو آپ نے فرمایا:’’نہیں ‘‘ عرض کی کل مال کا نصف خیرات کر سکتا ہوں۔فرمایا:’’نہیں۔‘‘ عرض کی کہ کل مال میں سے تہائی خیرات کروں۔فرمایا:’’ایک تہائی خیرات کرو اور تہائی بھی بہت ہے،تم اپنے ورثاء کو غنی چھوڑ جاؤ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم انھیں تنگدست چھوڑو(اور)وہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔‘‘[2] 3: وارث کے لیے وصیت جائز نہیں،چاہے معمولی ہو ہاں،اگر دیگر ورثاء چاہیں(بشرطیکہ وہ عاقل و بالغ اور حاضر ہوں)تو اس کے حق میں وصیت کرسکتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:((إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی قَدْ أَعْطٰی لِکُلِّ ذِي حَقٍّ حَقَّہُ،فَلَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ)) ’’یقینا اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے(خود ہی ترکے کی تقسیم بتا دی ہے)،لہٰذا وارث کے لیے وصیت نہیں۔‘‘ [1] 4: جن ’’مدات‘‘ میں وصیت کی ہے،اگر تہائی 1/3 سب کو پورا نہیں کرتی تو حصہ برابر برابر سب ’’مدات‘‘ میں خرچ کیا جائے،جیسا کہ قرض خواہوں کے لیے کیا جاتا ہے۔ 5: قرض کی ادائیگی کے بعد وصیت لاگو کی جائے،اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:((أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَضٰی بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ)) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے(نفاذ)وصیت سے پہلے قرض کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ہے۔‘‘[2] اور اس لیے کہ قرض کی ادائیگی فرض ہے اور وصیت نفل اور مستحب ہے اور واجب نفل پر مقدم ہوتا ہے۔ 6: مجہول یا معدوم کی وصیت بھی ہو سکتی ہے،اس لیے کہ یہ تبرع اور احسان ہے مگر وہ مجہول یا معدوم چیز حاصل ہوجائے تو وصیت کا نفاذ ہو گا،ورنہ نہیں،مثلاً:ایک شخص وصیت کرتا ہے کہ میری بکری کا بچہ جو پیدا ہو گا،فلاں کو دیا جائے یا درختوں کی آمدنی میں سے اتنا دیا جائے۔وغیرہ وغیرہ۔ 7: وصیت کرنے والے کی زندگی اور موت کے بعد وصیت قبول ہو سکتی ہے اور وصیت کرنے والے کو یہ بھی اختیار ہے کہ اگر مال یاحقوق یا یتیموں کے حصے ضائع ہونے کا خطرہ ہے تو ’’وصیت‘‘ ختم کر دے۔ 8: کسی شخص کو اگر کسی معین چیز میں وصیت کی گئی ہو تو وہ اس کو تبدیل نہیں کر سکتا،اس لیے کہ یہ بلا اجازت ہے اور لوگوں کے حقوق میں بلا اجازت تصرف کرنا شرعًادرست نہیں ہے۔ 9: وصیت کے نفاذ کے بعد اگر میت پر قرض کا انکشاف ہو تو جسے وصیت کی گئی ہے وہ اس قرض کا ضامن نہیں ہے،اس لیے کہ وہ اس کے علم میں نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس بارے میں کوتاہی کا مرتکب ہوا ہے۔ 10: ایک معین چیز میں وصیت ہوئی ہے تو اس چیز کے تلف ہو جانے پر وصیت باطل ہو جائے گی اور اس کے دوسرے مال میں اس کا نفاذ نہیں ہو گا۔ 11: ایک شخص نے وارث کے لیے وصیت کر دی،بعض ورثاء اس کی اجازت دیتے ہیں اور بعض ورثاء اجازت نہیں دیتے تو جو اجازت دیتے ہیں،ان کے حصہ میں وصیت نافذ ہو گی اور جو اجازت نہیں دیتے،ان کے حصے میں وصیت کانفاذ نہیں ہو گا۔٭ ٭ اجازت دینے والوں کے اصل حصوں کا حجم بوجہ نفاذ وصیت کم ہو جائے گا جبکہ اجازت نہ دینے والوں کو مکمل شرعی حصے ملیں گے۔(ع،ر) 12: جو شخص اپنی وصیت میں کہتا ہے کہ میں فلاں کی اولاد کے لیے اتنی وصیت کر رہا ہوں تو اس فلاں کی اولاد میں لڑکے،لڑکیاں برابر برابر اس وصیت میں حصہ دار ہوں گے،اس لیے کہ لفظ ولدمیں لڑکا اور لڑکی دونوں شامل ہیں،جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿يُوصِيكُمُ اللّٰهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ ’’اللہ تمھاری اولاد کے لیے تمھیں وصیت کرتا ہے،لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دیا جائے۔‘‘[1] یعنی آیت کریمہ میں اولاد کا اطلاق بیٹے،بیٹیوں سب پر ہوا ہے۔ ہاں،اگر وہ یوں کہتا ہے کہ فلاں کے بیٹوں کو اتنا حصہ دیا جائے تو یہ وصیت صرف بیٹوں کے لیے ہوگی،بیٹیوں کے لیے نہیں،اسی طرح اگر وصیت میں بیٹیوں کی صراحت کرے تو وصیت فقط بیٹیوں کے لیے ہو گی۔ 13: جو شخص وصیت لکھ دیتا ہے اور اس پر گواہ نہیں بناتا تو پھر بھی وہ نافذ ہو گی،ا لّا یہ کہ اس سے رجوع ثابت ہو جائے تو وصیت باطل قرار پائے گی اور نافذ نہیں ہو گی۔ ٭ وصیت کا تحریری نمونہ: بسم اللہ اور اللہ کی حمدوثنا کے بعد:’’یہ فلاں بن فلاں وصیت کر رہا ہے،اس کے گواہوں کو علم ہے کہ صحتِ عقل اور ثبوت فہم کی حالت میں یہ وصیت ہوئی ہے۔’ ’صاحب وصیت‘‘ گواہی دیتا ہے کہ ایک اللہ ہی معبود برحق ہے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں،اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور جنت حق ہے،دوزخ حق ہے اور قیامت قریب آنے والی ہے اور اللہ قبر والوں کو اٹھائے گا۔(وصیت کرنے والا)اپنی اولاد،اہل و عیال اور قرابت داروں کو اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور اس کی اطاعت کی وصیت کرتا ہے اور یہ کہ شریعت اسلامیہ کا التزام کیا جائے اور اقامت دین کا فریضہ سر انجام دیا جائے اور یہ کہ انھیں موت اسلام پر آئے اور یہ بندہ(اللہ اس کو معاف کرے اور اس کے ساتھ نرمی فرمائے)وصیت کرتا ہے کہ لازماً آنے والی موت جو اللہ نے مخلوق پر لکھ دی ہے،کے بعد اس کے ترکہ میں سے پہلے تجہیزوتکفین اور دفن کا انتظام کیا جائے،پھر اس کے ذمے جو قرضہ جات ہوں ان کی ادائیگی کی جائے،جن کا اقرار ان گواہوں کے سامنے کر رہا ہوں جس کی تفصیل یہ ہے:اور پھر کل مال کی تہائی میں سے فلاں کو اتنا دیا جائے اور جو باقی بچے وہ ورثاء میں اللہ تعالیٰ کے’’قانون وراثت‘‘کے مطابق تقسیم کر دیا جائے۔ اور یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ اس کے چھوٹے بچوں،جو کہ فلاں فلاں ہیں کی ضروری نگہداشت کی جائے اور ان کے ’’حصصْ وراثت‘‘ کا ان کے بالغ اور صاحب رشد ہونے تک تحفظ کیا جائے۔یہ تمام ’’وصیت‘‘ فلاں کو کی جا رہی ہے اور بندہ اللہ تعالیٰ کے بعد اس پر اعتماد اس لیے کر رہا ہے کہ اس کی دیانت،عدالت اور کفایت کا یہ وصیت کرنے والا اقرار و اعتراف کرتا ہے اور اس کو یہ بھی اختیار دیتا ہے کہ انھیں اپنی پسند کے مطابق کسی اور کے سپرد کر دے یا وصیت کرے۔مجلس وصیت میں وہ شرعی طریقے پر اس کو قبول کر رہا ہے اور گواہ بنا رہا ہے،جبکہ مذکورہ عبارت پر تحریر و نظرثانی کے بعد دستخط بھی ثبت کر دیے ہیں۔‘‘ مؤرخہ... وقف کا بیان: ٭ وقف کی تعریف: اصل چیز کو بیع،وراثت اور ہبہ سے محفوظ کر لینا اور اس کی آمدنی کسی خاص مد کے لیے فی سبیل اللہ متعین کرنا ’’وقف‘‘ کہلاتا ہے۔٭ ٭ وقف کا حکم: وقف کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور یہ کام مندوب ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿إِلَّا أَن تَفْعَلُوا إِلَىٰ أَوْلِيَائِكُم مَّعْرُوفًا﴾’’ا لّا یہ کہ تم اپنے اولیاء کے ساتھ احسان کرو۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِذَا مَاتَ الإِْنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ:إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ،أَوْعِلْمٍ یُّنْتَفَعُ بِہِ،أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَّدْعُولَہُ‘ ’’جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں مگر تین چیزیں جاری رہتی ہیں۔خیرات یا علم جس سے فائدہ حاصل کیا جا رہا ہے یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔‘‘[2] ٭ صحتِ وقف کی شرائط: 1: وقف کرنے والا اس کا اہل ہو،یعنی اس چیز کا مالک ہو اور سوجھ بوجھ رکھتا ہو۔ 2: اگر ’ ’موقوف علیہ‘‘(جس کے لیے وقف کیا جا رہا ہے)معین شخص ہے تو ضروری ہے کہ وہ مالک بننے کی اہلیت رکھتا ہو،لہٰذا عورت کے پیٹ میں بچے اور غلام(مملوک)کے لیے وقف درست نہیں ہے اور اگر’ ’وقف‘‘ غیر متعین کے لیے ہے تو اس سے صرف اللہ کا تقرب حاصل کرنا مطلوب ہو،لہٰذا لہو و لعب،گرجا گھروں اور حرام کاموں کے لیے وقف درست نہیں ہے۔ 3: صریح الفاظ کے ساتھ ’’وقف‘‘ ہو سکے گا،مثلاً:’’وقف‘‘ یا ’’حبس‘‘ یا ’’تصدق‘‘ کا لفظ استعمال کیا جائے۔٭ 4: جس چیز کو وقف کیا جا رہا ہے،وہ ایسی ہو کہ آمدنی حاصل کرنے کے بعد بھی باقی رہے،مثلاً:مکان یا اراضی وغیرہ اور جو چیز استعمال کرنے سے ختم ہو جائے،مثلاً:طعام اور خوشبو وغیرہ تو ایسی چیزوں میں ’ ’وقف‘‘ نہیں ہے اور نہ ہی اسے ’’وقف‘‘ کہا جاتا ہے بلکہ ایسی چیزوں کے خیرات کرنے کو صدقہ کہتے ہیں۔ ٭ وقف کے احکام: 1: اولاد کے لیے ’’وقف‘‘صحیح ہے،مثلاً:اگر یوں کہے کہ میں اپنی اولاد کے لیے وقف ٭ یعنی اسے فروخت یا ہبہ کرنا یا بطور ترکہ ورثاء میں تقسیم کرنادرست نہیں ہے کیونکہ وقف کے ذریعے وہ ان تصرفات سے محفوظ کر لی گئی ہے۔(ع،ر)٭ عربی میں یہ تینوں الفاظ’’وقف‘‘ کا واضح مفہوم رکھتے ہیں،مقصد یہ ہے کہ مبہم الفاظ استعمال نہ کیے جائیں جن کی ’’وقف‘‘ کے علاوہ کوئی اور توجیہ بھی کی جا سکتی ہو۔(ع،ر) کرتا ہوں تو اس میں بیٹے اور بیٹیاں دونوں داخل ہیں،البتہ اس لفظ میں بیٹوں کی اولاد بھی داخل ہو گی،جبکہ بیٹیوں کی اولاد نہیں اور اگر یوں کہے کہ میں اپنی اولاد اور اولاد کی اولاد کے لیے وقف کرتا ہوں تو یہ بیٹوں کی اولاد اور بیٹیوں کی اولاد سب کو شامل ہے اور اگر یوں کہے کہ میں اپنے بیٹوں کے لیے وقف کرتا ہوں تو اس سے صرف لڑکے مراد ہوں گے،لڑکیاں نہیں۔ہاں،اگر’’بیٹیوں ‘‘ کا لفظ بولتا ہے تو صرف بیٹیوں کے لیے وقف ہو گا اور یہ اس صورت میں ہے جب الفاظ کے معانی میں فرق سمجھنا ہو ورنہ الفاظ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ 2: وقف کرنے والے نے اگر کوئی شرط عائد کی ہے تو اس پر عمل کیا جائے گا،مثلاً:کہتا ہے کہ میں عالم،محدث یا فقیہ کے لیے وقف کرتا ہوں تو یہ کسی اور ماہر علم،مثلاً:نحوی یا عروضی وغیرہ کے لیے وقف نہیں ہو گا۔اگر یہ کہتا ہے کہ میں یہ چیز اپنی اولاد کے لیے پھر ان کی اولاد کے لیے اور پھر ان کی اولاد کے لیے وقف کرتا ہوں۔یا کہتا ہے کہ پہلے طبقہ والے(اولاد)دوسرے طبقہ(اولاد کی اولاد)کے لیے رکاوٹ بن جائیں گے تو اس کے مطابق ہی عمل ہو گا۔اس صورت میں دوسرے طبقہ کو اس وقت تک حق نہیں ملے گا،جب تک پہلے طبقہ کے افراد موجود ہیں۔لہٰذا اگر وقف تین بھائیوں کے لیے ہے اور ان میں سے ایک بھائی فوت ہو جائے اور وہ اولاد چھوڑ جائے تو وقف اس کی اولاد کو منتقل نہیں ہو گا بلکہ اس کے دونوں بھائی اسے حاصل کریں گے،جب اس نے،اوپر والے طبقہ کو حاجب(رکاوٹ)قرار دیا ہو۔ 3: محض وقف کا اعلان کرنے سے یا جائیداد ’’موقوف علیہ‘‘کے سپرد کرنے سے وقف لازم ہو جاتا ہے،اس کے بعد وقف کرنے والا اسے فسخ نہیں کر سکتا اور نہ ہی فروخت یا ہبہ کر سکتا ہے۔ 4: اگر ویران ہونے کی وجہ سے ’’وقف‘‘(کردہ زمین)سے فائدہ حاصل کرنا ممکن نہیں رہا تو بعض علماء اس کے فروخت کرنے اور قیمت اسی طرح کے کام میں لگانے کا فتویٰ دیتے ہیں،اگر کچھ بچ رہے تو مسجد کے لیے صرف کیا جائے یا فقراء و مساکین پر خیرات کر دی جائے۔ ٭ وقف کا تحریری نمونہ: بسم اللہ اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد:فلاں اقرار کرتا ہے کہ اس نے درج ذیل چیز کو وقف اور حبس کر دیا ہے جو اب تک اس کے قبضے،ملکیت اور تصرف میں تھی اور فلاں دستاویز کی رو سے اس کے لیے اس کا ملکیت ہونا ثابت تھا یا جو اسے اپنے والد کی طرف سے وراثت میں ملی تھی اور جس کا حدود اربعہ یہ ہے..۔ یہ وقف شرعی اصولوں کے مطابق ہے اور صراحتاً اسے ’’وقف‘‘ کر رہا ہے،اسے کبھی فروخت،رہن اور ہبہ نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی وراثت میں تقسیم ہو گا۔اگر اس سے فائدہ حاصل کرنا معدوم ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے جذبے سے اس کی مثل کے ساتھ ہی اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے،نیز زمانے کی طوالت بھی اس وقف کو ختم نہیں کر سکے گی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید پختگی آئے گی اور مذکورہ مقصدیت میں یہ اور نمایاں ہو جائے گا۔ فلاں وقف کرنے والے نے(اللہ اسے نیکی کی توفیق عطا کرے)اسے مذکورہ مقاصد کے لیے وقف کیا ہے اور ساتھ یہ بات ملحوظ رہے کہ اس ’’وقف‘‘ کا متولی و منتظم اس کی آمدنی میں سے اس کی آبادی،درستی اور اصلاح کرے گا تاکہ یہ دیرپا رہے اور وقف کنندہ کی غرض پوری ہوتی رہے اور جو آمدنی بچ جائے اسے درج ذیل مصارف پر جن کی تفصیل یہ ہے:خرچ کرے گا۔ہمیشہ کے لیے اس ’’وقف‘‘ کو اسی طرح استعمال کیا جائے۔نیز ’’متعینہ جہات‘‘ کے لیے خرچ منقطع ہونے کی صورت میں یہ ’’وقف‘‘ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں سے فقراء و مساکین کے لیے ہے۔ ’’واقف مذکور‘‘(وقف کرنے والے)نے تاحیات اس کی تولیت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری قبول کر لی ہے،وہ اکیلا اس کام کو سرانجام دے گا اور کوئی اس میں مشارکت اور منازعت کا حق نہیں رکھتا۔اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ اس بارے میں وہ کسی کو وصیت کرے اور اختیار اس کے سپرد کر دے۔ ’’واقف مذکور‘‘ کی وفات کے بعد اس کا فلاں بیٹا متولی ہو گا یا اس کی اولاد میں جو معاملہ فہم،سوجھ بوجھ کا مالک ہو،متولی قرار پائے گا۔’’واقف مذکور‘‘ نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ اس جائیداد کو سال سے زیادہ کرائے پر نہ دیا جائے اور کرائے پر دینے والا اس وقت تک کسی سے نیا معاہدہ نہ کرے جب تک پہلے معاہدے کی مدت ختم نہ ہو اور یہ کہ کرایہ متولی و منتظم وصول کرے گا۔ اب یہ ’’وقف‘‘ ’’واقف‘‘ کی ملکیت سے خارج ہو گیا ہے اور ہمیشہ کے لیے ’’صدقہ جاریہ‘‘ شریعت اسلامیہ کے احکام کے مطابق قرار پایا ہے اور اس نے اپنا قبضہ ختم کر دیا ہے۔ ’’یہ پوری طرح ’’وقف‘‘ ہے اور اس پر ’’احکام وقف‘‘ لاگو ہیں۔کسی کے لیے جائز اور حلال نہیں کہ اپنے فتوے،یا فیصلے کے ذریعے سے اس ’’وقف‘‘ کو توڑ یا تبدیل کر سکے۔اگر کسی نے اس کو تباہ و برباد کرنا چاہا تو اللہ کی عدالت عالیہ میں اس کے خلاف استغاثہ دائر ہو گا اور اس وقت ظالموں کو معذرت فائدہ نہیں دے گی۔ان کے لیے لعنت ہو گی اور برا ٹھکانہ ان کا مقدر ہو گا۔ ’ ’واقف‘‘ اس بنیاد پر کہ وہ شرعًا وقف کرنے کا مجاز ہے مذکورہ بالا جملہ امور کو بقائمیِ ہوش و حواس اور کمال عقل و صحت و سلامتی شرعی طور پر قبول کر کے اس وقف نامے کو اپنے اوپر گواہ بناتا ہے۔تاریخ تحریر::: ہبہ کا بیان: ٭ ہبہ کی تعریف: کسی سمجھدار شخص کا اپنا مال و متاع کسی کو تبرعاً(نیکی کرتے ہوئے)دے دینا،جیسا کہ ایک مسلمان کسی کو مکان یا کپڑے یا طعام یا درہم و دینار ہبہ کر دے۔ ٭ ہبہ کا حکم: ’’ہبہ‘‘اور ’’ہدیہ‘‘ شرعًامستحب ہیں،اس لیے کہ یہ ایک ایسی نیکی ہے،جس کی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں ترغیب دلائی ہے:﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ ’’تم ہرگز اچھائی نہیں حاصل کر سکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزیں خرچ نہ کرو۔‘‘[1] اور فرمایا:﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ﴾’’نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرو۔‘‘[2] مزید ارشاد عالی ہے:﴿وَآتَى الْمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَىٰ﴾’’اور محبت کے باوجود مال رشتہ داروں کو دے۔‘‘[3] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’تَھَادُوا تَحَابُّوا‘’’ایک دوسرے کو تحفے دو،اس سے باہم محبت بڑھے گی۔‘‘[4] اور فرمایا:’اَلْعَائِدُ فِي ھِبَتِہِ کَالْعَائِدِ فِي قَیْئِہِ‘ ’’ہبہ‘‘ دے کر واپس لینے والا،اس کتے کی مانند ہے جو اپنی قے چاٹ لیتا ہے۔‘‘[5] اور عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَقْبَلُ الْھَدِیَّۃَ وَیُثِیبُ عَلَیْھَا‘ ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس پر بدلہ(بھی)دیتے تھے۔‘‘[6] نیز ارشاد فرمایا:’مَنْ سَرَّہُ أَنْ یُّبْسَطَ لَہُ فِي رِزْقِہِ،وَأَنْ یُّنْسَأَلَہُ فِي أَثَرِہِ فَلْیَصِلْ رَحِمَہُ‘ ’’جس کو یہ بات اچھی لگے کہ اس کی روزی میں فراخی ہو اور یہ کہ دیر تک اس کا تذکرہ رہے،اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔‘‘[7] ٭ ہبہ کی شرائط: 1:سائل کے سوال کے نتیجہ میں ’’ہبہ‘‘ کرنے والے کا سوال قبول کرنا اور اپنی رضامندی سے چیز دینا۔ 2:جسے ’’ہبہ‘‘ دیا جا رہا ہے،اس کا اپنی زبان سے یہ کہہ کر قبول کرنا کہ ’میں اس ’’ہبہ‘‘ کو قبول کرتا ہوں یا صرف اس چیز کو اپنے قبضہ میں لے لینا،اس لیے کہ اگر کسی نے ’’ہبہ‘‘ کیا ہے اور’ ’جسے ہبہ کی گئی ہے‘‘ اس نے اسے اپنے قبضہ میں نہیں لیا،اس دوران میں ’’واہب‘‘(ہبہ کرنے والا)فوت ہو گیا تو اس چیز میں ورثاء کا حق در آئے گا اور جس شخص کے لیے چیز ہبہ کی گئی ہے اس کا اب اس میں کوئی حق نہیں رہے گا،اس لیے کہ’ ’ہبہ‘‘ کی شرط’ ’قبول‘‘ ہے اگر ہبہ کیا گیا شخص اسے قبول کر لے تو اسے چاہیے کہ جس طرح بھی ممکن ہو فوری قبضہ کرے۔ ٭ ’’ہبہ‘‘ کے احکام: 1:اگر اولاد میں سے کسی کو عطیہ دے دیا ہے تو باقی اولاد کو بھی اسی طرح کا عطیہ دینا مستحب ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اِتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِکُمْ‘ ’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے بارے میں عدل و انصاف کرو۔‘‘[1] 2: ’’ہبہ‘‘ کر کے واپس لینا حرام ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’اَلْعَائِدُ فِي ھِبَتِہِ کَالْعَائِدِ فِي قَیْئِہِ‘ ’’ہبہ‘‘ واپس لینے والا،اس شخص کی طرح ہے جو اپنی قے کھا لیتا ہے۔‘‘[2] اِلَّا یہ کہ ’’ہبہ‘‘ کرنے والا والد ہو تو وہ اپنی اولاد کو ’’ہبہ‘‘ کر کے واپس لے سکتا ہے،اس لیے کہ اولاد اور ان کا مال ’’والد‘‘ ہی کا تو ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اقدس ہے:((لَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ یُّعْطِيَ عَطِیَّۃً فَیَرْجِعَ فِیھَا إِلَّا الْوَالِدَ فِیمَا یُعْطِي وَلَدَہُ)) ’’کسی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ عطیہ کر کے واپس لے مگر والد جو اپنی اولاد کو دیتا ہے۔‘‘[3] 3: ’’عوض‘‘ ملنے کی نیت سے’ ’ہبہ‘‘ کرنا درست نہیں ہے،یعنی ایک مسلمان اس لیے ’’ہبہ‘‘ کرے تا کہ دوسرا اس سے بڑھ کر کوئی چیز بدل دے،اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللّٰهِ ۖ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللّٰهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ﴾ ’’اور جو تم سود دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو اللہ کے ہاں اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکاۃ دیتے ہو تم اس سے اللہ کی رضا طلب کرتے ہو تو ایسے ہی لوگ(دنیا و آخرت میں اپنے مال کو)بڑھانے والے ہیں۔‘‘[4] اور جس کو اس شرط پر’ ’ہدیہ‘‘ دیا جا رہا ہوکہ وہ اسے اس کا عوض دے گا تو اسے اختیار ہے،چاہے قبول کرے یا رد کر دے اور اگر اس نے قبول کر لیا تو اس کے مساوی یا زیادہ اس کے ’’عوض‘‘ میں ’ ’ہبہ‘‘ کرنا لازم ہے،اس لیے کہ اب یہ بیع والی صورت بن گئی ہے،علاوہ ازیں ہدیے کے مقابلے میں ہدیہ دینے کی ترغیب بھی آئی ہے،سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:’کَانَ النَّبِيُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَقْبَلُ الْھَدِیَّۃَ وَیُثِیبُ عَلَیھَا‘ ’’نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ’’ہدیہ‘‘ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔[5] اور اس لیے بھی کہ آپ کا فرمان ہے:’مَنْ صَنَعَ إِلَیْکُمْ مَّعْرُوفًا فَکَافِؤہُ‘ ’’جو شخص تمھارے ساتھ نیکی کرتا ہے تو اس کو بدلہ دو۔‘‘[1] اور فرمایا:’مَنْ صُنِعَ إِلَیْہِ مَعْرُوفٌ،فَقَالَ لِفَاعِلِہِ:جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا،فَقَدْ أَبْلَغَ فِي الثَّنَائِ‘ ’’جس کے ساتھ حسن سلوک ہوا اور وہ کرنے والے کو کہے:اللہ تجھے اچھی جزا دے تو اس نے اس کی بہت اچھی تعریف کی۔‘‘[2] ٭ ہبہ کا تحریری نمونہ: بسم اللہ اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد:’’فلاں عاقل،بالغ نے اپنی صحت،عقل وفہم اور شرعاً ایسا کرسکنے کی حالت میں اپنا فلاں مکان کہ جس کا حدود اربعہ یہ ہے ... کسی عوض و تبادلہ کے بغیر فلاں شخص کو شرعی طور پر ’’ہبہ‘‘کر دیا ہے اور’’ہبہ کیے گئے شخص‘‘کا اس پر قبضہ و تصرف کرا دیا ہے اور مذکورہ(ہبہ شدہ)مکان اس کی ملکیت ہو گیا ہے اور ہبہ کیے گئے شخص کے حقوق میں سے ایک حق بن گیا ہے۔ مؤرخہ... تنبیہ:اگر’ ’ہبہ کرنے والا‘‘ اپنی(نابالغ)اولاد کو عطیہ دے رہا ہے تو یہ لفظ بھی لکھے کہ(میں)’’ہبہ کرنے والے‘‘نے اسے(ہبہ والی چیز کو)اپنے چھوٹے بیٹے کی طرف سے قبول کیا اور اسے اس کی طرف سے شرعی طور پر تسلیم کر لیا ہے،اس طرح ’’ہبہ مذکور‘‘اس کے چھوٹے(نابالغ)بیٹے کی ملکیت اور اس کا حق قرار پایا ہے اور جس پر اس کے مذکورہ بچے نے قبضہ کر لیا ہے۔ تاریخ... عمرٰی کا بیان: ٭ عمرٰی کی تعریف: مسلمان اپنے بھائی کو یہ کہے کہ میں تجھے جب تک تو زندہ ہے،اپنا مکان یا باغ دیتا ہوں یا اپنے گھر کی رہائش یا اپنے باغ کی آمدنی دیتا ہوں۔ ٭ عمرٰی کا حکم: مذکورہ انداز کا ہبہ’ ’عمریٰ‘‘کہلاتا ہے اور جائز ہے،اس لیے کہ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ((إِنَّمَا الْعُمْرَی الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ یَّقُولَ:ھِيَ لَکَ وَلِعَقِبِکَ،فَأَمَّا إِذَا قَالَ ھِيَ لَکَ مَا عِشْتَ،فَإِنَّھَا تَرْجِعُ إِلٰی صَاحِبِھَا)) ’’عمرٰی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نافذ قرار دیا ہے،یہ ہے کہ’ ’ہبہ‘‘کرنے والا کہے کہ’ ’یہ چیز میں تجھے اور تیرے وارثوں کے لیے دیتا ہوں۔اگر یوں کہتا ہے کہ جب تک تو زندہ ہے یہ چیز تجھے دیتا ہوں تو(اس کی وفات پر) یہ مالک کو واپس ہو جائے گی۔‘‘[1] ٭ عمرٰی کے احکام: 1: اگر علی الاطلاق بایں الفاظ ہبہ کرتا ہے کہ میں یہ گھر تجھے ’’عمرٰی‘‘کے طور پر دیتا ہوں تو یہ گھر اس شخص کا ہو گا اور اس کے بعد وراثت میں تقسیم ہو جائے گا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اَلْعُمْرٰی لِمَنْ وُّھِبَتْ لَہُ‘ ’’عمرٰی اس کے لیے ہے،جسے ’’ہبہ‘‘ کیا گیا۔‘‘ [2] اور اگر کہتا ہے:یہ تیرے لیے اور تیرے بعد تیری اولاد کے لیے ہے تو بھی اس کا مالک وہی شخص ہے اور اس کے بعد اس کے ورثاء اس کے مالک ہیں ’’واہب‘‘کو کسی صورت وہ واپس نہیں ملے گا،اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے: ((أَیُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرٰی لَہُ وَلِعَقِبِہِ،فَإِنَّھَا لِلَّذِي أُعْطِیَھَا لَا تَرْجِعُ إِلَی الَّذِي أَعْطَاھَا،لِأَنَّہُ أَعْطٰی عَطَائً وَّقَعَتْ فِیہِ الْمَوَارِیثُ)) ’’جس شخص نے کسی شخص اور اس کی اولاد کے لیے عمرٰی دیا تو وہ انھی کا ہے جو دینے والے کو واپس نہیں ہوتا،اس لیے کہ اس نے ایک ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت کا نفاذ ہو گیا ہے۔‘‘[3] 2: اگر’ ’ عمرٰی‘‘ میں کہا جائے:جب تک تو زندہ ہے،یہ تیرے لیے ہے اور جب تو مر جائے گا تو یہ مجھے یا میری اولاد کو واپس ہو جائے گا تو’ ’موہوب لہ‘‘ کی وفات کے بعد یہ عطیہ واپس ہو جائے گا،اس لیے کہ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ((إِنَّمَا الْعُمْرَی الَّتِي أَجَازَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم أَنْ یَّقُولَ:ھِيَ لَکَ وَلِعَقِبِکَ،فَأَمَّا إِذَا قَالَ ھِيَ لَکَ مَا عِشْتَ،فَإِنَّھَا تَرْجِعُ إِلٰی صَاحِبِھَا)) ’’عمرٰی‘‘ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نافذ قرار دیا ہے،یہ ہے کہ’ ’ہبہ‘‘ کرنے والا کہے کہ یہ چیز میں تجھے اور تیرے وارثوں کے لیے دیتا ہوں۔پس اگر یوں کہے جب تک تو زندہ ہے،میں یہ چیز تجھے دیتا ہوں تو یہ مالک کو واپس ہو جائے گا۔‘‘[4] رقبیٰ کا بیان ٭ رقبیٰ کی تعریف: ایک مسلمان اپنے بھائی کو یہ کہے کہ’ ’اگر میں تجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو میرا گھر یا باغ تیرا ہو گیا اور اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہوا تو تیرا گھر میرا ہو گا‘‘یا یوں کہے کہ’ ’میری یہ چیز تیری زندگی تک تیری ہے،اگر تو مجھ سے پہلے مر گیا تو مجھے واپس ہو جائے گی،اگر میں پہلے مر گیا تو یہ تیرے پاس ہی رہے گی۔ ٭ رقبیٰ کا حکم: شرعی طور پر ’’رقبیٰ‘‘ درست نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا تُرْقِبُوا،فَمَنْ أَرْقَبَ شَیْئًا فَھُوَ سَبِیلُ الْمِیرَاثِ)) ’’رقبیٰ کے طور پر کوئی چیز نہ دو،اگر کسی نے رقبیٰ کے طور پر دیا تو اس میں وراثت نافذ ہو جائے گی۔‘‘[1] اور اس لیے بھی کہ یہ دونوں پھر ایک دوسرے کی موت کے منتظر رہیں گے اور تمنا کریں گے اور ہو سکتا ہے اس بارے میں یہ کوئی عملی قدم بھی اٹھا بیٹھیں،اسی لیے جمہور علماء نے ’’رقبیٰ‘‘ سے منع کیا ہے۔ ٭ رقبیٰ کے احکام: اگر ایک مسلمان اس غیر مستحسن ’’ہبہ‘‘(رقبیٰ)کا ارتکاب کر بیٹھا ہے تو اس پر عمرٰی والے احکام نافذ ہو جائیں گے۔اگر علی الاطلاق ’’رقبیٰ‘‘ کیا ہے تو ’’موہوب لہ‘‘(ہبہ کیا گیا شخص)اور اس کے ورثاء اس کے مستحق ہوں گے،اگر مقید کیا ہے تو قید کے مطابق فیصلہ ہو گا،اگر ’’واہب‘‘ نے واپسی کی شرط عائد کی ہے تو یہ ’’ہبہ‘‘ واپس ہو گا،ورنہ نہیں۔ ٭ رقبیٰ کا تحریری نمونہ: بسم اللہ،اللہ کی حمد و ثنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد:فلاں نے اپنے پودے یا باغ کو ’’عمرٰی‘‘کے طور پر یا ’’رقبیٰ‘‘ کے انداز میں شرعی قانون کے مطابق فلاں کو دے دیا ہے۔یہ اس کے لیے ہے اور اس کے بعد اس کے وارثوں کے لیے یا پھر تا حیات اس کے لیے ہے اور جب وہ مر جائے گا تو واپس ہو جائے گا۔وہ اس پر قابض ہو کر اس میں رہائش رکھ سکتا ہے اور دیگر منافع بھی حاصل کر سکتا ہے اور اس پر گواہوں کے دستخط ثبت ہیں۔ مؤرخہ...