توحید ِ عبادت
قرآن وسنت سے دلائل
ہر مسلمان یہ ایمان رکھتا ہے کہ سب اولین و آخرین کا معبود اور کل کائنات کا مربی،ایک اللہ تعالیٰ ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں،نہ اس کے سوا کوئی رب ہے،لہٰذا عبادت کا ہر انداز جو اس نے بندوں کے لیے مشروع فرمایا ہے صرف اللہ جل شانہٗ کے لیے مختص ہے۔عبادت کا کوئی بھی طر یق اللہ کے سوا کسی کے لیے روا نہیں ہے۔سوال اسی سے کیا جائے گا،مدد اسی سے مانگی جائے گی،نذرونیاز،خوف و رجا(امید)،انابت و محبت،تعظیم و توکل اور اسی طرح جملہ باطنی اعمال اسی کے لیے ہیں اور ظاہری اعمال نماز،زکاۃ،روزہ،حج اور جہاد بھی سب اسی کے لیے خاص ہیں۔نقلی و عقلی دلائل اس عقیدے کی بنیاد ہیں۔
کتاب و سنت سے دلائل:
1: اللہ جلّ مجدہ نے اس کا حکم دیا ہے۔ارشادِ باری ہے:﴿لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِ﴾
’’میرے سوا کوئی معبود(برحق)نہیں سو میری ہی عبادت کرو۔‘‘[1]
ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ﴾’’اور مجھ ہی سے ڈرو۔‘‘[2] ارشادِ عالی ہے:﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴿٢١﴾الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلّٰهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
’’اے لوگو!اپنے رب کی عبادت کرو،جس نے تمھیں اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا تاکہ تم متقی بن جاؤ۔جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا،پھر اس کے ذریعے سے تمھارے لیے پھلوں سے روزی نکالی،لہٰذا تم جانتے بوجھتے اللہ کے شریک نہ بناؤ۔‘‘[3]
٭ جو چیز بھی کتاب و سنت کی رو سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اس میں اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک تسلیم کرنا،توحید ہے چونکہ عبادت کا مستحق ہونا اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے،لہٰذا کتاب و سنت کی رو سے جو چیز بھی عبادت کا درجہ رکھتی ہے وہ خالصتاً اللہ کا حق ہے اور صرف اسی کے لیے اسے ادا کیا جائے گا۔(ع،ر)
ارشادِ ربانی ہے:﴿فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللّٰهُ﴾’’یقین کیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘[1]
ارشادِ گرامی ہے:﴿فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾’’پس اللہ کی پناہ طلب کر۔یقینا وہی سننے والا،جاننے والا ہے۔‘‘[2]
ارشادِ مقدس ہے:﴿وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾’’اورچاہیے کہ مومن اللہ ہی پر بھروسا کریں۔‘‘[3]
2. اللہ رب العزت نے توحیدِ عبادت کے متعلق ہمیں خبر دی ہے:﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ﴾
’’اور یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔‘‘[4]
فرمانِ عالی ہے:﴿فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا﴾
’’اور جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا یقینا اس نے مضبوط کڑا پکڑ لیا ہے جو ٹوٹنے والا نہیں۔‘‘[5]
فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ﴾
’’اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے،ان کی طرف یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی معبود(حقیقی)نہیں،پس میری ہی عبادت کرو۔‘‘[6] اور فرمایا:﴿قُلْ أَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَأْمُرُونِّي أَعْبُدُ أَيُّهَا الْجَاهِلُونَ﴾’’کہہ دو:اے جاہلو!کیا تم مجھے یہی حکم دیتے ہو کہ میں غیر اللہ کی عبادت کروں ؟۔‘‘[7]
نیز فرمایا:﴿إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾’’ہم تیری ہی عبادت کرتے اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔‘‘[8]
مزید فرمایا:﴿يُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ أَنْ أَنذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ﴾
’’وہ اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے،فرشتوں کو اپنے حکم سے روح(وحی)دے کر بھیجتا ہے کہ تم(لوگوں کو)ڈراؤ(اور انھیں بتاؤ)کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو تم مجھ ہی سے ڈرو۔‘‘[9]
3: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں توحید عبادت کے متعلق خبر دی ہے،چنانچہ آپ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے یہ حکم دیا:’فَلْیَکُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلٰی أَنْ یُّوَحِّدُوا اللّٰہَ تَعَالٰی‘’’ تیری انھیں سب سے پہلی دعوت،اللہ کی وحدانیت کی ہونی چاہیے۔‘‘[10] نیز فرمایا:
((یَا مُعَاذُ!أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟ قَالَ:اَللّٰہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ،قَالَ:أَنْْ یَّعْبُدُوہُ وَ لَا یُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا))
’’اے معاذ!کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کے بندوں پر کیا حقوق ہیں ؟‘‘ انھوں نے کہا:اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا:’’(وہ یہ ہیں)کہ بندے اسی کی عبادت کریں اور اس میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔‘‘[1]
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا:’إِذَا سَأَلْتَ فَاسْئَلِ اللّٰہَ،وَ إِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ‘
’’جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر اور جب مدد مانگے تو اللہ سے مانگ۔‘‘ [2]
کسی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جیسے آپ چاہیں اور اللہ چاہے آپ نے فرمایا:’’صرف یہ کہو:جو اکیلا اللہ چاہے۔‘‘[3]
اور فرمایا:’إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ الشِّرْکُ الْأَصْغَرُ،قَالُوا:وَمَا الشِّرْکُ الْأَصْغَرُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ:الرِّیَائُ،یَقُولُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِذَا جُزِيَ النَّاسُ بِأَعْمَالِہِمْ:اِذْہَبُوا إِلَی الَّذِینَ کُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْیَا فَانْظُرُوا ہَلْ تَجِدُونَ عِنْدَہُمْ جَزَائً؟‘
’’بے شک مجھے تم پر سب سے زیادہ خطرہ چھوٹے شرک کا ہے۔‘‘ صحابہ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول!چھوٹا شرک کیا ہے؟ فرمایا:’’دکھلاوا!اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تو(ریاکاروں سے)فرمائے گا:ان لوگوں کے پاس جاؤ جنھیں دکھانے کے لیے تم یہ عمل کرتے رہے،پھر دیکھو کیا ان کے پاس کوئی جزا ہے۔‘‘ [4]
جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّٰهِ﴾’’انھوں نے اپنے عالموں اور راہبوں کو اللہ کے علاوہ رب بنا لیا۔‘‘[5]
تو عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے عرض کی:ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔آپ نے فرمایا:’’کیا جب وہ تمھارے لیے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ کسی چیز کو حلال اور حلال کردہ چیز کو حرام قرار دیتے تھے تو تم ان کی بات مان نہیں لیتے تھے؟‘‘ عدی نے کہا:ہاں!آپ نے فرمایا:’’یہی تو ان کی عبادت ہے۔‘‘[6]
نیز آپ نے فرمایا:’إِنَّہُ لَا یُسْتَغَاثُ بِي،وَ إِنَّمَا یُسْتَغَاثُ بِاللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ‘[1]
’’مجھ سے مدد نہ مانگی جائے،(بلکہ)صرف اللہ عزوجل سے مدد طلب کی جائے۔‘‘[2]
یہ آپ نے اس وقت فرمایا،جب ایک صحابی نے کہا ’’آؤہم اس ایذا دینے والے منافق سے تحفظ کے لیے اللہ کے رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)کی مدد طلب کریں۔‘‘ نیز آپ کا ارشاد ہے:’مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ کَفَرَ أَوْ أَشْرَکَ‘’’جس شخص نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی،اس نے کفر یا شرک کیا۔‘‘[3]
مزید ارشاد ہے:’إِنَّ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَۃَ شِرْکٌ‘ ’’بے شک جھاڑ پھونک،تعویذ گنڈے اور جادو ٹونے سب شرک ہیں۔‘‘[4]