بیع و تجارت کا بیان
نقد ادائیگی اور اجناس کے مختلف ہونے کی صورت میں سود نہیں ہوتا
یعنی ایک ایسی بیع جس میں قیمت اور جس کی قیمت لگائی گئی ہے دونوں مختلف اجناس ہیں تو اس میں سود نہیں ہے،ا لّا یہ کہ اس میں ادھار ہو۔بنا بریں سونے کی بیع چاندی کے ساتھ کم و بیش جائز ہے،اسی طرح گندم کی بیع کھجور کے ساتھ اور نمک کی بیع جو کے ساتھ کم و بیش جائز ہے،جبکہ ان میں کوئی ایک ادھار نہ ہو۔٭ اس لیے کہ آپ کا فرمان ہے:
((إِذَا اخْتَلَفَتْ ھٰذِہِ الْأَصْنَافُ فَبِیعُوا کَیْفَ شِئْتُمْ،إِذَا کَانَ یَدًا بِیَدٍ))
’’جب ان(اشیاء)کی اجناس مختلف ہو جائیں تو جس طرح چاہو بیچو،جبکہ لین دین دست بدست ہو جائے۔‘‘[4]
٭ اگر ایک ہی جنس،مثلاً:کھجور کے تبادلے میں کمتر کھجور کے عوض اعلیٰ کھجور حاصل کرنا مقصود ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ردی کھجور بیچی جائے اور اس کی قیمت سے اعلیٰ کھجور خریدی جائے۔یہی اصول دیگر سودی اجناس میں بھی چلے گا۔واللہ اعلم(ع،ر)
٭ اور اگر دونوں طرف کی کھجور ہر لحاظ سے ایک ہی نوعیت اور معیار کی ہے تو پھر ان کے تبادلے کے لیے دو شرطیں ہیں:1. مقدار میں دونوں برابر ہوں۔2.دونوں فریق موقع پر ہی ایک دوسرے سے کھجور وصول کریں تا کہ وہ شریعت کی مخالفت اور سود کے شائبوں سے بچ جائے واللہ اعلم۔(عبدالسلام کیلانی)
٭ بعض نا سمجھ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ اگر ادھار ہو بھی جائے تو کیا حرج ہے۔حالانکہ سب سے بڑا حرج یہی ہے کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی لازم آتی ہے۔(ع،ر)
اسی طرح ’’مبیع‘‘یعنی بیچی جانے والی چیز موجود ہو اور قیمت ادھار تو یہ جائز ہے،جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے اونٹ خریدا تھا اور قیمت ادھار تھی،اسی طرح قیمت حاضر ہو اور ’’مبیع‘‘ یعنی جو چیز خریدنی ہو وہ ادھار ہو تو یہ بھی جائز ہے جیسا کہ ’’بیع سلم‘‘کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
((مَنْ سَلَفَ فِي تَمْرٍ،فَلْیُسْلِفْ فِي کَیْلٍ مَّعْلُومٍ،وَّوَزْنٍ مَّعْلُومٍ،إِلٰی أَجَلٍ مَّعْلُومٍ))
’’جو شخص کھجوروں کی پیشگی خریداری کرتا ہے تو وہ معین ناپ اور مقررہ وزن میں ایک معین مدت تک کے لیے کرے۔‘‘[1]
اس ’’بیع سلم‘‘میں پوری رقم پیشگی ادا کر دی جاتی ہے اور جنس کی ادائیگی فصل پکنے پر ہوتی ہے لیکن مذکورہ شروط کے ساتھ۔[2]