بیع و تجارت کا بیان
بیع میں جائز اور ناجائز شرائط
٭ صحیح اور جائز شرطیں:
’’بیع‘‘میں کسی صفت کی شرط لگانا درست ہے،اگر وہ صفت اس چیز میں پائی گئی تو بیع صحیح ہو گی ورنہ باطل،مثلاً:ایک شخص کتاب خریدتا ہے اور کہتا ہے میں تو صرف زرد کاغذ والی کتاب لوں گا یا مکان خریدتے وقت کہتا ہے کہ اس کے دروازے لوہے کے ہوں،وغیرہ۔اسی طرح کسی خاص منفعت کی شرط بھی جائز ہے،مثلاً:جانور بیچنے والا کہتا ہے:میں فلاں جگہ تک اس پر سواری کروں گا،پھر آپ کے حوالے کر دوں گا یا مکان فروخت کرنے والا شرط لگاتا ہے کہ ایک ماہ میں اس میں سکونت اختیار کروں گا،پھر خالی کروں گا یا کپڑے کا ’’خریدار‘‘شرط لگاتا ہے کہ اسے سلا کر دے یا لکڑی خریدنے والا کہتا ہے اسے کاٹ کر دے وغیرہ،اس لیے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے اونٹ پر سوار ہونے کی شرط لگائی تھی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خریدا تھا۔[2]
٭غیر صحیح اور ناجائز شرطیں:
1: ایک ’’بیع‘‘میں دو شرطیں لگانا،مثلاً:لکڑی خریدنے والا شرط لگائے کہ اسے کاٹ کر اور اٹھا کر فلاں جگہ پہنچا(تب خریدوں گا۔)اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’لَا یَحِلُّ سَلَفٌ وَّبَیْعٌ،وَلَا شَرْطَانِ فِي بَیْعٍ‘
’’قرض اور بیع(کو ایک دوسرے سے نتھی کرنا،یعنی یہ کہنا:پہلے قرض دو،پھر سودا کروں گا)حلال نہیں اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں(لگانا حلال ہے۔‘‘)[1]
2: ایسی شرط لگانا جس سے ’’بیع‘‘کا مقصد فوت ہو جائے،مثلاً:جانور بیچنے والا کہے ’’مشتری‘‘اسے آگے فروخت نہیں کر سکے گا یا زید کو ہبہ نہیں کرے گا یا عمر کو ہی ہبہ کرے گا یا یہ شرط لگاتا ہے کہ مجھے قرض دے یا فلاں چیز مجھے فروخت کر،تب میں یہ تجھے بیچتا ہوں،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَا یَحِلُّ سَلَفٌ وَّبَیْعٌ،وَلَا شَرْطَانِ فِي بَیْعٍ،وَلَا رِبْحُ مَالَمْ یُضْمَنْ،وَلَا بَیْعُ مَالَیْسَ عِنْدَکَ))
’’قرض اور بیع اور ایک بیع میں دو شرطیں حلال نہیں اور نہ ہی اس چیز کا نفع درست ہے جس کے نقصان کی ذمہ داری اپنے اوپر نہ لی گئی ہو اور نہ ہی اس چیز کی بیع(حلال ہے)جو تیرے پاس نہیں ہے۔‘‘[2]
3: ایسی شرط لگانا جو باطل اور لغو ہو،پھر بھی بیع(از روئے شریعت)صحیح قرار پائے(ایسی شرط کا اعتبار نہیں کیا جائے گا)،مثلاً:بائع یہ شرط لگاتا ہے کہ اسے ’’مشتری‘‘کو(سودا)بیچتے وقت خسارہ نہیں ہو گا یا غلام بیچنے والا کہے:اس کی ولاء میرے لیے ہے٭ تو یہ دونوں شرطیں باطل ہیں،جبکہ’’بیع‘‘صحیح ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَّیْسَ فِي کِتَابِ اللّٰہِ فَھُوَ بَاطِلٌ،وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَۃَ شَرْطٍ))
’’جو ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہیں،وہ باطل ہے،چاہے سو شرطیں ہوں۔‘‘[3]