بیع و تجارت کا بیان
بیع کا حکم،حکمت اور اجزاء
٭ بیع و تجارت کا حکم:
کتاب عزیز سے بیع(خرید و فروخت)کا مشروع ہونا ثابت ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَأَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾
’’اللہ نے ’’بیع‘‘کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔‘‘[1]
اسی طرح سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی قولاً و عملًا ’’بیع‘‘ کی مشروعیت ثابت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خرید و فروخت کی ہے۔اور فرمایا:’لَا یَبِعْ حَاضِرٌ لِّبَادٍ‘ ’’شہری دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے۔‘‘[2]
نیز فرمایا:’اَلْبَیِّعَانِ بِالْخِیَارِ مَالَمْ یَتَفَرَّقَا‘ ’’خریدوفروخت کرنے والے دونوں کو جب تک جدا نہ ہوں(سودا منسوخ کرنے کا)اختیار ہے۔‘‘[3]
٭ بیع و تجارت کی حکمت:
بیع کی مشروعیت میں یہ حکمت مدنظر ہے کہ انسانوں کی ضروریاتِ زندگی کسی کو نقصان پہنچائے بغیر پوری ہوتی رہیں۔
٭ نرد اور شطرنج کی ممانعت تو احادیث سے ثابت ہے۔(صحیح مسلم،الشعر،با ب تحریم اللعب بالنرد شیر،حدیث:2260،وسنن أبي داود،الأدب،باب في النھي عن اللعب بالنرد،حدیث:4939,4938)تاہم دوسرے کھیل جن کا تذکرہ فاضل مصنف نے مذکورہ سطور میں کیا ہے،ان میں اگر جوا بازی کا عنصر شامل ہو گا یا نماز یا دیگر فرائض سے ادائیگی میں مانع ہوں گے تو یقینا یہ بھی ناجائز قرار پائیں گے،بصورت دیگر بطور لغویات کے ان سے اعراض مستحب ہو گا لیکن بالکل حرام وناجائز کہنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت ہوگی۔(حافظ صلاح الدین یوسف)
٭ بیع و تجارت کے ارکان:
1: بائع:(بیچنے والا)اس کے لیے لازم ہے کہ جو چیز بیچ رہا ہے یہ اس کا مالک ہو،یا اسے اس کے بیچنے کی اجازت حاصل ہو،نیز معاملہ فہم ہو،کم عقل نہ ہو۔
2: مشتری:(خریدنے والا)خریدار کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ کم عقل اور نابالغ نہ ہوبلکہ عقد و تصرف کرنے کی استعداد رکھتا ہو۔
3: مبیع:جو چیز بیچی جا رہی ہے اور جس کی قیمت طے ہو رہی ہے وہ مباح اور پاک ہو’’بیچنے والا‘‘اس کی ادائیگی پر قادر ہو،وہ ’’خریدار‘‘کے لیے معلوم ہو،چاہے اس کے اوصاف ہی سے معلوم کرے۔
4: الفاظ عقد:’’ایجاب و قبول‘‘ مثلاً:ایک شخص کہے کہ مجھے فلاں چیز بیچ دے اور ’’بائع‘‘کہے کہ میں نے(وہ چیز)تیرے پاس بیچ دی ہے۔بعض اوقات کلام کے بغیر بالفعل بھی عقد ہو جاتا ہے جسے بیع بالتعاطی کہتے ہیں،مثلاً:مشتری بائع کو 100دے اور بائع اسے وہ کپڑا دے دے اور زبان سے کچھ نہ بولیں۔
5: باہمی رضا مندی:فریقین کی باہمی رضا کے بغیر کوئی بیع صحیح نہیں ہے،اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّمَا الْبَیْعُ عَنْ تَرَاضٍ‘ ’’بیع رضامندی کی بنیاد پر ہی درست ہے۔‘‘[1]