تقدیر پر ایمان
قرآن وسنت سے دلائل
اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر اور حکمت و مشیت پر ہر مسلمان کا یقینِ کامل ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کے علم و اندازے کے بغیر کوئی چیز وجود میں نہیں آتی،حتی کہ بندے کے اختیاری افعال بھی اس کی مشیت،حکمت،علم اور تقدیر کے تابع ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنی قضاوقدرمیں عادل اور اپنے تصرف و تدبیر میں حکیم ہے۔اس کی حکمت اس کی مشیت کے ماتحت ہے،وہ
جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو نہیں چاہتا نہیں کرتا۔کسی بھی کام سے رکنے یا اسے کرنے کی طاقت و صلاحیت اسی کی طرف سے ارزاں ہوتی ہے،درج ذیل عقلی اور نقلی دلائل سے یہ عقیدہ پوری طرح ثابت ہے:
تقدیر کے اثبات میں کتاب و سنت سے دلائل:
1: اللہ رب العزت نے اس کی بابت ہمیں خبر دی ہے۔ارشادِ باری ہے:﴿إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾’’بے شک ہم نے ہر چیز کو اندازے کے ساتھ پیدا کیا ہے۔‘‘[1]
ارشادِ الٰہی ہے:﴿وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ﴾
’’اور ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں اور ہم انھیں معلوم اندازے کے مطابق ہی اتارتے ہیں۔‘‘[2] ارشادِ عالی ہے:﴿مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيرٌ﴾
’’زمین پر یا تمھاری جانوں پر جو مصیبت آتی ہے،وہ قبل اس کے کہ ہم اُسے پیدا کریں،کتاب میں(لکھی ہوئی)ہے اور بے شک یہ(بات)اللہ کے لیے آسان ہے۔‘‘[3] ارشادِ ربانی ہے:﴿مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللّٰهِ﴾’’جو مصیبت بھی آتی ہے،وہ اللہ کے حکم ہی سے آتی ہے۔‘‘[4]
ارشادِ گرامی ہے:﴿وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ﴾
’’اور ہم نے ہر انسان کے(اچھے برے)اعمال اس کی گردن میں لٹکا دیے ہیں۔‘‘[5] ارشادِ مقدس ہے:﴿قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾’’کہہ دیجیے کہ ہمیں ہر گز کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ رکھی ہے۔وہ ہمارا مالک ہے اور ایمان والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔‘‘ [6] فرمانِ الٰہی ہے:﴿وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۚ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ﴾
’’اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں،انھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا،وہ خشکی اور سمندر کی ہر چیز کو جانتا ہے،وہ ہر گرنے والے پتے کو بھی جانتا ہے اور زمین کی تاریکیوں میں(کوئی)دانہ اور تازہ و خشک چیز(گرتی)ہے تو وہ بھی ’’کتابِ مبین‘‘ میں(لکھی ہوئی)ہے۔‘‘[7]
فرمانِ عالیشان ہے:﴿وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ﴾’’اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو اللہ رب العالمین چاہے۔‘‘[8]
نیز فرمایا:﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾’’یقینا جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے پہلے سے اچھائی کا فیصلہ ہوچکا ہے،وہ اس(دوزخ)سے دور رکھے جائیں گے۔‘‘[1]
مزید فرمایا:﴿وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللّٰهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ﴾
’’اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے کیوں نہیں کہا کہ جو اللہ چاہے(وہی ملتا ہے)اوراللہ کے بغیر(کسی کے پاس)طاقت نہیں ہے۔‘‘[2] اور فرمایا:﴿وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللّٰهُ﴾’’اور اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت نہ پا سکتے۔‘‘[3]
2: تقدیر الٰہی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں خبر دی ہے۔آپ نے فرمایا:’إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِي بَطْنِ أُمِّہِ أَرْبَعِینَ یَوْمًا،ثُمَّ یَکُونُ فِي ذٰلِکَ عَلَقَۃً مِّثْلَ ذٰلِکَ،ثُمَّ یَکُونُ فِي ذٰلِکَ مُضْغَۃً مِّثْلَ ذٰلِکَ،ثُمَّ یُرْسِلُ اللّٰہُ الْمَلَکَ فَیَنْفُخُ فِیہِ الرُّوحَ،وَ یُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ:بِکَتْبِ رِزْقِہِ وَ أَجَلِہِ وَ عَمَلِہِ وَ شَقِيٌّ أَوْ سَعِیدٌ،فَوَالَّذِي لَا إِلٰہَ غَیْرُہُ!إِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا یَکُونُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَہَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُھَا وَ إِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا یَکُونُ بَیْنَہُ وَبَیْنَہَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلُہَا‘
’’بلاشبہ تم میں سے ہر کوئی چالیس دن تک ماں کے رحم میں(نطفے کی صورت میں)پڑا رہتا ہے،پھر اتنی ہی مدت جما ہوا خون اور پھر اتنی ہی مدت گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے،اس کے بعداللہ تعالیٰ(اس کی طرف)فرشتہ بھیجتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور اس کی بابت اسے چار باتیں لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے:اس کی روزی،زندگی،عمل اور یہ کہ وہ(انجام کے لحاظ سے)بدبخت ہے یا سعادت مند۔پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود(برحق)نہیں!تم میں سے ایک انسان جنتیوں والے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے،پھر لکھائی اس پر سبقت لے جاتی ہے اور وہ جہنمیوں والے کام شروع کر دیتا ہے،بالآخر جہنم میں جاداخل ہوتا ہے۔اسی طرح ایک انسان دوزخیوں والے کام کرتا رہتا ہے حتی کہ جہنم اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے،پھر لکھائی اس پر سبقت لے جاتی ہے اور وہ اہلِ جنت کے کام شروع کر دیتا ہے(اور)بالآخر جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘[4]
ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا:’’میں تجھے کچھ باتیں سکھائے دیتا ہوں:’اِحْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ،اِحْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاہَکَ:إِذَا سَأَلْتَ فَاسْئَلِ اللّٰہَ،وَ إِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ،وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعْتْ عَلٰی أَنْ یَّنْفَعُوکَ بِشَيْئٍ لَّمْ یَنْفَعُوکَ إِلَّا بِشَيْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ،وَ إِنِ اجْتَمَعُوا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوکَ بِشَيْئٍ لَّمْ یَضُرُّوکَ إِلَّا بِشَيْئٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ،رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَ جَفَّتِ الصُّحُفُ‘
’’اللہ تعالیٰ(کے حقوق)کی حفاظت کر،اللہ تیری حفاظت کرے گا۔اللہ(کے دین)کی حفاظت کر،تو(ہر ضرورت کے وقت)اسے اپنے سامنے پائے گا۔جب تو سوال کرے(دعا مانگے)تو اللہ سے مانگ اور جب مدد طلب کرے تو اللہ سے طلب کر۔اور یہ جان لے کہ اگر سب لوگ جمع ہو کرتجھے نفع دینا چاہیں تو نہیں دے سکتے مگر وہی جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے اور اگر وہ سب جمع ہو کر تیرا نقصان کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور کتابیں خشک ہو گئی ہیں۔‘‘[1]
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’إِنَّ أَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ تَعَالَی الْقَلَمُ،فَقَالَ لَہُ:اُکْتُبْ،فَقَالَ:رَبِّ!وَ مَاذَا أَکْتُبُ؟ قَالَ:اُکْتُبْ مَقَادِیرَ کُلِّ شَيْئٍ حَتّٰی تَقُومَ السَّاعَۃُ‘ ’’بے شک سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا کیا اور اسے حکم دیا:لکھ۔قلم نے کہا:کیا لکھوں ؟ فرمایا:قیامت تک آنے والی تمام چیزوں کی تقدیریں لکھ۔‘‘[2]
فرمانِ نبوی ہے:((اِحْتَجَّ آدَمُ وَ مُوسٰی،فَقَالَ مُوسٰی:یَا آدَمُ!أَنْتَ أَبُونَا خَیَّبْتَنَا وَ أَخْرَجْتَنَا مِنَ الْجَنَّۃِ،فَقَالَ آدَمُ:أَنْتَ مُوسٰی،اِصْطَفَاکَ اللّٰہُ بِکَلَامِہِ وَ خَطَّ لَکَ التَّوْرَاۃَ بِیَدِہِ،أَتَلُومُنِي عَلٰی أَمْرٍ قَدَّرَہُ اللّٰہُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ یَّخْلُقَنِي بِأَرْبَعِینَ سَنَۃً؟ فَحَجَّ آدَمُ مُوسٰی))
’’آدم و موسیٰ علیہما السلام کے مابین گفتگو ہوئی۔توموسیٰ(علیہ السلام)نے کہا:اے آدم(علیہ السلام)!آپ ہمارے باپ ہیں،آپ نے ہمیں ناکام بنا دیا اور بہشت سے نکال دیا۔آدم علیہ السلام نے فرمایا:تو موسیٰ(علیہ السلام)ہے،اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنے کلام کے لیے چنا اور تجھے اپنے ہاتھ سے لکھ کرتورات دی،کیاتو مجھے ایک ایسی بات پر ملامت کرتا ہے،جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر میری پیدائش سے چالیس سال پہلے مقدر کردی تھی۔چنانچہ(اس بات میں)آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے۔‘‘[3] ایمان کی تعریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:((أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَ کُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَ تُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَیْرِہِ وَ شَرِّہِ))
’’تو اللہ،اس کے فرشتوں،اس کی کتابوں،اس کے رسولوں،آخرت کے دن اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لائے۔‘‘[1] ارشادِ نبوی ہے:’اِعْمَلُوا فَکُلٌّ مُّیَسَّرٌ لِّمَا خُلِقَ لَہُ‘
’’عمل کرو۔ہر ایک کو اسی چیز کی توفیق ملتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔‘‘[2]
حدیث نبوی ہے:’فَإِنَّ النَّذْرَ لَا یَرُدُّ شَیْئًا مِّنَ الْقَدَرِ‘ ’’بے شک نذر(اللہ تعالیٰ کے)فیصلے میں سے کچھ بھی نہیں بدلتی ‘‘(بلکہ تقدیر کا حصہ ہوتی ہے۔)[3]
عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’ أَلَا أُعَلِّمُکَ کَلِمَۃً ہِيَ مِنْ کُنُوزِالْجَنَّۃِ:لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ‘
’’کیا میں تجھے ایک ایسا جملہ نہ سکھاؤں جو بہشت کے خزانوں میں سے ہے۔(اور وہ)لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ ہے۔یعنی گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت صرف اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ملتی ہے۔‘‘[4]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو تعلیم دی کہ یوں نہ کہو:’’جو اللہ تعالیٰ چاہے اور آپ چاہیں ‘‘ بلکہ کہو:’’جو صرف اللہ واحد چاہے۔‘‘[5]
3: امت محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)میں لاکھوں علماء،حکماء اور صالحین وغیرہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور تقدیر کے قائل ہیں،اس کی حکمت و مشیت پر یقین کامل رکھتے ہیں اور یہ کہ ہر چیز کے بارے میں اسے پہلے ہی علم ہے اور ہر چیز پر اس کی تقدیر جاری ہے۔اس کی سلطنت میں وہی ہو سکتا ہے جو وہ ارادہ کرتا ہے۔وہ جو چاہتا ہے،ہو جاتا ہے اور جو نہیں چاہتا،نہیں ہوتا اور قلم نے قیامت تک کی سب چیزوں کی تقدیر لکھ دی ہے۔