مسجد نبوی کی زیارت کا حکم

مسجد نبوی کی فضیلت

مسجد نبوی ان تین مساجد میں سے ایک ہے،جن کا تذکرہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ارشاد ربانی ہے:﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ﴾ ’’پاک ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی،جس کے ارد گرد اللہ نے برکت دی ہے۔‘‘[3] ’’اقصیٰ‘‘ اسم تفضیل ہے جس میں معنی کا تفاضل بمقابل دوسری چیز کے ہوتا ہے،یعنی مسجد حرام سے ایک مسجد تک سیر کرائی اور وہ مسجد ایک اور مسجد سے زیادہ دور واقع ہے۔اس طرح دونوں مساجد کے ضمن میں مسجدنبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ ہوگیا کہ یہ مسجد مکہ مکرمہ سے بعید ہے اور منتہائے اسراء والی مسجد اس سے اقصیٰ(زیادہ دور)ہے اور اگرچہ مسجد نبوی نزول آیت کے وقت موجود نہ تھی،تاہم بعد میں وجود میں داخل ہو گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحت سے اس کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:’صَلَاۃٌ فِي مَسْجِدِي ھٰذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلَاۃٍ فِیمَا سِوَاہُ إِلَّا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ‘ ’’میری اس مسجد میں ایک نماز ادا کرنا،مسجد حرام کے سوا کسی بھی مسجد میں ہزار نماز ادا کرنے سے افضل ہے۔‘‘[4] ’وَالصَّلَاۃٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَۃِ أَلْفِ صَلَاۃٍ‘’’اور مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنا،ایک لاکھ نماز ادا کرنے سے افضل ہے۔‘‘[5] اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کو ان تین مساجد میں سے دوسری گردانا ہے جن کی طرف تقرب کے ارادہ سے سفر کیا جاسکتا ہے۔ارشاد ہے: ’لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلٰی ثَلَاثَۃِ مَسَاجِدَ:اَلْمَسْجِدِ الْحَرَامِ،وَمَسْجِدِي ھٰذَا،وَالْمَسْجِدِالْأَقْصٰی‘ ’’تین مساجد کے علاوہ کسی اور کی طرف کجاوے نہ باندھے جائیں(وہ یہ ہیں)مسجد حرام،میری یہ مسجد اور مسجد اقصیٰ۔‘‘[1] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ایسی خصوصیت سے بھی نوازا ہے جو کسی اور مسجد کو حاصل نہیں ہے،یعنی مسجد کے ایک حصہ میں ریاض الجنۃ کا موجود ہونا جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’مَا بَیْنَ بَیْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَۃٌ مِّنْ رِّیَاضِ الْجَنَّۃِ‘ ’’میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان(کی جگہ)بہشت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔‘‘[2] اور یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے:((مَنْ صَلّٰی فِي مَسْجِدِي أَرْبَعِینَ صَلَاۃً لَّا یَفُوتُہُ صَلَاۃٌ کُتِبَتْ لَہُ بَرَائَ ۃٌ مِّنَ النَّارِ وَنَجَاۃٌ مِّنَ الْعَذَابِ وَبَرِی ئَ مِنَ النِّفَاقِ)) ’’جو شخص میری اس مسجد میں چالیس نمازیں پڑھتا ہے،ایک نماز بھی اس سے فوت نہیں ہوتی تو اس کے لیے جہنم سے براء ت اور عذاب سے نجات لکھ دی جاتی ہے اور وہ نفاق سے بھی پاک ہو جاتا ہے۔‘‘[3] اسی لیے اس مسجد کی زیارت ان عبادات میں سے ایک ہے،جنھیں مسلمان اپنے رب تعالیٰ کے تقرب اور اس کی رضاجوئی کا ذریعہ بناتے ہیں۔