مسجد نبوی کی زیارت کا حکم
اہلِ مدینہ کی فضیلت
مدینہ کے رہنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے،آپ کی مسجد کو آباد کرنے والے،آپ کے شہر میں رہنے والے،آپ کے حرم میں ثابت قدم اور آپ کی مقرر کردہ حمی(چراگاہ)کے محافظ ہیں۔جب یہ لوگ استقامت اور نیکی کے حامل ہیں تو عزت وشان میں سب سے اونچے اور مقام ومرتبہ میں سب سے فائق ہیں،ان کا احترام اور عزت وتوقیر ضروری ہے اور ان کی محبت اور دوستی لازم ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ایذا رسانی سے ڈراتے ہوئے فرمایا:((لَا یَکِیدُ أَھْلَ الْمَدِینَۃِ أَحَدٌ إِلَّا انْمَاعَ کَمَا یَنْمَاعُ الْمِلْحُ فِي الْمَائِ))
’’اہل مدینہ کے ساتھ جو کوئی مکرو فریب کرے گا،وہ اس طرح پگھل جائے گا جیسا کہ پانی میں نمک پگھل جاتا ہے۔‘‘[5] اور فرمایا:
((وَلَا یُرِیدُ أَحَدٌ أَھْلَ الْمَدِینَۃِ بِسُوئٍ إِلَّا أَذَابَہُ اللّٰہُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ،أَوْذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَائِ))
’’جو کوئی مدینہ والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا،اللہ اسے جہنم میں قلعی کی طرح پگھلا دے گا یا جس طرح پانی میں نمک مل جاتا ہے۔‘‘[1]
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت وتکریم کی وجہ سے اہل مدینہ کی روزی میں برکت کی دعا کرتے ہوئے فرمایا:
((اَللَّھُمَّ!بَارِکْ لَھُمْ فِي مِکْیَالِھِمْ وَبَارِکْ لَھُمْ فِي صَاعِھِمْ وَمُدِّھِمْ))
’’اے اللہ!ان کے لیے ان کے تول کے پیمانوں میں برکت فرما اور ان کے صاع اور مد کو بابرکت بنا۔‘‘[2]