حج اور عمرے کا بیان
حج اور عمرے کا طریقہ
مذکورہ دو عبادتوں میں سے کسی ایک کی ادائیگی کا ارادہ کرنے والا ناخن کاٹے،مونچھیں صاف کرے،زیر ناف بال اتارے اور بغل کے بال اکھیڑے،پھر غسل کرے،صاف اور سفید تہہ بند باندھے،چادر اوڑھے اور دو جوتے پہنے،میقات پر پہنچ کر فرض یا نفل نماز ادا کرے اور یہ کہتے ہوئے عبادتِ حج کی نیت کرے:’لَبَّیْکَ اللَّھُمَّ!لَبَّیْکَ حَجًّا‘
’’اے اللہ!میں حاضر ہوں،اے اللہ حج کے لیے حاضر ہوں۔‘‘
اور اگر عمرہ کا ارادہ ہے تو ’’حَجًّا‘‘ کی بجائے ’’عُمْرَۃً‘‘کہے اور اگر دونوں کا ارادہ ہے تو ’حَجًّا وَّ عُمْرَۃً‘ کہے۔یہ بھی جائز ہے کہ اپنے رب کے ساتھ شرط کر لے اور یوں کہے ’إِنَّ مَحَلِّي حَیْثُ تَحْبِسُنِي‘ ’’اے اللہ!جہاں تو مجھے روک لے گا وہی جگہ میرے احرام سے حلال ہونے کی جگہ ہوگی۔‘‘ چنانچہ اگر حج یا عمرہ کے دوران بیماری وغیرہ کی وجہ سے احرام ختم کرنا پڑے تو اس پر کوئی چیز نہیں ہوگی۔پھر لگاتار اونچی آواز کے ساتھ ’’تلبیہ‘‘ کہتا رہے مگر اتنا بھی نہیں کہ اسے تھکا دے،البتہ عورت بہت اونچی آواز نہ کرے صرف اتنی آواز سے کہہ سکتی ہے کہ اس کی ساتھی عورت سن لے۔
تلبیہ سے فارغ ہونے کے بعد دعا مانگنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا مستحب ہے۔[2]اسی طرح جب وہ کسی سواری پر سوار ہو یا اترے یا نماز سے فارغ ہو یا ساتھیوں کوملے تو ’’تلبیہ‘‘ کہے اور اللہ کے ذکر کے علاوہ کوئی بات زبان سے نہ نکالے اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں پر نظر نہ ڈالے اور تمام راستہ نیکی اور اچھے کام کرتا رہے تاکہ اس کا حج مبرور ہو جائے۔بنابریں محتاج لوگوں کے ساتھ احسان کرے،ساتھیوں کے ساتھ ہشاش بشاش رہے،ان کے ساتھ باتیں نرم انداز سے کرے اور سلام وطعام کی ان کے لیے فراوانی کردے۔اور جب مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ جائے تو داخل ہونےکے لیے غسل کرے [3] اور باوضو ہوکر مکہ کی عالی(بلند)طرف سے داخل ہو۔[4] مسجد حرام میں باب بنی شیبہ(باب السلام)سے اندر جائے اور یہ دعا پڑھے:((بِسْمِ اللّٰہِ وَالسَّلَامُ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ اَللَّھُمَّ اغْفِرْلِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِکَ))
’’اللہ کے نام سے اور سلام اللہ کے رسول پر اے اللہ!میرے گناہ معاف فرما اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘[5]
بیت اللہ کو دیکھے تو ہاتھ اٹھا کر یہ پڑھے:((اَللَّھُمَّ!أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ،اَللَّھُمَّ!زِدْ ھٰذَا الْبَیْتَ تَشْرِیفًا وَّتَعْظِیمًا وَّتَکْرِیمًا وَّمَھَابَۃً وَّبِرًّا،وَزِدْ مَنْ شَرَّفَہُ وَکَرَّمَہُ مِمَّنْ حَجَّہُ أَوِ اعْتَمَرَہُ تَشْرِیفًا وَّتَعْظِیمًا وَّتَکْرِیمًا وَّمَھَابَۃً وَّبِرًّا،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کَثِیرًا کَمَا ھُوَ أَھْلُہُ،وَکَمَا یَنْبَغِي لِکَرَمِ وَجْھِہِ وَعِزِّ جَلَالِہِ،وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِي بَلَّغَنِي بَیْتَہُ وَرَآنِي لِذٰلِکَ أَھْلًا،وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍ،اَللَّھُمَّ!إِنَّکَ دَعَوْتَ إِلٰی حَجِّ بَیْتِکَ الْحَرَامِ وَقَدْ جِئْتُکَ لِذٰلِکَ،اَللَّھُمَّ!تَقَبَّلْ مِنِّي وَاعْفُ عَنِّي وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي کُلَّہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ))
’’اے اللہ!تو سلامتی والا ہے اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے۔اے ہمارے رب!ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ۔اے اللہ!اس گھر کے شرف،عظمت،عزت،ہیبت اور بھلائیوں میں اضافہ فرما اور حج وعمرہ کرنے والوں میں جو اس کے شرف وعزت کو ملحوظ رکھتا ہے،اس کے شرف،عزت،کرم،ہیبت اور نیکی میں اضافہ فرما،سب تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جیسا کہ وہ ان کا مستحق ہے اور جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔اس اللہ کی تعریف جس نے مجھے اپنے گھر تک پہنچایا اور مجھے اس کا اہل قرار دیا،ہر حال میں اللہ ہی کی تعریف ہے۔اے اللہ!تونے مجھے اپنے عزت والے گھر کی طرف آنے کا پیغام دیا،اس لیے میں تیرے پاس حاضر ہوا ہوں،اے اللہ!مجھ سے قبول فرما اور مجھے معاف کر اور میرے تمام حالات درست کر دے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔‘‘[1]
پھر مطاف(طواف کی جگہ)کی طرف بڑھے اور چادر،اضطباع(دایاں کندھا ننگا کرنے)کے انداز میں لے کر حجر اسود کو بوسہ دے یا استلام کرے(ہاتھ لگائے۔)اگر بوسہ دینا اور ہاتھ لگانا ممکن نہیں ہے تو اشارہ ہی کر لے،پھر حجر اسود کی طرف منہ کرے،سیدھا کھڑا ہو جائے اور طواف کی نیت کے ساتھ طواف شروع کرے۔
پھر بیت اللہ کو بائیں سمت کر کے رمل(چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ تیز چلنا)کے انداز میں چلے،بشرطیکہ طواف قدوم ہو اور طواف کے دوران دعا کرے،ذکر واذکار میں مشغول رہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے،بطور خاص طواف کے دوران یہ دعا پڑھے:﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾
’’اے ہمارے رب!ہمیں دنیا کی اچھائی اور آخرت کی اچھائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘ [1]
پھر اس طرح دوسرا اور تیسرا چکر لگائے۔چوتھے چکر میں رمل ترک کر دے اور(معمول کے مطابق)آہستہ آہستہ چلے اور باقی چار چکر پورے کرے،فارغ ہو کر ’’ملتزم‘‘(بیت اللہ کے دروازہ)کے پاس آئے اور خشوع خضوع کے ساتھ روتے ہوئے دعا کرے،پھر ’’مقام ابراہیم‘‘ کے قریب آکر اس کے پیچھے دو رکعت پڑھے(اور اگر ازدحام ہو تو حرم میں جہاں جگہ ملے پڑھ لے)،پہلی رکعت میں سورئہ فاتحہ اور سورۂ کافرون اور دوسری میں سورئہ اخلاص پڑھے،پھر زمزم کے چشمہ پر جائے اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے خوب سیر ہو کر پانی پئے اور جو چاہے دعا کرے،درج ذیل دعا بھی مستحسن ہے:’اَللَّھُمَّ!إِنِّي أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا وَّرِزْقًا وَّاسِعًا وَّشِفَائً مِّنْ کُلِّ دَائٍ‘
’’اے اللہ!میں تجھ سے مفید علم،وسیع روزی اور ہر بیماری سے شفا مانگتا ہوں۔‘‘[2]
پھر ’’حجر اسود‘‘ کے پاس آئے اور اسے بوسہ دے یا ہاتھ لگائے اور بعد ازاں ’’باب صفا‘‘ سے یہ پڑھتے ہوئے ’’مقام سعی‘‘ کی طرف بڑھے:
﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللّٰهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾
’’بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔جو کوئی حج یا عمرہ کے لیے آئے،وہ ان دونوں کا طواف بھی کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو اچھائی کمائے گا تو اللہ بڑا قدر دان اور جاننے والا ہے۔‘‘[3]
پھر ’’صفا‘‘ پہاڑی پر چڑھ جائے اور بیت اللہ کی طرف منہ کرکے تین بار اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہے اور یہ ورد کرے:
((لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ،لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ،وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ،صَدَقَ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ))
’’ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے،اس کا کوئی شریک نہیں،ملک اسی کا ہے اور تعریف بھی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے،اس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا،اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے نے سب فوجوں کو شکست دے دی۔‘‘ [4]
پھر دنیا وآخرت کی بھلائی کا سوال کرے اور ’’کوہ مروہ‘‘ کی طرف چلنے کے ارادے سے نیچے اترے،دوران ’’سعی‘‘ ذکر ودعا میں مشغول رہے،وادی کے درمیان آئے جسے سبز ستون کے ساتھ نمایاں کیا گیا ہے تو وہاں سے دوسرے سبز ستون تک تیز تیز دوڑے۔پھر آہستہ چلے اور ذکر ودعا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود میں منہمک رہے اور جب مروہ پر چڑھ جائے تو(ایک چکر مکمل ہو گیا)’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہے،’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ‘ کا ورد کرے اور دعا مانگے،جس طرح کہ ’’صفا‘‘ پر کیا تھا اور پھر نیچے اترے،آہستہ چلے درمیان میں آئے تو تیز دوڑے،پھر آہستہ چلے اور ’’صفا‘‘ پر چڑھ جائے،(دوسرا چکر مکمل)پھر تکبیر وتہلیل کہے اور دعا کرے۔پھر ’’مروہ‘‘ کی طرف روانہ ہو جائے اور اسی طرح سات چکر پورے کرے،جس میں آٹھ وقفے ہوں گے۔چار ’’صفا‘‘ اور چار ’’مروہ‘‘(ابتداء صفا سے ہو گی اور انتہا مروہ پر)پھر اگر عمرے کا احرام ہے تو بال اتروائے اور احرام کھول دے،اس طرح اس کا عمرہ پورا ہو گیا۔اور اسی طرح اگر ’’حج تمتع‘‘٭ کا ارادہ ہے تو بھی احرام کھول دے اور اگر صرف حج کا احرام ہے یا عمرہ اور حج دونوں کا اکٹھے احرام ہے تو ’’وقوف عرفات‘‘ اور ’’جمرئہ عقبہ‘‘ کو کنکر مارنے کے بعد دس ذوالحجہ کو احرام کھولے گا۔اگر عمرہ سے فارغ ہو کر احرام کھول دے اور حج فسخ کر دے تو یہ بھی جائز ہے۔اور آٹھ ذوالحجہ کو حج٭ کی نیت سے احرام باندھے،اگر عمرہ مکمل کر کے احرام کھول چکا ہے،جبکہ مفرد٭ اور قارن٭ اپنے احرام پر قائم ہیں اور مذکورہ تاریخ(آٹھ ذوالحجہ)کی صبح کو تلبیہ کہتے ہوئے منیٰ کی طرف روانہ ہو۔منیٰ میں دن رات رہے اور پانچ نمازیں پڑھے،پھر نو ذوالحجہ کا سورج نکلنے کے بعد منیٰ سے تلبیہ کہتے ہوئے براستہ ’’ضب‘‘ وادیٔ نمرہ کی طرف روانہ ہو اور زوال تک وہاں رہے،پھر غسل کرے اور مسجد میں آئے اور امام کے ساتھ ظہر اور عصر کی نمازیں قصر اور جمع کر کے پڑھے،نماز سے فارغ ہونے کے بعد موقف کی طرف چلے اور عرفات کے میدان میں جہاں بھی چاہے ٹھہر جائے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’وَقَفْتُ ھٰھُنَا،وَعَرَفَۃُ کُلُّھَا مَوْقِفٌ‘
’’میں نے یہاں وقوف کیا ہے،جبکہ پورا عرفات(کا میدان)جائے وقوف ہے۔‘‘ [1]
اور اگر ’’جبل رحمت‘‘ کے دامن میں چٹانوں کے پاس وقوف کرے تو بہتر ہے،اس لیے کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقوف کا مقام ہے۔اسے اختیار ہے کہ سوار ہو کر وہاں رہے یا پیدل چلتا ہوا یا بیٹھا رہے اور اس دوران اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ذکر کرے اور دعائیں مانگے۔پھر سورج غروب ہونے اور کچھ رات آنے کے بعد وہاں سے روانہ ہو اور ’’مازمین‘‘ کے
٭ حج تمتع:حج کے مہینوں میں عمرہ ادا کر کے احرام کھول دینا اور پھر حج کے ایام میں حج کا نئے سرے سے احرام باندھنا حج تمتع کہلاتا ہے۔حج کے مہینوں سے مراد شوال،ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں جبکہ حج کے دنوں سے مراد 8ذوالحجہ سے 13 ذوالحجہ تک کے ایام ہیں۔(ع،ر)
٭ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر ان لوگوں کو جو ہدی(قربانی)نہیں لائے تھے،حج فسخ کرنے اور(عمرہ کر کے)احرام کھول دینے کی اجازت دی تھی۔٭ مفرد سے مراد وہ حاجی ہے جو صرف حج کا احرام باندھے۔
٭ قارن سے مراد وہ شخص ہے جو میقات سے عمرہ اور حج دونوں کا اکٹھا احرام باندھے۔(ع،ر)
راستہ سے تلبیہ کہتا ہوا سکون کے ساتھ مزدلفہ کی طرف چلے اور مزدلفہ میں نزول کے بعد پہلے نماز مغرب ادا کرے اور پھر سواری پر سے سامان اتارکر عشاء کی نماز پڑھے اور رات وہیں گزارے،صبح صادق ہونے کے بعد نماز فجر ادا کرے اور مشعر کی طرف چلے اور وہاں تکبیر،تہلیل اور دعا میں مشغول ہو جائے۔تاہم مزدلفہ میں جہاں بھی چاہے وقوف کر سکتا ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’وَقَفْتُ ھٰھُنَا،وَجَمْعٌ کُلُّھَا مَوْقِفٌ‘
’’میں نے اس جگہ وقوف کیا ہے،جبکہ پورا ’’مزدلفہ‘‘ جائے وقوف ہے۔‘‘ [1]
10 ویں ذوالحجہ کو طلوع آفتاب سے پہلے جب صبح اچھی طرح روشن ہو جائے تو سات کنکر ’’جمرۂ عقبہ‘‘ کو مارنے کے لیے چن لے اور تلبیہ کہتا ہوا منیٰ کی طرف چل پڑے۔’’وادیٔ محسر‘‘ میں پہنچ جائے تو اپنی سواری کو حرکت دے اور پتھر پھینکنے کے اندازے کے برابر فاصلے تک تیز چلے۔منیٰ پہنچتے ہی جمرۂ عقبہ کو سات کنکر مارے،مارتے وقت دایاں ہاتھ اٹھائے اور ’’اللہ اکبر‘‘ کہے اور اگر یہ دعا بھی کر لے تو بہتر ہے:’اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَّبْرُورًا وَّذَنْبًا مَّغْفُورًا وَّسَعْیًا مَّشْکُورًا‘
’’اے اللہ!اسے حج مبرور اور گناہ کو معاف کیا ہوا اور قابل قدر عمل بنا دے۔‘‘[2]
اگر اس کے پاس قربانی ہے تو اسے خود ذبح کرے،اگر خود ذبح نہیں کر سکتا تو کسی اور کو مقرر کرے اور منیٰ میں جہاں چاہے قربانی کا جانور ذبح کر سکتا ہے،اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:’نَحَرْتُ ھٰھُنَا،وَمِنًی کُلُّھَا مَنْحَرٌ‘ ’’میں نے اس جگہ قربانی کی ہے،جبکہ سارا منیٰ قربان گاہ ہے۔‘‘ [3]
پھر بال مونڈے یا کاٹے،البتہ مونڈنا افضل ہے۔اس وقت عورتوں کے ساتھ مباشرت وجماع کے سوا وہ سب کام اس کے لیے جائز ہو گئے ہیں،جو احرام کی وجہ سے اس پر حرام ہوئے تھے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((إِذَا رَمٰی أَحَدُکُمْ جَمْرَۃَ الْعَقَبَۃِ فَقَدْ حَلَّ لَہُ کُلُّ شَيْئٍ إِلَّا النِّسَائَ))
’’جب تم میں سے کوئی جمرئہ عقبہ کو کنکر مارے تو اس کے لیے عورتوں کے سوا ہر چیز حلال ہو گئی ہے۔‘‘[4]
اب سر کو کپڑے سے ڈھانپ اور سلا ہوا لباس پہن سکتا ہے۔اگر ممکن ہو تو ’’طواف افاضہ‘‘ کے لیے مکہ کی طرف چل پڑے،جو کہ حج کے چار ارکان میں سے ایک رکن ہے،باوضو ہو کر مسجد حرام میں داخل ہو اور طواف قدوم کی طرح کا طواف کرے،البتہ اس طواف میں اضطباع اور رمل[5] نہ کرے،سات چکر مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھے۔اگر صرف حج کا احرام تھا یا حج اور عمرہ دونوں کا اور پہلے طواف قدوم کے بعد صفا ومروہ کی سعی کر چکا ہے تو وہی کافی ہے اور اگر حج تمتع کیا ہے تو دو رکعت پڑھنے کے بعد ’’مقام سعی‘‘ کی طرف بڑھے اور صفا ومروہ کے مابین اسی طرح سعی کرے،جیسا کہ پہلے مفصلاً بیان ہوا ہے۔سعی سے فارغ ہو نے کے بعد اس کا احرام پورے طور پر ختم ہے اور جو کام احرام کی وجہ سے اس کے لیے ناجائز ہوئے تھے،سب جائز ہو گئے۔
پھر اسی دن منیٰ واپس آجائے اور رات وہیں گزارے(مزید برآں)ایام تشریق کے پہلے دن(11ذوالحجہ)سورج ڈھلنے کے بعد پہلے ’’جمرۂ اولیٰ‘‘ کو سات کنکر مارے جو کہ مسجد خیف کے قریب ہے،ہر کنکر الگ الگ مارے اور ہر ایک کے ساتھ ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہے۔کنکر مارنے کے بعد تھوڑا سا آگے بڑھے اور قبلہ رخ ہو کر اللہ کی توفیق کے مطابق جو چاہے دعائیں کرے اور پھر درمیانی جمرہ کی طرف چلے،اسے بھی اسی طرح سات کنکر مارے اور تھوڑا سا ہٹ کر قبلہ رخ ہو کر دعا کرے اور پھر ’’جمرۂ عقبہ‘‘ جو کہ آخری ہے،کی طرف بڑھے اسے بھی سات کنکر مارے،ہر کنکر کے ساتھ تکبیر کہے لیکن اس کے بعد دعا کے لیے کھڑا نہ ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پاس دعا نہیں کی تھی۔دوسرے دن بھی زوال آفتاب کے بعد آئے اور تینوں جمرات کو اسی طرح کنکر مارے۔
اگر اسے جلدی ہے تو غروب آفتاب سے پہلے مکہ چلا جائے اور اگر جلدی نہیں ہے تو رات منیٰ میں رہے اور تیسرے دن زوال آفتاب کے بعد تینوں جمرات کو کنکر مارے اور پھر مکہ مکرمہ آئے اور جب گھر جانے کا ارادہ ہو تو آخری،یعنی طواف وداع کرے،اس کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت پڑھے اور یہ ذکر کرتے ہوئے گھر کے لیے روانہ ہو جائے:((آئِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ،لِرَبِّنَا حَامِدُونَ،لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ))
’’ایک اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،اس کا کوئی شریک نہیں ہے،ملک اسی کا ہے اور تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ہم واپس ہو رہے ہیں،رجوع کرنے والے،عبادت کرنے والے اور اپنے رب ہی کی تعریف کرنے والے،ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے،اللہ نے اپنا وعدہ سچا کردیا،اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے نے فوجوں کو شکست دے دی۔‘‘ [1]