حج اور عمرے کا بیان

عرفہ کا قیام

حج کے ارکان میں ’’عرفہ‘‘ میں ٹھہرنا چوتھا رکن ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’اَلْحَجُّ عَرَفَۃٌ‘ ’’حج وقوف عرفہ ہے۔‘‘ [3] اس کا مقصد ’’عرفات‘‘ نامی جگہ میں نو ذوالحجہ کو نماز ظہر کے بعد سے دس ذوالحجہ کی صبح تک ایک لحظہ یا زیادہ دیر کے لیے حاضر ہونا ہے۔وقوف عرفہ کے بھی فرائض،سنن اور آداب ہیں جن سے یہ مکمل ہوتا ہے۔ ٭ وقوف عرفہ اور دیگر واجبات: 1: نو ذوالحجہ کو زوال سے سورج غروب ہونے تک میدان عرفات میں حاضر رہنا۔[4] 2: نو اور دس ذوالحجہ کی درمیانی رات ’’عرفات‘‘ سے واپسی کے بعد مزدلفہ میں گزارنا۔[5] 3: دس ذوالحجہ کی تاریخ کو(منیٰ پہنچ کر)’’ جمرئہ عقبہ‘‘ کو کنکر مارنا۔ 4: ’’جمرئہ عقبہ‘‘ کو کنکر مارنے کے بعد دس تاریخ کو ہی بال مونڈنا یا کاٹنا۔ 5 :ذوالحجہ کی گیارہ،بارہ اور تیرہ کی تین راتیں منیٰ میں گزارنا،اگر کسی کو جلدی ہو تو گیارہ اور بارہ کی دو راتیں ضرور منیٰ میں رہے۔[6] 6: مذکورہ ایام تشریق یا دو دنوں میں روزانہ زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکر مارنا۔[7] تنبیہ:مذکورہ بالا واجبات کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے۔جبکہ آپ کا یہ فرمان مقدس بھی ہے: ’لِتَأْخُذُوا مَنَاسِکَکُمْ‘ ’’تم مجھ سے اپنے حج کے احکام سیکھ لو۔‘‘ [8] اور فرمایا:((قِفُوا عَلٰی مَشََاعِرِکُمْ فَإِنَّکُمْ عَلٰی إِرْثٍ مِّنْ إِرْثِ أَبِیکُمْ إِبْرَاھِیمَ)) ’’تم اپنے مقامات عظمت پر ٹھہرو،اس لیے کہ تم اپنے باپ ابراہیم(علیہ السلام)کے وارث ہو۔‘‘ [1] ٭ مقامات مذکورہ کی سنتیں: 1: آٹھ ذوالحجہ کو(ظہر سے پہلے پہلے)منیٰ جانا اور نویں ذوالحجہ کی رات منیٰ میں رہنا اور سورج نکلنے کے بعد وہاں سے(عرفات کی طرف)روانہ ہونا اور اس طرح پانچ نمازیں منیٰ میں ادا کرنا۔ 2: نو ذوالحجہ کے زوال کے بعد وادیٔ نمرہ(جوکہ میدان عرفات میں ہے)میں موجود ہونا اور ظہر وعصر کی نمازیں امام کے ساتھ قصر پڑھنا۔ 3: امام کے ساتھ ظہر اور عصر کی ادائیگی کے بعد موقف(عرفات)میں سورج غروب ہونے تک ٹھہرنا اور سارا وقت ذکر و دعا میں گزارنا۔ 4: نماز مغرب مٔوخر کر کے عشاء کے ساتھ جمع کرکے مزدلفہ میں(قصر کر کے)پڑھنا۔ 5: (مزدلفہ میں)مشعر حرام(جبل قزح)کے پاس قبلہ رخ ہو کر ذکر ودعا میں دن کی واضح روشنی تک مشغول رہنا۔ 6: دس ذو الحجہ کے احکام میں بالترتیب جمرئہ عقبہ کو کنکر مارنا،قربانی کرنا،بال اتروانا اور طواف زیارت(افاضہ)کرنا شامل ہے۔ 7: دس ذو الحجہ کو غروب آفتاب سے پہلے طواف زیارت کرلینا،پھر واپس منیٰ پہنچ کر رات گزارنا۔ ٭ دیگر آداب: 1: نو ذوالحجہ کو صبح کے بعد منیٰ سے ’’ضب‘‘ کے راستے سے’’ وادیٔ نمرہ‘‘ کی طرف جانا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی راستے سے اور اسی وقت روانہ ہوئے تھے۔ 2: زوال کے بعد ’’وقوف عرفہ‘‘ کے لیے غسل کرنا،حیض اور نفاس والی کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ 3: عرفات کے درمیان میں واقع ’’جبل رحمت‘‘ کے نیچے بڑی چٹان کے پاس وقوف کرنا،اس لیے کہ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ’’مقام وقوف‘‘ تھا۔[2] 4: ’’موقف‘‘ میں غروب آفتاب تک کثرت سے دعا وذکر میں مشغول رہنا۔ 5: میدان عرفات سے واپسی ’’ما زمَیْن‘‘ کے راستے سے ہونی چاہیے نہ کہ مقامِ ’’ضب‘‘ کے راستے سے کہ جس سے گئے تھے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے سے جاتے تھے اور دوسرے سے واپس آتے تھے۔[1] 6: آرام سے چلنا اور جلدی نہ کرنا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:((یَا أَیُّھَا النَّاسُ!عَلَیْکُمْ بِالسَّکِینَۃِ وَالْوَقَارِ،فَإِنَّ الْبِرَّ لَیْسَ فِي إِیضَاعِ الإِْبِلِ)) ’’اے لوگو!سکون و اطمینان سے چلو،اونٹ دوڑانے میں نیکی نہیں ہے۔‘‘ [2] 7: عرفات،مزدلفہ اور منیٰ کے ان مقامات پر آنے جانے میں ’’جمرہ عقبہ‘‘ کو کنکر مارنے تک کثرت سے تلبیہ کہنا۔ 8: ’’ مزدلفہ‘‘ سے ہی سات کنکر چن لینا۔ 9: ’’مزدلفہ‘‘ سے سورج نکلنے سے پہلے اور صبح کی واضح روشنی کے وقت روانہ ہو جانا۔ 10: ’’ بطن محسر‘‘ کی وادی میں ایک پتھر پھینکے جانے کے فاصلہ تک تیز چلنا،جانور کو متحرک کرنا اور گاڑی ہے تو اسے معمول سے قدرے زیادہ تیزی سے لے جانا،یہ اس صورت میں ہے کہ کسی نقصان کا اندیشہ نہ ہو۔ 11: سورج نکلنے سے زوال تک ’’جمرہ عقبہ‘‘ کو کنکر مارنا۔ 12: کنکر مارتے وقت ہر کنکر کے ساتھ اللہ اکبر کہنا۔ 13: قربانی خود ذبح کرنا یا ذبح ہوتے وقت موجود رہنا اور ’بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کے بعد یہ کہنا: ((اَللّٰھُمَّ!ھٰذَا مِنْکَ وَإِلَیْکَ،اَللّٰھُمَّ!تَقَبَّلْ مِنِّي کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ إِبْرَاھِیمَ خَلِیلِکَ)) ’’اے اللہ!یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لیے ہے۔اے اللہ!میری طرف سے قبول فرما،جس طرح تونے اپنے خلیل ابراہیم(علیہ السلام)کی قربانی قبول کی تھی۔‘‘[3] یاد رہے کہ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ أَکْبَرُ پڑھنا ضروری ہیں۔ 14: قربانی کے گوشت میں سے کھانا،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ اپنی قربانی یا ہدی کا گوشت تناول فرماتے تھے۔[4] 15: تشریق کے تین ایام میں ’’جمرات‘‘ کی طرف پیدل چل کر جانا۔ 16: ہر کنکر مارتے وقت ’اَللّٰہُ أَکْبَرُ‘ کہنا اور یہ دعا مانگنا:((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ حَجًّا مَّبْرُورًا وَّذَنْبًا مَّغْفُورًا وَّسَعْیًا مَّشْکُورًا)) ’’اے اللہ!اسے پاک(اور مقبول)حج اور گناہ کو معاف کیا ہوا اور قابل قدر عمل بنا دے۔‘‘[1] 17: پہلے اور دوسرے جمرہ کوکنکر مارنے کے بعد قبلہ رخ کھڑے ہو کر دعا کرنا،تیسرے کے بعد نہیں کیونکہ اس کے بعد دعا مستحب نہیں ہے،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیسرے کو کنکر مارنے کے بعد واپس لوٹ جاتے تھے۔[2] 18: ’’جمرئہ عقبہ‘‘ کو وادی کے درمیان میں کھڑے ہو کر اس کی طرف منہ کرکے کنکر مارنا،اس وقت بیت اللہ اس کے بائیں طرف اور منیٰ دائیں طرف ہو۔ 19: مکہ مکرمہ سے(طواف افاضہ کے بعد منیٰ کی طرف)واپسی پر یہ ذکر کرے: ((آئِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ،لِرَبِّنَا حَامِدُونَ،صَدَقَ اللّٰہُ وَعْدَہُ وَنَصَرَ عَبْدَہُ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہُ)) ’’ہم واپس ہو رہے ہیں،کوتاہیوں سے رجوع کرنے والے اور اپنے رب کی عبادت اور حمد(تعریف)کرنے والے ہیں،اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے نے سب لشکروں کو شکست دی۔‘‘ اس لیے کہ واپسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات مبارکہ فرمایا کرتے تھے۔[3] ٭ مکہ میں داخلے یا عرفہ میں وقوف سے کوئی امر مانع ہو تو کیا کیا جائے؟: جو شخص مکہ مکرمہ میں یا ’’موقف عرفات‘‘ میں بو جہ دشمن یا بیماری یا کسی شدید رکاوٹ کے داخل ہونے سے قاصر ہو،اس پر لازم ہے کہ وہ ایک بکری یا اونٹ یا گائے رکاوٹ کی جگہ ذبح کرے اور اگر ممکن ہو تو جانور کو حرم مکی کی طرف بھیجے اور احرام اتار دے۔ ﴿فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾’’اگر تم روک لیے گئے تو جو جانور آسانی سے میسر ہو دو۔‘‘٭[4] ٭ طواف وداع کا بیان: یہ طواف حج کے تین طوافوں میں سے ایک ہے اور سنت واجبہ ہے،جو شخص اسے بغیر عذر ترک کردے تو وہ گناہگار ہے اور اگر کسی عذر کی وجہ سے چھوڑا تو ’’دم‘‘ نہیں ہے،حج اور عمرہ سے فارغ ہو کر واپس گھر آنے والے ہر فرد پر یہ طواف واجب ہے اور روانگی کے آخری وقت میں یہ طواف کرنا چاہیے۔اس طرح کہ طواف کے بعد کسی اور کام میں مشغول نہ ہو بلکہ فورًا مکہ مکرمہ سے روانگی شروع کر دے،اگر طواف کے بعد کسی غیر ضروری کام اور خرید وفروخت میں مشغول ہو جائے تو دوبارہ طواف کر کے روانہ ہو،اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:((لَا یَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتّٰی یَکُونَ آخِرُ عَھْدِہِ بِالْبَیْتِ)) ٭ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اگر جانور ذبح کرنے سے عاجز ہے تو دس دن کے روزے رکھے،جیسا کہ ترک واجب پر دم کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں دس روزے رکھے جاتے ہیں۔(مؤلف) ’’اللہ کے گھر سے آخری ملاقات کے بغیر تم میں سے کوئی شخص واپسی اختیار نہ کرے۔‘‘[1]