قبر کی جزا و سزا پر ایمان

قرآن وسنت سے دلائل

قبر کی آسائشیں اورگونا گوں عذاب برحق ہیں،فرشتوں کے سوالات یقینی ہیں اور اس کے عقلی ونقلی دلائل موجود ہیں: کتاب وسنت کے دلائل: 1: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی خبر دی ہے۔ارشادِ باری ہے:﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا ۙ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ وَذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ﴿٥٠﴾ذَٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ وَأَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ﴾ ’’اور کاش تم اس وقت(کی کیفیت)دیکھو جب فرشتے کافروں کی جان قبض کرتے وقت ان کے چہروں اور سرینوں پر مارتے ہیں اور(کہتے ہیں):اب عذابِ آتش(کا مزہ)چکھو،یہ اس(کفروشرک)کی وجہ سے ہے جسے تمھارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور بے شک اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔‘‘[1] ارشادِ ربانی ہے:﴿وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ ۖ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴿٩٣﴾وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَىٰ كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَتَرَكْتُم مَّا خَوَّلْنَاكُمْ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ ۖ وَمَا نَرَىٰ مَعَكُمْ شُفَعَاءَكُمُ الَّذِينَ زَعَمْتُمْ أَنَّهُمْ فِيكُمْ شُرَكَاءُ ۚ لَقَد تَّقَطَّعَ بَيْنَكُمْ وَضَلَّ عَنكُم مَّا كُنتُمْ تَزْعُمُونَ﴿٩٤﴾ ’’اور کاش تم اس وقت(کی کیفیت)کو دیکھو جب ظالم موت کی سختیوں میں(مبتلا)ہوتے ہیں اور فرشتے(ان کی طرف)اپنے ہاتھ پھیلاتے(اور کہتے)ہیں:نکالو اپنی جانیں،آج تمھیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا،اس لیے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نسبت غلط باتیں کہتے تھے اور اس کی آیات سے خود کو بڑا جانتے تھے۔(آج)تم ہمارے پاس اکیلے آئے ہو،جس طرح ہم نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور جن نعمتوں میں ہم نے تمھیں خوش حالی دی،وہ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو اور ہم تمھارے ساتھ تمھارے وہ سفارشی نہیں دیکھ رہے،جنھیں تم اپنے(معاملات)میں ہمارا شریک سمجھتے تھے،تمھارے اور ان کے مابین تعلق ٹوٹ چکا ہے اور جو تم سمجھتے تھے وہ سب تم سے گم ہو گیا ہے۔‘‘[2] فرمانِ الٰہی ہے:﴿سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ﴾ ’’عنقریب ہم انھیں دو بار سزا دیں گے،پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘[3] ارشادِ عالی ہے:﴿النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾ ’’وہ(فرعونی)صبح وشام جہنم کی آگ پر پیش کیے جاتے ہیں اور قیامت کے دن(کہا جائے گا اے فرشتو!)آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کرو۔‘‘[4] مزید فرمایا: ﴿يُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللّٰهُ مَا يَشَاءُ﴾ ’’دنیا وآخرت کی زندگی میں اللہ ایمان والوں کو درست بات(کتاب و سنت)پر ثابت قدم رکھتا ہے اور ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے اور اللہ جو چاہے کرتا ہے۔‘‘[5] 2: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے ارشاداتِ عالیہ میں احوالِ برزخ کی خبر دی ہے:((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِہِ وَ تَوَلّٰی عَنْہُ أَصْحَابُہُ،وَ إِنَّہُ لَیَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِہِمْ،أَتَاہُ مَلَکَانِ فَیُقْعِدَانِہِ فَیَقُولَانِ:مَا کُنْتَ تَقُولُ فِي ہٰذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم ؟ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَیَقُولُ:أَشْہَدُ أَنَّہُ عَبْدُ اللّٰہِ وَ رَسُولُہُ)) فَیُقَالُ لَہُ:أُنْظُرْ إِلٰی مَقْعَدِکَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَکَ اللّٰہُ بِہِ مَقْعَدًا مِّنَ الْجَنَّۃِ فَیَرَاہُمَا جَمِیعًا،وَ أَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْکَافِرُ فَیُقَالُ لَہٗ:مَا کُنْتَ تَقُولُ فِي ہٰذَا الرَّجُلِ؟ فَیَقُولُ:لَا أَدْرِي،کُنْتُ أَقُولُ مَا یَقُولُہُ النَّاسُ،فَیُقَالُ:لَا دَرَیْتَ وَلَا تَلَیْتَ،وَ یُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِیدٍ ضَرْبَۃً فَیَصِیحُ صَیْحَۃً یَسْمَعُہَا مَنْ یَّلِیہِ غَیْرَ الثَّقَلَیْنِ‘ ’’بے شک بندہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس مڑجاتے ہیں۔وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔اور(ساتھ ہی)اس کے پاس دو فرشتے آجاتے ہیں۔اسے بٹھا لیتے اور کہتے ہیں:ان کے،یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو کیا کہتا ہے؟ مومن کہتا ہے:میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اسے کہا جاتا ہے:جہنم میں تو اپنی جگہ دیکھ لے،اس کے بدلے میں تجھے اللہ نے بہشت میں جگہ دے دی ہے۔وہ دونوں جگہوں کو دیکھتا ہے۔لیکن منافق اور کافر کو کہا جاتا ہے:ان کے،یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تیری کیا رائے ہے؟ تو وہ کہتا ہے:میں نہیں جانتا،بس جو لوگ کہتے تھے،میں بھی کہہ دیتا تھا۔اسے کہا جاتا ہے:تو نے عقل سے کام لیا نہ تو نے پڑھا،پھر اسے لوہے کے گرزوں سے مارا جاتا ہے،وہ چیختا ہے جسے جن وانس کے علاوہ اردگرد کی سب چیزیں سنتی ہیں۔‘‘[1] فرمانِ نبوی ہے: ’إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَیْہِ مَقْعَدُہُ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِيِّ إِنْ کَانَ مِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَمِنْ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَإِنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ النَّارِ فَمِنْ أَہْلِ النَّارِ،فَیُقَالُ:ہٰذَا مَقْعَدُکَ حَتّٰی یَبْعَثَکَ اللّٰہُ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘ ’’جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے تو صبح وشام اس کی جگہ(جنت والی یا جہنم والی)اُسے دکھائی جاتی ہے،اگر جنتی ہے تو جنت(کا ٹھکانا اسے دکھا دیا جاتا ہے)اور اگر جہنمی ہے تو جہنم(کا ٹھکانا اسے دکھایا جاتا ہے)اور کہا جاتا ہے:قیامت کے دن جی اٹھنے تک تیری یہی جگہ ہے۔‘‘[2] ایک دعا میں آپ نے یوں فرمایا:’اَللّٰہُمَّ!إِنِّي أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذابِ الْقَبْرِ،وَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ،وَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ،وَ مِنْ فِتْنَۃِالْمَسِیحِ الدَّجَّالِ‘ ’’اے اللہ!میں عذاب قبر،عذاب ِجہنم،زندگی وموت کی آزمائشوں اور مسیحِ دَجّال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔‘‘[3] نبیٔ ا کرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا:’إِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ،وَ مَا یُعَذَّبَانِ فِي کَبِیرٍ،ثُمَّ قَالَ: بَلٰی!أَمَّا أَحَدُہُمَا:فَکَانَ یَسْعٰی بِالنَّمِیمَۃِ،وَ أَمَّا الْآخَرُ:فَکَانَ لَا یَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِہِ‘ ’’یقینا ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور(بظاہر)کسی بڑے جرم میں بھی نہیں ‘‘ پھر فرمایا:’’ہاں کیوں نہیں!(اپنی سزا کے اعتبار سے یہ جرم بڑے ہی ہیں):ایک چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب(کے چھینٹوں)سے اجتناب نہیں کرتا تھا۔‘‘[1] 3: کروڑوں علماء،صالحین اور مومنین امتِ محمدیہ اور دیگر مذاہب کے افراد قبر کی نعمتوں اور عذاب کا یقین رکھتے ہیں۔